رسائی کے لنکس

logo-print

انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کا قانون قومی اسمبلی سے منظور


اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت، فائل فوٹو

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے رکن نواب یوسف تالپور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں یہ خیال ظاہر کیا کہ اس تازہ مسودہ قانون کو بظاہر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے منظور کیا گیا۔

قومی اسمبلی نے انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے ایک مسودہ قانون کو بدھ کے روز منظور کر لیا۔

(پری وینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرینٹس بل 2018ء) ایک ایسے وقت ایوان زیریں سے منظور کیا گیا ہے جب بدھ کو ہی بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے نام ظاہر کیے بغیر امریکی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انسانی اسملگلنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدام نہ کرنے کی وجہ سے امریکہ، پاکستان کے لیے امداد میں کٹوتی کر سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے رکن نواب یوسف تالپور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں یہ خیال ظاہر کیا کہ اس تازہ مسودہ قانون کو بظاہر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے منظور کیا گیا۔

’حکومت نے جلدی میں کیا ہے کہ کیونکہ دوسری کیٹیگری میں تو لے آیا تھا پاکستان کو امریکہ تو اب تیسری کیٹیگری رہ گئی تھی تو یہ بین الاقوامی ضرورت تھی کہ اگر یہ پوری نہ کرتے تو شاید تیسری کیٹیگری میں ہم آ جاتے اور امداد ہماری بند ہو جاتی۔‘

پاکستان گزشتہ چار برسوں سے انسانی اسمگلنگ سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی واچ لسٹ میں ہے۔ اس فہرست کے جس حصے میں پاکستان کو رکھا گیا ہے ان میں وہ ممالک شامل ہیں جن کی حکومتیں امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کوششیں تو کر رہی ہیں لیکن وہ اس سلسلے کے واضح کردہ کم سے کم معیار پر پورا نہیں اتریں۔

پاکستان سے ہر سال ہزاروں افراد غیر قانونی طریقوں سے یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں چلے جاتے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق صرف گزشتہ سال 6767 پاکستانی غیر قانونی طریقے سے یورپی ممالک میں گئے تھے جب کہ ہزاروں ایسے دیگر افراد کو مختلف ممالک نے ملک بدر کر کے پاکستان واپس بھیج دیا تھا۔

ایف آئی اے نے حال ہی میں قانون سازوں کو بتایا تھا کہ گو وہ انسانی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے لیکن کلی طور پر اس سے نمٹنے کے لیے ادارے کے پاس مناسب اختیارات اور انتظامات نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG