رسائی کے لنکس

logo-print

وزیرِ اعظم کا عاصم باجوہ کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار


عاصم سلیم باجوہ نے خاندان کے اثاثوں سے متعلق خبر کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کا بطور معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

صحافی احمد نورانی کی عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے اثاثوں کی خبر کے ایک ہفتے کے بعد عاصم سلیم باجوہ نے گزشتہ روز ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا اور انہوں نے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی کی حیثیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ البتہ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی - پیک) کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کی بات نہیں کی۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے جمعے کو وزیرِ اعظم عمران خان کو اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا جو وزیرِ اعظم نے قبول نہیں کیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ نے جو ثبوت اور وضاحت پیش کی ہے وہ اس سے مطمئن ہیں۔ لہذا وزیرِ اعظم نے انہیں بطور معاونِ خصوصی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ شب عاصم سلیم باجوہ نے ٹی وی انٹرویو میں معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف سی-پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر اپنی پوری توجہ چین پاکستان اقتصادی راہدری پر دیں گے۔

صحافی احمد نورانی کی خبر کے بعد چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک اتھارٹی) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی بدستور کام کرتے رہیں گے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر صحافی احمد نورانی کی طرف سے 27 اگست کو دی جانے والی خبر کو مسترد کیا ہے۔ البتہ انہوں نے اہلِ خانہ کے کاروبار کا اعتراف کیا ہے۔

عاصم باجوہ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنے اثاثے ظاہر کیے تو اُس وقت اُن کی اہلیہ کی بھائی کے کسی کاروبار میں سرمایہ کاری نہیں تھی۔ ان کے بقول "میری اہلیہ کا سرمایہ کاری ختم کرنے سے متعلق امریکہ میں ریکارڈ موجود ہے۔"

نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں عاصم سلیم باجوہ نے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنے اہلِ خانہ کی مشاورت کے بعد کیا ہے۔

عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں اپنا مؤقف پیش کر کے اضافی ذمہ داریاں واپس لینے کی گزارش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سی پیک منصوبے کے سربراہ کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے اور ان کی تمام تر توجہ اسی منصوبے پر ہو گی۔

قبل ازیں اسلام آباد میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف سامنے آنے والی خبر غلط اور بے بنیاد ہے۔ صحافی کی جانب سے جو خبر دی گئی اس کے دوسرے پیرے میں تمام تر نکات مکمل طور پر غلط درج کیے گئے ہیں۔

ان کے بقول وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے وہ 22 جون 2020 کو تمام اثاثوں کی تفصیلات جاری کر چکے ہیں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کراتے وقت ان کی اہلیہ کسی کاروبار میں شراکت دار نہیں تھیں۔

اہلیہ اور بھائیوں کی سرمایہ کاری کی تصدیق

جنرل عاصم باجوہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اہلیہ نے یکم جون 2020 کو تمام بیرونی سرمایہ کاری کاروبار سے نکال لی تھی، تمام تر حقائق امریکہ میں سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں کمپنی کا نام تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا اور امریکہ میں کاروباری مفاد ختم ہونے پر دفتری کارروائی عمل میں لائی گئی۔

عاصم باجوہ نے دعویٰ کیا کہ صحافی احمد نورانی کی جانب سے جھوٹی خبر چلانے کی وجہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے اپنے خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کی تصدیق کی اور یہ بھی بتایا کہ میری اہلیہ کی تقریباً 19 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری تھی۔

عاصم باجوہ کے بقول گزشتہ 18 برس میں 70 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری میں 60 ملین ڈالرز بینکوں سے حاصل کردہ قرض تھا، ان کے بھائیوں اور اہلیہ کی کاروبار میں کل سرمایہ کاری 73 ہزار 950 ڈالر رہی۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے بتایا کہ ان کے پانچ بھائی ہیں، دو ڈاکٹرز، ایک امریکی بینک کا نائب صدر رہا، ایک بھائی ریسٹورنٹ آپریٹنگ کمپنی کا کنٹرولر، ایک ریستوران چین کا شراکت دار رہا۔

انہوں نے کہا کہ "میرے بھائیوں نے 70 ملین ڈالرز کی فرنچائزز اور اثاثے بنائے جب کہ بھائیوں اور اہلیہ کے کاروبار میں 50 دیگر سرمایہ کار بھی تھے۔

عاصم باجوہ کے اہلِ خانہ کے نام کتنی کمپنیاں ہیں؟

ان کے بقول اہلِ خانہ کی کمپنیاں سیکیون بلڈرز اینڈ اسٹیٹس پرائیویٹ لمیٹڈ اور ہمالیہ پرائیوٹ لمیٹڈ 'ایس ای سی پی' میں رجسٹرڈ ہیں اور گزشتہ 18 سال کے دوران کبھی اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی۔

عاصم باجوہ نے وضاحت میں بتایا کہ 'باجکو' کے تحت 27 کمپنیاں امریکہ اور دو متحدہ عرب امارات میں ہیں۔

البتہ صحافی احمد نورانی نے اپنی خبر میں کئی کمپنیوں کا بار بار ذکر کیا ہے۔

عاصم باجوہ نے کہا کہ سیکیون بلڈرز اینڈ اسٹیٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، رجسٹرڈ ہونے سے اب تک غیر فعال ہے جب کہ ہمالیہ پرائیوٹ لمیٹڈ چھوٹی کمپنی ہے اور اب تک پانچ لاکھ روپے سے بھی کم کا کاروبار کر سکی ہے۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے 'موچی کورڈوینر' کمپنی کی بیٹے کے نام ملکیت تسلیم کی اور یہ بھی مؤقف اپنایا کہ یہ کمپنی مسلسل خسارے کا شکار ہے۔

اُن کے بقول بلوچستان میں کان کنی و قدرتی وسائل سے وابستہ کمپنی 'کرپٹون' بھی غیر فعال ہے اور اس کا کوئی بینک اکاؤنٹ ہی نہیں۔

عاصم باجوہ کے بقول 'ایڈوانس مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ' بھی غیر فعال ہے اور کوئی کاروبار نہیں کر سکی۔ اسی طرح 'سلک لائن انٹرپرائزز کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ' نے کبھی کوئی سی پیک ٹھیکہ نہیں لیا۔ یہ کمپنی رحیم یار خان میں مقامی صنعتوں کو محنت کش افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔

امریکہ میں گھر

عاصم باجوہ نے کہا کہ "امریکہ میں چھوٹا گھر میرے دونوں بیٹوں نے بطور ذاتی ملکیت 31 ہزار ڈالر کا خریدا اور یہ گھر 80 فی صد بینک قرضے پر خریدا گیا۔"

ان کے بقول ان کے بیٹوں کی عمریں 27، 32 اور 33 سال ہیں اور وہ ان کے زیرِ کفالت نہیں ہیں۔ تینوں بیٹے امریکہ کی جامعات سے پڑھے اور وہیں بہترین روزگار سے وابستہ ہیں۔

صحافی کی خبر میں الزامات کیا تھے؟

ستائیس اگست کو صحافی احمد نورانی کی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں ایک رپورٹ غیر معروف ویب سائٹ 'فیکٹ فوکس' پر شائع ہوئی۔

اپنی رپورٹ میں احمد نورانی نے عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی بیرونِ ملک جائیدادوں سے متعلق الزام لگایا تھا کہ ان کی جائیدادیں چار ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔

احمد نورانی نے اپنی خبر میں یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ عاصم باجوہ نے وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کرائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔

عاصم باجوہ کے اثاثہ جات

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق عاصم باجوہ کے پاس اپنی آٹھ رہائشی، کمرشل اور زرعی جائیدادوں کی مجموعی قیمت 15 کروڑ روپے سے زائد ہے۔

جائیدادوں کے علاوہ ان کے خاندانی کاروبار میں 31 لاکھ مالیت کے شیئرز ہیں جو کہ ان کی اہلیہ کے نام ہیں۔ ان کے تین بینک اکاؤنٹس میں دو لاکھ بانوے ہزار کے لگ بھگ پاکستانی روپے جب کہ چار ہزار سے زائد امریکی ڈالر ہیں۔

سوشل میڈیا پر عاصم باجوہ کی گاڑیوں کا بھی چرچہ رہا جب انہوں نے اپنی ’ٹیوٹا زیڈ ایکس‘ 2016 ماڈل کی لگژری گاڑی کی قیمت تیس لاکھ ظاہر کی تھی۔

اپوزیشن کی جواب نہ دینے پر عاصم باجوہ پر تنقید

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے وزیرِ اعظم عمران خان سے عاصم باجوہ کے اثاثوں کا نوٹس لینے اور قوم کو اس بارے میں جواب دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی طرح یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی کہا تھا کہ عاصم باجوہ کے خلاف جو ثبوت سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد انہیں چاہیے کہ وہ آ کر اپنا دفاع کریں اور اپنی پوزیشن قوم کے سامنے واضح کریں۔

ادھر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوال پر وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر شخص معصوم ہوتا ہے جب تک اس پر الزام ثابت نہ ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عاصم باجوہ ذمہ دار شخص ہیں اور وہ خود آ کر اپنی پوزیشن واضح کریں گے کیونکہ پبلک آفس میں ہوتے ہوئے آپ پر یہ ذمہ داری آ جاتی ہے کہ آپ کو عوام کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے، چاہے آپ رکن پارلیمان ہوں یا نہ ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG