رسائی کے لنکس

کلبھوشن کو اپیل کا حق: قومی اسمبلی سے بل منظور


فائل فوٹو

پاکستان کی قومی اسمبلی نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو مؤثر بنانے کے لیے عالمی عدالت انصاف (نظر ثانی و غور) بل 2020 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

اس بل کی سینیٹ سے حتمی منظوری اور صدر مملکت کے اس پر دستخط کے بعد بھارت کے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو سمیت پاکستان میں قید فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے تمام غیر ملکی قیدیوں کو فوجی عدالتوں کی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل جائے گا اور وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکیں گے۔

اس بل کے حوالے سے جمعرات کو قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن نے بل کے معاملے پر حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے بل کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم، حکومتی اکثریتی ایوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود اس بل کو منظور کر لیا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے اس بل کو عجلت میں پاس کرانے کا الزام عائد کیا۔

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے کچھ دال میں کالا ہے۔ ایجنڈے کے ستاون نمبر پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کے لیے قانون منظوری کرایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے سے قانون موجود ہے کہ ہائی کورٹس میں فوجی عدالتوں کی سزاؤں کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ کلبھوشن جادھو بھارتی جاسوس ہے لیکن بھارت اس کی تردید کرتا ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم محب وطن لوگوں سے ووٹ لے کر آئے ہیں، ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں ایک جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے۔ حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "آج ایک بھارتی جاسوس کے لیے قانون بنایا جا رہا ہے۔ کل تک وزیرِ اعظم سے کہا جا رہا تھا کہ وہ کلبھوشن کا نام نہیں لیتے لیکن آج کلبھوشن کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے۔ ہم اس سوچ کو کسی صورت سپورٹ نہیں کریں گے۔"

پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ اگر ہر چیز رولز کے مطابق ہے تو رولز کو معطل کیوں کیا جا رہا ہے۔ ارکان کو بلوں کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہے۔ کیا آج یہ بل پاس نہ ہوئے تو کبھی بھی نہیں ہوں گے؟اتنی جلدی آخر کیوں ہے؟

انہوں نے حکومتی ارکان سے کہا کہ آپ کے پاس عددی برتری ہے دو دن بعد بل پاس کر لیجیے گا۔

ایوان میں بل پیش ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر نعرے بازی شروع کی اور اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے۔

اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کے دوران مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور کلبھوشن کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن کو فلور دینے سے انکار کر دیا۔

حکومت کا مؤقف

ایوان میں بل پیش کرنے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اگر عالمی عدالت انصاف (نظر ثانی و غور) بل 2020 قانون نہ بنا تو عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رکن احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں وہ بھارت چاہتا ہے۔ شاید آپ نے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ نہیں پڑھا۔

اس موقع پر انہوں نے عدالتی فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ فیصلے کا پیرا 146 یہ ہے کہ اس فیصلے کو ریویو کرنا پڑے گا اور یہی وہ قانون ہے جو ریویو کو یقینی بنائے گا۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ یہ وہ قانون ہے جو اپوزیشن کو مل کر پاس کرنا چاہیے تھا، لیکن اپوزیشن نے آج بھارتی مقاصد پورے کرنے کی کوشش کی۔

کلبھوشن کے معاملے پر اپوزیشن بھارت کی زبان بول رہی ہے: شاہ محمود قریشی

اجلاس کے دوران وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کی کہانی ہم نے نہیں، تم نے بگاڑی، ہم تو پاکستان کے وقار کی بات کرتے ہیں لیکن ہندوستان عالمی عدالت انصاف میں جا کر یہ کہنا چاہتا ہے کہ پاکستان نے عالمی عدالت کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیا اور ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم انہیں قونصلر تک رسائی دینا چاہتے ہیں.

انہوں نے کہا "میں حیران ہوں کہ اپوزیشن بینچوں سے پاکستان کا نہیں، ہندوستان کا مؤقف سنائی دے رہا ہے، یہ آج ہندوستان کی بولی بول رہے ہیں۔"

انہوں نے اپوزیشن ارکان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ جو قوانین ایجنڈے پر ہیں ان کو منظور کیا جائے۔ کچھ ارکان نے قائمہ کمیٹی کو بل بھجوانے کا کہا ہے لیکن اپوزیشن ارکان جب کوئی بل قائمہ کمیٹی میں جاتا ہے تو اس پر بات کرنے کے لیے نہیں آتے، الیکشن ریفارمز پر بھی اپوزیشن نے ایسا ہی کیا ہے۔

بل پاس ہونے کے بعد وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا کہ کلبھوشن کو (ن) لیگ کے دور میں قونصلر رسائی نہیں دی گئی۔ عالمی عدالت انصاف نے واضح طور پر اپیل کا قانون لانے کا کہا ہے۔ اگر یہ بل پاس نہ ہوتا تو بھارت اقوامِ متحدہ میں جاتا اور عالمی عدالت انصاف میں توہینِ عدالت کا مقدمہ درج کراتا۔

کلبھوشن جادھو کیس کا پس منظر

حکومتِ پاکستان کے مطابق، بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر کلبھوشن جادھو بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کا جاسوس تھا جو حسین مبارک پٹیل کے جعلی نام سے کام کرتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کلبھوشن تین مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

سال 2017 میں فوجی عدالت نے کلبھوشن کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ 8 مئی 2017 کو بھارت نے کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کیا۔

اٹھارہ مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی سزائے موت پر عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے تک عمل درآمد روک دیا۔

سترہ جولائی 2019 کو عالمی عدالت انصاف نے بھارت کی طرف سے دائر کی گئی کلبھوشن کی رہائی سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے پاکستان سے کہا کہ فوجی عدالت کی طرف سے کلبھوشن کی سزائے موت پر نظر ثانی کی جائے۔

عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا بھی کہا جس پر پاکستان نے بھارتی قونصلر کی کلبھوشن سے ملاقات کروائی۔

پاکستان میں حکومت نے اس بل کے لانے سے قبل آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی تھی لیکن دو مرتبہ اس آرڈیننس کو توسیع دی جاچکی تھی اور مزید توسیع کی گنجائش نہ ہونے پر اسے باقاعدہ قانون کے لیے اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس معاملے پر سماعت کے دوران اب تک کلبھوشن نے کوئی وکیل نہیں کیا اور نہ ہی ہائی کمیشن کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم امکان ہے کہ نئی قانون سازی کے بعد کلبھوشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کرسکتے ہیں۔

بھارت نے اس بارے میں بھارتی وکیل پاکستان بھجوانے کا کہا ہے لیکن پاکستان کے قانون کے مطابق کسی غیر ملکی کی پاکستانی عدالتوں میں پیش ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG