رسائی کے لنکس

logo-print

کرائسٹ چرچ حملہ: ہلاک شدگان کی تدفین کی تیاری


کرائسٹ چرچ میں حملے کا نشانہ بننے والی النور مسجد کے سامنے سوگوار موجود ہیں۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 50 افراد کی تدفین کا آغاز منگل سے ہو رہا ہے۔

مقامی مسلمان کمیونٹی کے مطابق میتوں کو غسل دینے اور تدفین کے لیے تیار کرنے کا کا م مسلمان رضاکار انجام دے رہے ہیں۔

ہلاک ہونے والے کئی مسلمانوں کو نیوزی لینڈ میں ہی دفن کیا جائے گا جب کہ بعض کی میتیں ان کے آبائی ملکوں کو منتقل کی جائیں گی۔

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں جمعے کی نماز کے دوران ایک سفید فام نسل پرست کی فائرنگ سے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی اکثریت تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی ہے جن کا تعلق پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، بھارت، ترکی، افغانستان، کویت، صومالیہ اور دیگر ملکوں سے ہے۔

حملے میں نو پاکستانی ہلاک ہوئے تھے جن میں سے چھ کی تدفین پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نیوزی لینڈ میں ہی کی جائے گی۔

غسل دینے اور میتوں کو تدفین اور سفر کے لیے تیار کرنے کے کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے کئی مسلمان رضاکار نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی کرائسٹ چرچ پہنچے ہیں۔

جمعے کو ہونے والے حملے میں 50 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن میں سے 30 تاحال کرائسٹ چرچ کے مرکزی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے نو کی حالت تشویش ناک ہے۔

فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے ایک چار سالہ بچے کو بہتر علاج کے لیے آک لینڈ کے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں اس کی حالت بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔

'پورا ملک مسلمانوں کے غم میں شریک ہے'

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ پوری قوم "ان تاریک ترین دنوں میں" اپنی مسلمان کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔

منگل کو نیوزی لینڈ کی پارلیمان کے اجلاس سے خطاب میں وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے متاثرہ مساجد کے نمازیوں اور ان کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پارلیمان کے اجلاس کا آغاز قرآن کی تلاوت سے کیا گیا تھا جب کہ وزیرِ اعظم نے بھی اپنی تقریر کا آغاز "السلام علیکم" کہہ کر کیا۔

جیسنڈا آرڈرن نے اپنے خطاب میں کرائسٹ چرچ کی مسجد میں حملہ آور کو روکنے کی کوشش کے دوران جان سے جانے والے پاکستانی نعیم رشید کا نام بھی لیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

البتہ اپنی تقریر میں وزیرِ اعظم نے حملے کے مرکزی ملزم 28 سالہ آسٹریلین برینٹن ٹیرنٹ کا نام لینے سے گریز کیا اور اسے دہشت گرد، انتہا پسند اور مجرم کہتی رہیں۔

وزیرِ اعظم نے کہاکہ شاید حملہ آور نے یہ کام بدنامی کے حصول کے لیے کیا ہو لیکن نیوزی لینڈ اس کا یہ ہدف بھی حاصل نہیں ہونے دے گا اور ہم اس کا نام تک نہیں لیں گے۔

نیوزی لینڈ میں گن کنٹرول کے حق میں مہم

وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ وہ نیوزی لینڈ میں اسلحہ رکھنے سے متعلق قوانین میں اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں اور کابینہ بھی قوانین میں تبدیلی کی منظوری دے چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ آئندہ پیر کو اسلحے سے متعلق قوانین میں اصلاحات کا اعلان کریں گی۔

حزبِ اختلاف کی جماعت 'نیشنل پارٹی' کے سربراہ سائمن بریجز نے کہا ہے کہ وہ اصلاحات کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی اس کی حمایت کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

'نیشنل پارٹی' زیادہ تر ملک کے دیہی علاقوں میں مقبول ہے جہاں کے لوگ زیادہ اسلحہ رکھتے ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت اس بات کی تحقیقات بھی کرے گی کہ آیا ملکی اداروں نے حملے کے ملزم اور اس کے ارادوں سے متعلق قبل از وقت سراغ لگانے میں کوئی کوتاہی تو نہیں برتی۔

وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ نیوزی لینڈ بھر میں نمازوں کے اوقات کے دوران پولیس اہلکار مساجد کے باہر تعینات رہیں گے جب کہ مسجدیں بند ہونے کے بعد بھی وہ نزدیک ہی موجود رہیں گے۔

نیوزی لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کے 250 سے زائد افسر اور تفتیش کار کرائسٹ چرچ حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں جنہیں امریکی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' اور آسٹریلیا کی فیڈرل پولیس کی مدد بھی حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG