رسائی کے لنکس

logo-print

برونڈی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، امریکہ کا انتباہ


ترجمان محکمہٴ خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں حکومتِ برونڈی سے مطالبہ کیا کہ ’حالیہ الزامات کے حوالے سے اور اِن جرائم میں ملوث تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اور منصفانہ چھان بین کی اجازت دی جائے‘

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ نو ماہ کے سیاسی بحران کے نتیجے میں، بُرونڈی میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات ’شدید پریشان کُن‘ ہیں۔

ترجمان مارک ٹونر نے منگل کو ایک بیان میں حکومتِ برونڈی سے مطالبہ کیا کہ ’حالیہ الزامات کے حوالے سے اور اِن جرائم میں ملوث تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اور منصفانہ چھان بین کی اجازت دی جائے‘۔

سلامتی افواج کی جانب سے خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی، اذیت، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اجتماعی قبروں کے بارے میں متعدد اطلاعات کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ، زید رعد الحسین نے گذشتہ جمعے کو متنبہ کیا تھا کہ ’بحران کے بڑھتے ہوئے نسلی زاویے پر چوکنہ کیے جانے کی سطح اپنے انتہائی درجے پر پہنچ چکی ہے‘۔

ٹونر نے حکومتِ برونڈی سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اِن الزامات کی تفتیش کے لیے افریقی یونین کے حقوقِ انسانی کے مبصرین کی تعیناتی اور اُن تک بلا روک ٹوک فوری رسائی کو یقینی بنایا جائے‘۔

امن کاروں کی تعیناتی کی پیش کش مسترد

برونڈی نے افریقی یونین کی جانب سے برونڈی میں پُر تشدد واقعات کو روکنے کے لیے، گذشتہ ماہ 5000 امن کاروں کو بھیجنے کی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ بغیر اجازت کے داخل ہونے کی صورت میں، افریقی یونین کی فوجیں پر حملے ہوسکتے ہیں۔

حکومت برونڈی نے مذاکرات میں شرکت سے بھی انکار کیا ہے، جس میں سیاسی مخالفین بھی شامل ہیں، جن پر وہ ’تشدد کی حمایت‘ کرنے کا الزام لگاتا ہے۔

گذشتہ اپریل میں برونڈی اُس وقت بحران کا شکار ہوا جب صدر پیرے کورون زیزا نے تیسری بار انتخاب لڑنے کا اعلان کیا، جس فیصلے کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے جسے کچلنے کے لیے سکیورٹی فورسز سخت کارروائی پر اتر آئیں۔

اِن پُرتشدد کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ بُرونڈی کے ہزاروں شہری اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG