رسائی کے لنکس

logo-print

کشیدگی کے ذمہ دار خود یوکرین کے صدر پوروشینکو ہیں، پوٹن


روسی صدر ولادی میر پوٹن۔ فائل

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کہا ہے کہ ’’بحر اسود میں یوکرین کے بحری جہازوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے ذمہ دار خود یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو ہیں‘‘؛ اور ’’اُنہوں نے یہ تنازعہ اگلے برس ہونے والے صدارتی انتخاب میں اپنی کامیابی کے امکانات بڑھانے کیلئے کھڑا کیا ہے‘‘۔

ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر پوٹن نے کہا کہ یوکرین کے صدر پوروشینکو اپنی بحریہ کے جہازوں کو روسی پانیوں میں بھیج کر اشتعال انگریزی کے مرتکب ہوئے ہیں؛ اور اُنہوں جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تاکہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کے امکانات بڑھائے جا سکیں۔

اُدھر روسی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2014 میں قبضے میں لئے گئے یوکرین کے شہر کرائمیا میں طیارہ شکن میزائلوں کی تنصیب بڑھانے کے اقدامات کر رہی ہے۔

کل منگل کے روز کرائمیا میں قائم ایک عدالت نے یوکرین کے جہازوں کے 24 ملاحوں میں سے 12 کو دو ماہ قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ باقی 12 ملاحوں کو آج بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ملاحوں کو سزا دئے جانے کے اقدام پر یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو۔ فائل فوٹو
یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو۔ فائل فوٹو

یوکرین نے اس واقعے کے بعد ملک کے سرحدی علاقوں میں مارشل لاء نافذ کر دیا ہے۔ روسی صدر پوٹن نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے جرمن چانسلر اینجگلا مرکل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ایسے انتہائی قدم اُٹھانے سے باز رکھنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

اُدھر ایسے یورپی ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہوں نے روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

امکان ہے کہ پوٹن اس ہفتے ارجنٹائن میں ہونے والے G-20 سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ سے ملیں گے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ صدر پوٹن سے ملاقات نہ ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ یوکرین کے خلاف روسی اقدام کے بارے میں حتمی رپورٹ موصول کے بعد ہی اس ملاقات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم، روسی حکومت کے ترجمان دی متری پیسکوو نے آج رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاقات کی منسوخی کے بارے میں روس کو کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

روس کی طرف سے قبضے میں لیا گیا یوکرین کا ایک جہاز
روس کی طرف سے قبضے میں لیا گیا یوکرین کا ایک جہاز

یہ واقعہ اتوار کے روز ہوا تھا جب یوکرین کی بحریہ کے تین جہاز بحر اسود سے آبنائے کرک کے راستے بحیرہ آزوو کے کنارے واقع یوکرین کی بندرگاہ ماریوپول کی طرف جا رہے تھے۔ ان دونوں سمندروں کو ملانے کیلئے واحد راستہ آبنائے کرک سے ہی گزرتا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے آبنائے کرک میں ٹینکر سے ان جہازوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی جبکہ معاہدے کے مطابق آبنائے کرک دونوں ملکوں کا مشترکہ علاقہ ہے۔

دوسری جانب، روس نے الزام لگایا ہے کہ یوکرین کے بحری جہاز غیر قانونی طور پر روسی پانیوں میں داخل ہو گئے تھے اور اُنہوں نے روس کی طرف سے انتباہی فائر کو بھی نظرانداز کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG