رسائی کے لنکس

لاپتا سعودی شہزادی کی اپنی رہائی کی اپیل


سعودی شہزادی بسمہ واشنگٹن ڈی سی میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایک اجلاس میں۔ 2017
سعودی شہزادی بسمہ واشنگٹن ڈی سی میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایک اجلاس میں۔ 2017

ایک سعودی شہزادی نے، جو تقریباً ایک سال سے لاپتا تھیں، شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اپیل کی ہے کہ انہیں جیل سے رہا کیا جائے۔ شہزادی کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی قصور بتائے بغیر قید میں رکھا جا رہا ہے۔ ان کی صحت مسلسل گر رہی ہے اور انہیں مرنے کا بھی خدشہ لاحق ہے۔

سعودی شہزادی کا نام بسمہ ہے۔ آخری بار وہ پچھلے سال مارچ میں اس وقت خبروں میں آئیں تھیں جب وہ اپنی ایک بیٹی کے ساتھ سوئزرلینڈ علاج کے لیے ایک طیارے میں سوار ہوئیں تھیں۔ لیکن، طیارے کو جدہ میں اتار کر شہزادی کو ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا تھا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

ان کے وکیل لیونارڈ بینٹ نے بتایا تھا کہ انہوں نے سوئزرلینڈ میں اپنے فوری علاج کے لیے اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ ''لیکن، اس کے باوجود ان کے جہاز کو اتار لیا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بہت برا بھی''۔

55 سالہ شہزادی بسمہ سابق سعودی حکمران شاہ سعود بن عبدالعزیز السعود کی سب سے چھوٹی اولاد ہیں، جو سعودی عرب کے دوسرے بادشاہ تھے۔ وہ سعودی حکومت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن، جنہیں ابن سعود بھی کہا جاتا ہے، کی پوتی ہیں۔

وہ سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کی کزن ہیں۔

پرنسس بسمہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی حکمرانوں پر کھلم کھلا تنقید کرتی ہیں۔ وہ ملک میں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

سن 2012 میں انہوں نے انڈیپنڈنٹ کے ساتھ انٹرویو میں سعودی بادشاہت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دولت کی منصفانہ تقسیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

جنوری 2018 میں انہوں نے بی بی سی عربی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے یمن کے خلاف سعودی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے انہیں کسی میڈیا چینل پر نہیں سنا گیا۔

اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں، انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت انہیں کسی جرم کے بغیر الحایر جیل میں رکھا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف کسی طرح کا کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی صحت گر کر تشویش ناک سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

شہزادی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی ایک بیٹی کے ساتھ بلاجواز اغوا کیا گیا۔ انہیں جیل میں کسی طرح کی طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی اور ان خطوط کے جواب بھی نہیں دیے جا رہے، جو انہوں نے جیل سے بھیجے ہیں۔

بی بی سی اور مڈل ایسٹ آئی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹوئٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، متعدد میڈیا اداروں سمیت کئی امریکی سیاست دانوں کو بھی بھیجی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG