رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی برادری کشمیر میں غیر قانونی اقدامات واپس لینے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے: صدرِ پاکستان


فائل فوٹو

پاکستان کے سینیٹ نے بھارت کی جانب سے اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کی سختیوں جیسے اقدامات کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم ہونے کے ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان نے 'یوم استحصال کشمیر' سرکاری سطح پر منایا۔ ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں جب کہ صبح 10 بجے ٹریفک روک کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

اس حوالے سے پاکستان کے صدر عارف علوی نے سینیٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے کشمیر کی موجودہ صورتِ حال سے نکلنے کے لیے 10 نکاتی لائحہ عمل بھی پیش کیا۔ جب کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے مطابق نریندر مودی نے کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے جس کا نتیجہ کشمیر کی آزادی ہو گا۔

گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارت کی پارلیمنٹ نے کشمیر کی خود مختار حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو ختم کرکے وادی کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دیا تھا۔

بھارت میں حکومتی رہنما کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ہے جس سے وادی میں ترقی اور خوش حالی کا نیا دور شروع ہو گا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

قرارداد میں کشمیر کے حوالے سے بھارت کے اقدامات کی شدید مذمت کی جب کہ نریندر مودی کے مبینہ 'ہندوتوا نظریے' کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کشمیر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ جہاں بھارت نے ایک سال سے لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنا اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہے۔

قرارداد کے مطابق بھارت آئے روز کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ بھارت مبصرین اور میڈیا کو کشمیر جانے کی اجارت دے۔

'کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے'

بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کی سینیٹ کے خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس سے صدر مملکت عارف علوی نے خطاب کیا۔

صدر عارف علوی نے سینیٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کشمیر میں غیر قانونی اقدامات واپس لینے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 47 کے تحت مقبوضہ کشمیر میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کا وعدہ پورا کیا جائے۔ جنیوا کنونشن کے تحت مسئلے کے حل تک کوئی بھی حکومت وہاں کسی بھی قسم کی جغرافیائی تبدیلی نہیں کر سکتی۔

اس سے قبل صدر عارف علوی نے اسلام آباد میں 'استحصالِ کشمیر ریلی' سے بھی خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ یوم استحصال کشمیر کا مقصد دنیا کی توجہ بھارتی مظالم بالخصوص گزشتہ ایک سال سے جاری لاک ڈاؤن کی طرف مبذول کرانا ہے۔

صدر عارف علوی نے مزید کہا کہ بھارت شملہ معاہدے کا سہارا لے کر کشمیر کو دو طرفہ معاملہ قرار دیتا ہے لیکن 1973 سے آج تک نئی دہلی نے اسلام آباد سے کشمیر پر بات کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلسطین کی طرح کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے منگل کو پاکستان کا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا جس میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ بتاتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام حصے کو غاصبانہ قرار دیا گیا تھا جس کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے سے ہونا ہے۔

'کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے مودی نے غلطی کی'

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال پانچ اگست کو کشمیر کی خود مختار آئینی حیثیت ختم کر کے بہت بڑی غلطی کی اور غلط سمجھا کہ وہ فوج کے خوف اور معیشت کی لالچ سے کشمیریوں کو خاموش کرا لیں گے۔

بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے اس جابرانہ اقدام پر خاموش نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات کی وجہ سے آج دنیا کشمیر کی طرف دیکھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس 'یومِ استحصال' کے حوالے سے بلایا گیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ریلی میں شرکت کی اور مزاحمتی دیوار کا سنگ بنیاد رکھا۔

قابل ازیں 'یومِ استحصال' کے حوالے سے بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے ذریعے جن کشمیریوں کی آواز بند کرنے کی کوشش کی ہے میں بطورِ سفیر ان سب کی آواز بنوں گا۔

انہوں نے کہا کہ برسوں بعد میری حکومت نے کشمیر کا مقدمہ نہایت مؤثر طور پر اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے اور مودی سرکار کی نسل پرست فسطائیت (ہندوتوا) کو بے نقاب کیا ہے۔

'عمران خان کو سرینگر آنے دیں'

اسمبلی کے اجلاس سے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جبر اور ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے حوصلے پست ہو گئے ہوتے تو آج بھارت کو کشمیر میں کرفیو کا سہارا نہ لینا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات کو پوری قوم یکسر مسترد کر چکی ہے۔ وہ سیاسی و اخلاقی طور پر اور سیکیورٹی کے اعتبار سے ناکام ہو چکا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر نریندر مودی کو اپنے اقدامات پر اعتماد ہے تو انہیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جلسے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر بھارتی قیادت اعتماد رکھتی ہے تو کشمیریوں کو فیصلہ کرنے دے اور اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کو خطاب کرنے دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG