رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا بھر میں مذہبی گروپس کا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی


نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں النور مسجد کے سامنے دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں شعمیں روشن کی جا رہی ہیں۔ 18 مارچ 2019

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعے کی نماز کے دوران دو مساجد پر ایک نسل پرست کے دہشت گرد حملے میں 50 مسلمانوں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعہ کے خلاف دنیا بھر میں دوسرے مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد اور گروپ مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

کرائسٹ چرچ کی جو دو مساجد ایک ہی دہشت گرد کے حملوں کا نشانہ بنیں وہ النور اور لنوڈ تھیں۔ حملہ آور پہلے ایک مسجد میں فائرنگ کے بعد دوسری مسجد پہنچا اور عبادت میں مصروف مسلمانوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح دہشت گرد نے 74 صفحات پر مشتمل اپنا ایک منشور بھی جاری کیا جس میں اس نے خود کو سفید فام قوم پرست کے طور پر پیش کیا۔ اس نے اپنی قتل و غارت گری کی اس کارروائی کو فیس بک پر لائیو نشر بھی کیا۔ جسے بعد میں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک نے کہا کہ اس نے پہلے 24 گھنٹوں میں کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے کی کم سے کم 15 لاکھ ویڈیوز اپنی سائٹ سے ہٹائیں۔ فیس بک کے مطابق اس واقعے کی ایڈٹ کی ہوئی ویڈیوز کو بھی ہٹایا جا رہا ہے، جن میں قتل کے مناظر ہدف کر دیے گئے تھے۔

پولیس آسٹریلوی نژاد ملزم کو عدالت میں پیش کر رہی ہے۔ 18 مارچ 2019
پولیس آسٹریلوی نژاد ملزم کو عدالت میں پیش کر رہی ہے۔ 18 مارچ 2019

ملزم کی شناخت 28 سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ کے نام سے ہوئی ہے جسے حکام نے سفید فام نسل پرست قرار دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی یہودی عبادت گاہوں نے شوٹنگ کے اس واقعہ کے بعد اپنی سروسز معطل کر دیں۔ ہالوکاسٹ سینٹر نے اس موقع پر ٹوئیٹر پر ایک پیغام جار ی کیا جس میں کسی بھی شخص کو اس کے عقیدے کی بنا پر قتل کرنے کی مذمت کی گئی۔

آکلینڈ میں سکھ رضاکاروں کی ایک تنظیم گرونانک فری کچن نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ معصوم افراد کے سفاکانہ قتل پر دکھ کا اظہار لفظوں میں کرنا ممکن نہیں ہے۔ گروپ نے اپنے رضاکاروں کو کرائسٹ چرچ کے مسلمانوں کو ہر طرح کی مدد دینے کی اپیل کی۔

نیوزی لینڈ کے کرسچن مسالک کے ایک گروپ نے اپنے ایک بیان میں مسلمان کمیونیٹی کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہوئے یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔ بپٹسٹ، ایگلیکن، میتھوڈسٹ، کیتھولک اور دوسرے مسالک کے گروپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔

کرائسٹ چرچ کے دہشت گرد حملے میں قتل ہونے والوں کی یاد میں شمیعں روشن کی جا رہی ہیں۔ 18 مارچ 2019
کرائسٹ چرچ کے دہشت گرد حملے میں قتل ہونے والوں کی یاد میں شمیعں روشن کی جا رہی ہیں۔ 18 مارچ 2019

امریکہ میں مذاہب کے 35 گروپس کی ایک تنظیم ’ شولڈر ٹو شولڈر ‘ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اسلامو فوبیا کے خلاف کھڑے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی وہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔

امریکہ کے ایک سکھ گروپ ’ دی سکھ کولیشن‘ نے ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کسی بھی کمیونٹی اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے کو اپنی عبادت گاہ میں جا کر یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ غیر محفوظ ہے۔

امریکہ کی ایک یہودی تنظیم ’ بنڈ دی آرک جوئش ایکشن‘ نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ سفید فام قوم پرستی کو مسترد کر دیں اور مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔

کرائسٹ چرچ کے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے امریکہ بھر میں بین الاعقائد گروپ ملک بھر میں قتل ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کر رہے ہیں اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے مسلمانوں سے یک جہتی کے اظہار کے لیے سیاہ مسلم لباس میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے خاندانوں سے ملاقات کی۔

دنیا بھر سے اکثر رہمناؤں نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے پیغامات بھیجے۔ اس سلسلے میں فرانس کے ایفل ٹاور کی روشنیاں بند کر دیں۔

دنیا بھر میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اور ان کی تنظیمیں مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے دعائیہ تقریبات کا پروگرام ترتیب دے رہی ہیں جو ہفتہ بھر جاری رہیں گے۔ ان میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنے کا پروگرام بھی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG