رسائی کے لنکس

کیا غذا کے ذریعے بے چینی یا اضطراب کی کیفیت پر قابو پایا جا سکتا ہے؟


متوازن غذا، تروتازہ رہنے کے لیے پانی کی معقول مقدار، الکوحل اور کیفین جیسی چیزوں سے اجتناب یا اسے محدود کرنا اضطراب سے چھٹکارا پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر میں بے شمار افراد کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں بے چینی، اضطراب یا ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم 'ورلڈ اکناک فورم' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 27 کروڑ 50 لاکھ افراد 'اضطرابی بیماری' کا شکار ہیں جو عالمی آبادی کا چار فی صد حصہ بنتا ہے۔

'ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ' کی رپورٹ میں امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چار کروڑ امریکیوں کو ذہنی اضطراب کی کیفیت کا سامنا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے مطابق انسان کو اس کی زندگی میں کبھی نہ کبھی 'انزائٹی' یا اضطراب جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ بعض اوقات آپ کام کے دوران، آرام کرنے سے قبل اور کوئی اہم فیصلہ لینے سے پہلے بے چینی کی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

لیکن اگر 'انزائٹی ڈس آرڈر' یا 'اضطرابی بیماری' کی بات کی جائے تو یہ وقتی پریشانی یا خوف سے بڑھ کر ہے۔ اور اس عارضے میں مبتلا شخص کی پریشانی وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑھ سکتی ہے۔

اضطرابی کیفیت کی علامات متاثرہ شخص کی روز مرہ سرگرمیوں مثلاً ملازمت کی کارکردگی، اسکول کا کام اور تعلقات میں خلل ڈال سکتی ہیں۔

اس کیفیت میں مبتلا شخص کو بے آرامی، تھکاوٹ، چڑچڑاپن، جذبات پر قابو پانے میں مشکل اور نیند کی کمی جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اضطرابی کیفیت کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں جن میں جنرلائزڈ انزائٹی ڈس آرڈر، پینک ڈس آرڈر اور خوف سے متعلق ڈس آرڈرز شامل ہیں۔

تاہم اس کیفیت پر قابو پانے کے لیے مخصوص تھراپی اور ادویات کی مدد لی جاتی ہے۔

'ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ' کی رپورٹ کے مطابق اضطراب اور بے چینی جیسی کیفیت پر قابو پانے کے لیے آپ کی خوراک بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

متوازن غذا، ترو تازہ رہنے کے لیے پانی کی معقول مقدار، الکوحل اور کیفین جیسی چیزوں سے اجتناب یا اسے محدود کرنا اضطراب سے چھٹکارا پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اضطرابی کیفیت پر قابو پانے کے لیے کس غذا کا استعمال کیا جائے؟

اضطراب اور بے چینی جیسی کیفیت پر قابو پانے کے لیے آپ کی خوراک بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اضطراب اور بے چینی جیسی کیفیت پر قابو پانے کے لیے آپ کی خوراک بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق میگنیشیئم سے بھرپور غذا کے استعمال سے انسان کو پُرسکون رہنے میں مدد ملتی ہے۔ ان غذاؤں میں سبز اور پتے والی سبزیاں، دالیں، پھلیاں، گِری دار میوے، بیج اور سالم اناج شامل ہیں۔

ایسی غذا جس میں 'زنک' پایا جاتا ہے، اضطراب کی کیفیت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ان غذاؤں میں کاجو، گائے کا گوشت، جگر اور انڈے کی زردی شامل ہے۔

امریکہ کے سائیکو نیورو امیونولوجی ریسرچ سوسائٹی کے آفیشل جرنل 'برین، بیہیویر اینڈ امیونیٹی' میں 2011 میں شائع ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق 'اومیگا تھری ایس' بے چینی کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ جو وائلڈ الاسکن سالمن مچھلی میں پایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں وٹامن بی سے بھرپور غذا مثلاً ایواکاڈو اور بادام، کا استعمال کرنے سے بھی بے چینی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ غذائیں نیورو ٹرانسمیٹر جیسے سیروٹونن اور ڈوپامن کے اخراج کو تیز کرتی ہیں جو بے چینی اور پریشانی پر قابو پانے کا محفوظ اور آسان قدم ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق اگر آپ کو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے انزائٹی سے متعلق علامات ظاہر ہو رہی ہوں تو آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہو گا۔

بے چینی اور دباؤ سے نمٹنے کے لیے صحت مند طریقے

بے چینی محسوس کرتے وقت گہری سانس لے کر اسے آہستہ آہستہ خارج کرنے سے بھی آپ پُر سکون ہو سکتے ہیں۔
بے چینی محسوس کرتے وقت گہری سانس لے کر اسے آہستہ آہستہ خارج کرنے سے بھی آپ پُر سکون ہو سکتے ہیں۔

انزائٹی اینڈ ڈپریشن ایسوسی ایشن آف امریکہ کے مطابق یوگا اور مراقبہ پُرسکون رکھنے اور ذہن میں موجود مسائل سے چھٹکارا پانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

دباؤ اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے نیند کا کردار بہت اہم ہے، جب آپ اضطراب میں مبتلا ہوں تو اس وقت جسم کو زیادہ آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

انزائٹی اینڈ ڈپریشن ایسوسی ایشن آف امریکہ کے مطابق روزانہ ورزش کرنا آپ کو بہتر محسوس کرانے کے ساتھ ساتھ آپ کی جسمانی صحت کے لیے بھی بہترین ثابت ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں پریشانی اور بے چینی محسوس کرتے وقت گہری سانس لے کر اسے آہستہ آہستہ خارج کرنے سے بھی آپ پُر سکون ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG