رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل، فلسطین: راکٹ حملے اور بمباری کا سلسلہ جاری


اسرائیلی فوج کے مطابق، میزائل ڈیفنس سسٹم نے شہروں کی جانب آتے ہوئے دو راکٹوں کی نشاندہی کی تھی

فلسطین سے راکٹ حملوں اور اسرائیل کی فضائی بمباری کے باعث دو روز قبل ہونے والی فائر بندی ختم ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، ہفتے کو فلسطین کے علاقے غزہ سے اسرائیل پر دو راکٹ داغے گئے، جس کے بعد اسرائیل نے کئی مقامات پر فضائی بمباری کی۔

اسرائیل کے جنوب میں واقع بڑے شہر بئر السبع میں اچانک سائرن بجنا شروع ہوئے، جس کا مطلب تھا کہ اس شہر کے کسی علاقے پر راکٹ گرنے والے ہیں۔

بئر السبع غزہ سے صرف 35 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے میزائل ڈیفنس سسٹم نے دو راکٹوں کے بئر السبع کی طرف آتے ہوئے نشاندہی کی تھی۔

اس حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اسرائیل کی فضائیہ نے غزہ میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔

'رائٹرز' کے مطابق، جن مقامات پر بمباری کی گئی ان میں سے بعض حماس کی تنصیبات تھیں۔ واضح رہے کہ حماس غزہ کا انتظام سنبھالتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی بمباری میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

دونوں جانب سے یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دو دن قبل ہی فائر بندی ہوئی ہے۔ قبل ازیں، غزہ سے اسرائیل پر 'اسلامک جہاد' نامی گروہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق، اسلامک جہاد کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔

غزہ کے طبی حکام کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے دو دن میں کی گئی بمباری اور حملوں میں 34 فلسطینی ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب، غزہ سے فائر کیے گئے راکٹس سے جنوبی شہروں میں مکمل طور پر نظام زندگی معطل رہا، جبکہ اس دوران 12 کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

قبل ازیں، دونوں جانب سے ہونے والے حملوں کے معاملے پر حماس نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی نہیں کی۔

دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں کہا کہ غزہ سے اسرائیل پر ہونے والے کسی بھی حملے کی ذمہ داری حماس پر عائد ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں عام شہریوں پر ہونے والے کسی بھی حملے کے نتائج حماس کو بھگتنے ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG