رسائی کے لنکس

logo-print

فاٹا میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پر 'عدم اطمینان' کا اظہار


فائل فوٹو

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں سے رجسٹرڈ ووٹرز میں آٹھ لاکھ خواتین بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں انتخابات کے ذمہ دار ادارے 'الیکشن کمیشن آف پاکستان' کے مطابق قبائلی علاقوں میں اندراج شدہ رائے دہندگان کی تعداد 20 لاکھ 70 ہزار کے لگ بھگ ہے لیکن ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے سرگرم سیاسی کارکنان اس تعداد پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں سے رجسٹرڈ ووٹرز میں آٹھ لاکھ خواتین بھی شامل ہیں جب کہ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے وہ تمام افراد جو اپنے علاقوں کو واپس آچکے ہیں، انھیں بھی اس میں شمار کیا گیا ہے۔

ایک طویل عرصے تک شورش پسندی اور دہشت گردی کا شکار رہنے اور عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث قبائلی علاقوں کے لاکھوں رہائشی ملک کے دیگر علاقوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے جن میں سے بہت سے خاندان بتدریج اپنے علاقوں میں واپس آرہے ہیں۔

لیکن اب بھی ایک قابلِ ذکر تعداد میں قبائلی فاٹا سے ملحق صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن غلام وزیر کہتے ہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں ابھی تک عارضی طور پر بے گھر قبائلیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔

لہذا ان کے بقول یہ کہنا کہ تمام قبائلی علاقوں کی یہ ووٹر فہرست صحیح اعداد و شمار ظاہر کرتی ہے، غلط ہوگا۔

قبائلی علاقوں کے سیاسی اتحاد 'فاٹا پولیٹیکل الائنس' کے ایک عہدیدار نثار مہمند نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔

"یہ اعدادوشمار غلط ہیں، جب پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے جاتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ فاٹا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 10 لاکھ 24 ہزار ہے۔ اس تناسب سے اگر فاٹا کی آبادی دیکھی جائے تو یہ ایک کروڑ، تیس چالیس لاکھ بنتی ہے۔۔۔ لوگ آہستہ آہستہ واپس آئیں گے اگلے پانچ دس سالوں میں تو پھر پتا چلے گا کہ کتنا ووٹ ہے۔ جو یہ (الیکشن کمیشن) کہہ رہے ہیں یہ کاغذی جمع خرچ ہے۔"

گزشتہ سال مردم شماری کے وقت بھی بعض حلقوں نے قبائلی علاقوں کے اعداد و شمار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

تاہم شماریات کے محکمے سے وابستہ حکام کا کہنا تھا یہ اندراج بین الاقوامی طور پر رائج معیار کو مدِنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔

ایک اور سرگرم سیاسی کارکن محسن داوڑ کے خیال میں رجسٹرڈ ووٹرز کا معاملہ تو بعد میں آتا ہے، لیکن ان کے بقول جب آبادی کا صحیح اندازہ ہی نہیں لگایا گیا تو انتخابی عمل کو کیسے اطمینان بخش کہا جا سکتا ہے۔

"جب مردم شماری ہوئی تو لوگ بے گھر تھے۔ ان کو شامل نہیں کیا گیا۔ جو قبائل افغانستان چلے گئے تھے انھیں تو سرے سے شامل ہی نہیں کیا گیا۔ شفاف مردم شماری ہوئی نہیں۔ اس کے مختلف پہلوؤں کو پہلے ہی عدالتوں میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ میں بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں ہائی کورٹ سے رجوع کروں گا۔"

ملک میں عام انتخابات 25 جولائی کو منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے مردم شماری کے عبوری نتائج کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نئی انتخابی حلقہ بندیاں کی ہیں لیکن اس پر بھی سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے تحفظات سامنے آ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG