رسائی کے لنکس

پشاور: حادثات کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد بی آر ٹی سروس بحال 


'ٹرانس پشاور' کے ترجمان کے مطابق عوام کے وسیع تر مفاد میں مرکزی راہداری پر 'ایکسپریس روٹ' بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بس رپیڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کو رواں سال اگست اور ستمبر میں ہونے والے حادثات کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی کی بسوں کو روٹ پر آئے ابھی صرف ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ ان میں آتش زدگی اور دیگر خرابیوں کے واقعات سامنے آنے لگے تھے جس کے بعد بس سروس کو پچھلے مہینے ستمبر کی 16 تاریخ کو معطل کر دیا گیا تھا۔

بی آر ٹی چلانے والی کمپنی 'ٹرانس پشاور' کے ترجمان محمد عمیر کے بیان میں بس سروس بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم جاری بیان میں حادثات کی تحقیقات پر کارروائی سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی سروس صبح 6 بجے سے رات 10بجے تک فعال ہو گی۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کے وسیع تر مفاد میں مرکزی راہداری پر 'ایکسپریس روٹ' بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بی آر ٹی کا ایکسپریس روٹ پشاور کے علاقے چمکنی سے شروع ہوتے ہوئے سردار گڑھی، لاہور اڈا، ہشت نگری، ملک سعد، خیبر بازار، ڈگری گارڈن، صدر بازار، پشاور یونیورسٹی، مال آف حیات آباد اور کارخانوں تک جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے بس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح رواں سال 13 اگست کو کیا تھا۔ تاہم 16 ستمبر کو بس سروس کو پانچ حادثات کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو)
وزیر اعظم عمران خان نے بس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح رواں سال 13 اگست کو کیا تھا۔ تاہم 16 ستمبر کو بس سروس کو پانچ حادثات کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو)

محمد عمیر کے بقول عوام کی فرمائش پر خیبر بازار سے مال آف حیات آباد تک خصوصی روٹ رکھا گیا ہے جس پر بس ہر اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 پر رکے گی۔ جب کہ 25 اکتوبر سے حیات آباد کے تین ڈائریکٹ روٹس کو بھی بحال کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے پشاور بس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح رواں سال 13 اگست کو کیا تھا۔ تاہم 16 ستمبر کو بس سروس کو پانچ حادثات کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

اس دوران خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر حادثات کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی تھیں۔

حادثات کی تحقیقات کے لیے چینی کمپنی کی 25 رکنی ٹیم بھی پاکستان آئی تھی۔

پشاور بس منصوبہ ستمبر 2017 سے لے کر اب تک الزامات اور اعتراضات کی زد میں رہا ہے۔

ستمبر 2017 میں لگ بھگ 46 ارب روپے کے ابتدائی تخمینے سے اس منصوبے پر کام شروع ہو تھا۔ جب کہ اب بھی اس منصوبے کے کئی حصوں پر کام جاری ہے۔

حزب اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق اس منصوبے کے اخراجات 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر آنے والی لاگت 70 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG