رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک بار پھر بحث کا موضوع: تجزیاتی رپورٹ


پاکستان نے چند دن پہلے ہی یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ کم طاقت والے ایسے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جِن سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں کام لیا جاسکے۔۔۔ اِس بات کا اعلان وزیر اعظم نواز شریف کی امریکہ آمد سے چند دن پہلے ہی کیا گیا

پاکستان کے ایک معروف نیوکلیئر سائنس داں کا خیال ہے کہ چین کے تعاون سے پاکستان کو سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبے میں اب اتنی استطاعت حاصل ہو جائے گی کہ اُسے اِس سلسلے میں اب کسی معاہدے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اسلام آباد سے سائنس داں، عبدالحمید نیر نے اِس خیال کا اظہار وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے پروگرام ’راؤنڈ ٹیبل‘ میں کیا، جو براہ راست پیش کیا گیا۔

اس پروگرام کا عنوان تھا ’پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور بین الاقوامی تحفظات‘۔

خیال رہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کا واشنگٹن کا سرکاری دورہ ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ امریکہ کے پریس میں پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں بظاہر متنازعہ خبریں شائع ہوئی تھیں جِن میں کہا گیا تھا کہ وہ جلد دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی قوت بن سکتا ہے۔

اِس پر بحث و تمحیص کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور پاکستان نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ اُس کا ایٹمی پروگرام صرف اپنے دفاع کے لیے ہے۔اوباما۔ نواز مذاکرات کے حوالے سے بھی یہ موضوع خاصا زیر بحث رہا۔

یاد رہے کہ سنہ 2005میں امریکہ اور بھارت کے درمیان سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک معاہدہ پایا تھا جس کے بعد، بقول اے ایچ نیر’ پاکستان کو یہ احساس ہوا کہ دنیا ہمیں ایک طرف کر رہی ہے اور اصلی دھارے میں شامل نہیں کر رہی۔ اس لیے، ہم اپنے آپ کو طاقتور بنالیں کہ دنیا اس کی متحمل نہ ہوسکے کہ ہمیں نظر انداز کردے، بلکہ وہ خود بتائے کہ ہم آپ کو اصلی دھارے میں کس طرح شامل کر سکتے ہیں۔‘

اُس وقت پاکستان نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ امریکہ اُس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کرے۔

ڈاکٹر نیر کہتے ہیں کہ پاکستان سمجھتا تھا کہ ہندوستان کو ایٹمی دھارے میں شامل کر لیا گیا اور اِس کو جائز حیثیت دے دی گئی اور پاکستان کو اِس قابل نہیں سمجھا گیا۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ دس سال میں پاکستان کو یہ احساس ہوگیا کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت کو ختم کرنے کا کسی کا ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے، اور بقول اُن کے، نہ ہی کسی میں صلاحیت ہے۔ لہٰذا، اس کی ایٹمی قوت اپنی جگہ پر ہے۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ پاکستان بار بار کہتا تھا کہ ہمیں اصلی دھارے میں شامل کرو۔ لیکن اب یہ باتیں پاکستان نہیں کہتا۔

ڈاکٹر اے ایچ نیر نے اس جانب توجہ دلائی کہ بین الاقوامی نیوکلیئر ضوابط میں کچھ کمزوریاں ہیں اور اُن میں سے ایک یہ کہ تمام ممالک ایک ہی سمت میں نہیں دیکھ رہے تھے۔

پاکستانی سائنس داں اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے ماہر ڈاکٹر نیر مزید کہتے ہیں کہ پاکستان کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنی تھی اور چین نے وہ سپلائی شروع کردی۔ چین نے پہلے تین ری ایکٹر سپلائی کیے اور اب دو کراچی کے لیے سپلائی ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر نیر کے مطابق، چھ ری ایکٹر چین کی طرف سے اور آئیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ چین اُن کی خریداری کے لیے قرضے بھی دے گا جو مغربی ممالک میں سے کوئی بھی نہیں دیتا۔ اُن کے اپنے الفاظ میں، ’اِس طرح، پاکستان کو اتنا فائدہ پہنچ گیا ہے کہ اب اسے مزید سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے سمجھوتے کی ضرورت نہیں رہی‘۔

ڈاکٹر اے ایچ نیر نے اس جانب توجہ دلائی کہ اِسی دوران پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کو، بقول اُن کے، اس تیزی سے وسعت دی کہ تمام ممالک پاکستان کی طرف خود ہی توجہ دے رہے ہیں کہ ’ہم کس طرح کے معاہدے کریں کہ یہ تیز رفتاری کم ہوسکے اور اس کا اسلحہ محفوظ ہو سکے‘۔

پاکستان نے چند دن پہلے ہی یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ کم طاقت والے ایسے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جِن سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں کام لیا جاسکے۔ اِس بات کا اعلان وزیر اعظم نواز شریف کی امریکہ آمد سے چند دن پہلے ہی کیا گیا۔ اِس پس منظر میں، بین الاقوامی برادری خاص کر امریکہ میں تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سرگرم کارکن، عدنان خان نے اِسی راؤنڈ ٹیبل میں اِس خیال کا اظہار کیا کہ امریکہ میں بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ یہ ایٹمی ہتھیار ایسے ہاتھوں میں نہ چلے جائیں جو کہ دنیا کے اور ملکوں میں استعمال ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے اِس اعلان کے بعد کہ وہ ’ٹیکٹیکل‘ نیوکلیئر ہتھیار بنا رہا ہے، اِن خدشات کو تقویت ملی ہے۔اِس قسم کے خدشات کا اظہار پاکستان اور علاقے کے مخصوص حالات کے پس منظر میں اکثر کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن، پاکستان نے ہمیشہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کا ایک باقاعدہ اور مؤثر نظام موجود ہے۔

ڈاکٹر اے ایچ نیر کہتے ہیں کہ، بقول اُن کے، پاکستان نے اپنے ایٹمی اسلحے کو محفوظ بنانے کے واسطے جو کارروائی کی ہے، اُس پر امریکہ کےاعلیٰ عہدے دار بھی اپنے اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں کہ پاکستان کے ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہیں پڑیں گے، اور یہ بات پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

دوسری جانب، ڈیموکریٹک پارٹی کے سرگرم کارکن، ڈاکٹر طاہر روحیل اور عدنان خان کہتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیار خود اپنے طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور وہ پاکستان کے اندرونی یا بیرونی چیلنجوں کا حل نہیں ہیں۔

اُن کے خیال میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بین الاقوامی برادری اس وقت تک پاکستان کو نیوکلیئر ہتھیاروں کے حوالے سے اصلی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پاکستان کی خواہش کا لحاظ کرے گی، جب تک کہ پاکستان اپنی ایٹمی پالیسیوں اور اس سلسلے میں کی جانے والی کارروائیوں کو، اُن کے اپنے الفاظ میں، بین الاقوامی ضابطوں سے قریب تر نہیں کرتی۔

پروگرام میں شریک مشہور پاکستانی ایٹمی سائنس داں، ڈاکٹر ثمر مبارکمند، جو ملک کے ایٹمی پروگرام سے گہری وابستگی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ پاکستان، بقول اُن کے، ’بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرات کا توڑ کرنے کے لیے اپنی ایٹمی صلاحیت کو برقرار اور مستحکم رکھنا چاہتا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کو بجا طور پر کم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن، اسے چاہیئے کہ وہ آگے بڑھے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعات کو حل کرانے میں مدددے۔

تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک مرتبہ پھر بحث تمحیص کا موضوع بن گیا ہے۔ غیرجانب دار مبصرین کہتے ہیں کہ بہت سے حساس مسائل کیا رُخ اختیار کرتے ہیں اور بین الاقوامی برادری یا اداروں کا اُن کی جانب کیا رویہ ہوتا ہے، اس کا انحصار اپنے اپنے مفادات اور بدلتے ہوئے عالمی واقعات اور حالات پر ہوتا ہے اور اس مسئلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG