رسائی کے لنکس

منگل کے روز  پیشی کے موقع  پر نواز شریف کے وکلا حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کریں گے، جسے عام طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔

علی رانا

سابق وزیراعظم نواز شریف نے آج احتساب عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ احتساب عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ پارٹی راہنماؤں اور آئینی اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

پیشی کے بعد نوازشریف ایک بجے میڈیا سے گفتگو بھی کریں گے۔

پاکستان واپس پہنچے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزرا اسحاق ڈار، زاہدحامد، سعدرفیق، پرویز رشید، چوہدری نثار، سردار مہتاب عباسی، عبدالقادر بلوچ، سیف الرحمان، آصف کرمانی، گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر آئینی اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔

مشاورتی اجلاس میں نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی سے متعلق حکمت عملی بھی طے کی گئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے مرکزی راہنما نواز شریف کے ساتھ احتساب عدالت جائیں گے۔ کارکنوں کو احتساب عدالت نہیں بلایا جائے گا اور نہ ہی آنے سے روکا جائے گا۔

اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی آج پیر احتساب عدالت میں پیشی پر انہیں فول پروف سیکیورٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت پولیس، اسپیشل برانچ اور رینجرز کے جوان بھی سیکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ پولیس کے مطابق ایک ہزار سے زائد اہل کار احتساب عدالت کے باہر سیکیورٹی کے لیے تعینات ہوں گے۔

احتساب عدالت کے اندر رینجرز اور ایلیٹ فورس کادستہ بھی ڈیوٹی پر ہو گا اور سماعت کے دوران میڈیا کو ا عدالت کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔

منگل کے روز پیشی کے موقع پر نواز شریف کے وکلا حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کریں گے، جسے عام طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم کو اس کے بعد ہر پیشی پر آنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

پیشی کے بعد سابق وزیر اعظم پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز میں ان کے بچے بھی نامزد ملزم ہیں۔

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر نواز شریف کے بچوں کی عدالت سے عدم حاضری کا سلسلہ جاری رہا تو پہلے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوں گے، اور آخر میں انہیں اشتہاری قرار دے کر معاملہ اس کیس سے الگ کر دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG