رسائی کے لنکس

اسرائیل: انتخابی نتائج سے قبل ہی نیتن یاہو کا کامیابی کا دعویٰ


لیوک پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو تمام دائیں بازو کی جماعتوں سے رابطہ کر چکے ہیں اور سب نے جلد از جلد قومی حکومت کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کو ہونے والے عام انتخابات میں حتمی نتائج کی آمد سے قبل ہی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

رائے عامہ کے ابتدائی جائزوں میں نیتن یاہو کی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے مضبوط ترین قرار دیا جا رہا تھا۔

پیر کو ہونے والے انتخابات اسرائیل میں ایک سال سے بھی کم عرصے میں منعقدہ تیسرے انتخات تھے۔ اس سے قبل اپریل اور ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں بھی کوئی جماعت حکومت نہیں بنا سکی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے حریف سابق فوجی سربراہ بینی گینتز کے درمیان حکومت سازی کے لیے کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ایک سال کے دوران دونوں رہنما حکومت نہیں بنا سکے جس کے باعث بار بار انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔

اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتخابات کے نتائج جمع کر لیے ہیں تاہم اس کی دوبارہ جانج پڑتال کی جا رہی ہے۔ انتخابی نتائج کا اعلان منگل کو ہی کیا جائے گا۔

ابتدائی جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 120 نشستوں کے ایوان میں 36 سے 37 نشستیں حاصل کر سکتی ہے تاہم حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔

لیوک پارٹی کو دائیں بازو کی جماعتوں کا ساتھ حاصل ہے جن کی ممکنہ نشستوں کو ملا کر یہ تعداد 59 بنتی ہے جو سادہ اکثریت سے دو نشستیں کم ہے۔

دوسری جانب لیوک پارٹی کا مقابلہ بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے ہے جسے ممکنہ طور پر 32 سے 34 نشستیں مل سکتی ہیں۔

بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کو عرب اتحادی جماعتوں کے علاوہ نیتن یاہو کی مخالف جماعتوں کا بھی ساتھ حاصل ہو گا۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق بلیو اینڈ وائٹ پارٹی 120 نشستوں کے ایوان اتحادیوں کے ساتھ مل کر 54 سے 55 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔

تل ابیب میں منگل کو اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اپنی کامیابی کا اعلان کیا اور کہا کہ ان کی زندگی میں یہ سب سے اہم کامیابی ہے۔

لیوک پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو تمام دائیں بازو کی جماعتوں سے رابطہ کر چکے ہیں اور سب نے جلد از جلد قومی حکومت کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب بینی گینتز نے ابتدائی نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کے حتمی نتائج کچھ بھی ہوں نیتن یاہو کو 17 مارچ کو رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مقدمات کا عدالت میں سامنا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو پر مذکورہ تین الزامات پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے صدر یوہانا پلیسنر کا کہنا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ نیتن یاہو نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے تاہم ان پر دباؤ ہو گا کہ وہ عدالت سے اپنے آپ کو کلیئر کرائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG