رسائی کے لنکس

logo-print

مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں 10 خواتین اعلیٰ عہدوں پر تعینات


فائل فوٹو

سعودی عرب نے مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی میں 10 خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر دیا ہے۔

مکہ اور مدینہ کی دونوں مساجد سے متعلق امور چلانے والے ادارے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین کو مساجد کے انتظامی اور تیکنیکی محکموں میں تعینات کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی بھرتیوں کا مقصد تعلیم یافتہ اور اہل خواتین کو خود مختار بنانا ہے۔

سعودی عرب کے مقامی میڈیا کے مطابق ان دونوں مساجد میں اس سے قبل 2018 میں 41 خواتین کو اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا۔

خواتین کی مختلف محکموں میں بھرتیاں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتصادی اور سماجی 'ویژن 2030' کا حصہ ہے جس کا مرکزی نکتہ ملکی معیشت کا تیل پر انحصار کم سے کم کرنا اور سعودی عرب کو ایک روشن خیال معاشرے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 کی تیسری سہ ماہی میں سعودی عرب میں 'ورکنگ ویمن' کی تعداد 10 لاکھ سے زائد تھی۔ 2015 میں یہ تعداد آٹھ لاکھ 16 ہزار تھی۔

سعودی عرب میں کی جانے والی حالیہ اصلاحات کے بعد خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی مل گئی جب کہ ملک میں سنیماؤں کے قیام اور پبلک مقامات پر مخلوط تقریبات کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

سعودی حکومت نے گزشتہ برس اکتوبر میں خواتین کو فوج میں بھی بھرتی کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

خواتین اب سعودی عرب کی رائل آرمی، رائل ایئر فورس، نیوی، ایئر ڈیفنس اور فوج کے شعبہ میڈیکل میں سپاہی، کارپورل، ڈپٹی سارجنٹ اور سارجنٹ کی آسامیوں کے لیے درخواستیں دے سکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG