رسائی کے لنکس

logo-print

نئی نسل کے گلوکار اور موسیقار کیسی موسیقی پیش کرنا چاہتے ہیں؟


اگر کوئی بڑا اداکار ہو تو ضروری نہیں کہ اس اداکار کی اولاد بھی بڑے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہو۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں وحید مراد، مصطفیٰ قریشی، منور ظریف اور دیگر لیجنڈ اداکاروں کے بچوں نے فلم انڈسٹری میں قدم تو رکھا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔

پاکستان میں آج بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس سے اگر آپ کے والد یا والدہ کا تعلق ہے۔ تو اس میں آپ کے آگے بڑھنے کے مواقع قدرے بڑھ جاتے ہیں اور یہ شعبہ 'موسیقی' ہے۔

پاکستان میں موسیقی سے وابستہ فن کاروں کی دوسری اور تیسری نسل کا اس شعبے میں آنا کوئی نئی بات نہیں۔ کئی موسیقاروں کی اولادوں نے اس شعبے میں قدم رکھا اور نام کمایا۔ جیسے موسیقار رشید عطرے کے بیٹے وجاہت عطرے اور پوتے جمی عطرے، ایم اشرف کے بیٹے ایم ارشد، موسیقار نوشاد کے بیٹے واجد علی نوشاد اور ان کے بیٹے نوید نوشاد۔

اسی طرح گلوکاروں میں نور جہاں کی بیٹی ظلِ ہما اور ان کے بیٹے احمد علی بٹ، مہدی حسن کے صاحب زادے آصف حسن مہدی، استاد امانت علی خان کے دو بیٹے اسد امانت علی خان اور شفقت امانت علی خان، کجن بیگم کی بیٹی مہناز بیگم اور ملکہ پکھراج کی صاحب زادی طاہرہ سید، عالم لوہار کے بیٹے عارف لوہار، نوشاد کے دو بیٹے عمران علی نوشاد اور امیر علی نوشاد، نیرہ نور کے بیٹے جعفر زیدی، روبینہ قریشی کے بیٹے عامر قریشی اور وارث بیگ کے بیٹے عمار بیگ شامل ہیں۔

اب نہ تو وہ میوزیکل فلمیں بنتی ہیں جن کے گانے ہٹ ہوتے ہیں۔ نہ ہی ٹی وی پر کلاسیکل موسیقی کے پروگرام نشر ہوتے ہیں جب کہ نہ ہی وہ چارٹ بسٹر میوزک ویڈیوز بنتی ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی میوزک کا دنیا بھر میں چرچہ تھا۔ ایسے میں موسیقاروں اور گلوکاروں کی ایک نئی نسل سامنے آ رہی ہے جو پختہ یقین رکھتی ہے کہ نہ صرف پاکستان موسیقی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا۔ بلکہ نئے نئے پلیٹ فارمز کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی ایک نئی شناخت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اداکار و گلوکار خالد انعم کے بیٹے کمیل انعم اور عمار خالد

ویسے تو اداکار خالد انعم کی وجۂ شہرت اداکاری ہے۔ لیکن 90 کی دہائی میں بڑے ہونے والی نسل انہیں 'پِیرا ہو' گانے کی وجہ سے بھی جانتی ہے۔ نہ صرف مذکورہ گانے نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دیی تھہ بلکہ آج دو دہائیوں بعد بھی اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔

اس گانے کے علاوہ بھی خالد انعم نے ٹی وی پر کئی بار گلوکاری کی۔ جس میں ڈرامہ سیریل 'احساس' کا ٹائٹل ٹریک، لوک گیت 'اے ناز حسن بالا' اور بچوں کے لیے ان کے گائے ہوئے لاتعداد گانے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دونوں بیٹوں کمیل انعم اور عمار خالد نے بھی موسیقی میں قدم رکھا۔

دونوں نوجوان پر امید ہیں کہ پاکستان میں موسیقی کا دور واپس آئے گا۔ چاہے ٹی وی ان کا ساتھ دے یا نہ دے۔

کمیل انعم ویسے تو ابھی اپنے پہلے گانے پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ انہوں نے بہت پہلے کر لیا تھا۔ وہ نہ صرف ہر قسم کی موسیقی سنتے ہیں۔ بلکہ نئے اور پرانے دونوں طرز کی موسیقی سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کمیل انعم کہتے ہیں کہ گانے کلاسیکل ہوں یا فلمی، وہ ہر قسم کی موسیقی سن کر بڑے ہوئے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا بھارتی گلوکار محمد رفیع اور کشور کمار جب کہ پاکستانی لیجنڈز احمد رشدی، امجد صابری اور نصرت فتح علی خان ان کے پسندیدہ گلوکار ہیں۔

ان کے بقول وہ اپنا ڈیبیو گانا رواں سال ستمبر میں ریلیز کرنے کی کوشش کریں گے۔ گو کہ یہ ایک 'المیہ' گانا ہے۔ لیکن اس کی کمپوزیشن ایسی ہے کہ لوگ اس پر ڈانس بھی کر سکیں گے۔

خالد انعم نے ٹی وی پر کئی بار گلوکاری کی۔ جس میں ڈرامہ سیریل 'احساس' کا ٹائٹل ٹریک، لوک گیت 'اے ناز حسن بالا' اور بچوں کے لیے ان کے گائے ہوئے لاتعداد گانے شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)
خالد انعم نے ٹی وی پر کئی بار گلوکاری کی۔ جس میں ڈرامہ سیریل 'احساس' کا ٹائٹل ٹریک، لوک گیت 'اے ناز حسن بالا' اور بچوں کے لیے ان کے گائے ہوئے لاتعداد گانے شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)

عمار خالد بھی اپنے ٹیلنٹڈ بھائی سے کم نہیں۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے 'وی آر ون' میں انہوں نے پاکستانی گلوکاروں فاخر محمود، اپنے ماموں ڈینو علی اور والد خالد انعم کے ہمراہ ملک کی نمائندگی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی میوزک لائبریری میں مشہور انگلش بینڈ 'بیٹلز' اور 'میٹیلیکا' کے گانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی موسیقار نصرت فتح علی خان کے گانے بھی شامل ہیں۔

اپنے بینڈ 'نقاب پوش' کے ذریعے وہ دو سنگلز ریلیز کر چکے ہیں۔ جب کہ وہ اس وقت اپنے ڈیبیو البم پر کاشان ادمانی کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے مقابلے میں اب نئے لوگ اوریجنل کام کر رہے ہیں۔ جس سے دوسروں کے ٹریک گانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔

ان کے بقول آج سے آٹھ دس سال قبل 'کوور سانگز' کا ٹرینڈ آیا تھا۔ جس نے ہماری انڈسٹری کو اوریجنل کام سے دور کر دیا تھا۔ لیکن اب بہت سارے موسیقاروں اور گلوکاروں نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ اپنا کام کریں گے۔ تب ہی دنیا میں نام ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لوگوں نے دوسروں کے گانے گانے کی بجائے اپنے گانے بنانا شروع کر دیے ہیں۔

موسیقار و گلوکار شیراز اپل کے صاحب زادے ہادی اپل

موسیقار و گلوکار شیراز اپل کے بیٹے ہادی اپل نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موسیقی میں قدم رکھا ہے اور فلموں کے ساتھ ساتھ میوزک ویڈیو کو اپنا ہدف بنایا ہے۔

حال ہی میں آئمہ بیگ کے ساتھ ان کا ریلیز ہونے والا گانا 'تے کیئرو' کافی مقبول ہوا ہے۔ اس سے قبل وہ ایک سنگل 'دیوانگی' بھی ریلیز کرچکے تھے۔

فلم 'چھلاوا' میں نیہا چوہدری کے ساتھ ان کا گایا ہوا دو گانا 'مدھانیاں' بھی لوگوں کو بہت پسند آیا اور کئی لوگوں نے تو یہ ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا کہ یہ گانا شیزار اپل کے بیٹے نے گایا ہے۔

ہادی اپل کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے والد کی طرح اس شعبے میں ایک لمبی اننگز کھیلیں۔ (فائل فوٹو)
ہادی اپل کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے والد کی طرح اس شعبے میں ایک لمبی اننگز کھیلیں۔ (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ہادی اپل کا کہنا تھا کہ انہیں فٹ بال سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا اور وہ ایک فٹ بالر بننا چاہتے تھے۔ لیکن پاکستان میں فٹ بالرز کے لیے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی توجہ موسیقی پر مبذول کی اور والد کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا۔

اپنے گانے 'تے کیئرو' کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سب لوگ گھروں میں بند تھے۔ انہی حالات میں انہوں نے یہ گانا کمپوز کیا۔

ان کے بقول یہ گانا ان کے والد نے کمپوز کیا جس میں انہوں نے آئمہ بیگ کے ساتھ پہلی بار گلوکاری کی۔

ان کے بقول آئمہ بیگ کے آنے سے انہیں بھی حوصلہ ملا اور چونکہ وہ دونوں مغربی موسیقی سنتے ہیں۔ انہوں نے اس گانے میں بھی کچھ مغربی کرنے کی کوشش کی اور لوگوں کا پسند کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے۔

ہدایت کار وجاہت رؤف کے بیٹے عاشر وجاہت

فلم 'چھلاوا 'میں ہی ہدایت کار وجاہت رؤف کے بیٹے عاشر وجاہت نے نہ صرف اداکاری کی بلکہ ایک گانا بھی گایا۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب عاشر نے ایسا کیا۔ اس سے پہلے بھی وہ اپنے والد کی فلموں 'کراچی سے لاہور' اور 'لاہور سے آگے' میں اداکاری کر چکے ہیں اور گلوکاری بھی۔

عاشر وجاہت نے ویسے تو گلوکاری میں قدم جمانے کی کوشش کی تھی اور دو تین گانے بھی گائے تھے۔ تاہم لوگ انہیں میوزک بینڈ 'آروح' کے مینیجر اور 'آگ ٹی وی' کے سابق سربراہ اور ایک فلم و ٹی وی پروڈیوسر کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عاشر نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اس شعبے کو چنا جس کا انتخاب ان کے دل نے کیا۔

ان کا 2018 میں ریلیز ہونے والا گانا 'تلاش' کافی مقبول ہوا اور کرونا وائرس کے دوران ان کا دوسرا سنگل 'ٹوتا تارا' بھی یوٹیوب پر وائرل ہوا۔

عاشر وجاہت رؤف اپنے والد کی فلموں 'کراچی سے لاہور' اور 'لاہور سے آگے' میں اداکاری کر چکے ہیں اور گلوکاری بھی۔ (فائل فوٹو)
عاشر وجاہت رؤف اپنے والد کی فلموں 'کراچی سے لاہور' اور 'لاہور سے آگے' میں اداکاری کر چکے ہیں اور گلوکاری بھی۔ (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عاشر وجاہت کا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ دوسرے والدین کی طرح انہیں کسی نے شوبز میں آنے سے نہیں روکا۔ کیون کہ ان کے والدین وجاہت رؤف اور شازیہ وجاہت کا تعلق شوبز سے ہے۔ اس لیے ان کا انڈسٹری میں آنا آسان ہو گیا۔ لیکن گلوکاری کی طرف انہیں ان کا دل لے کر گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اداکاری اور گلوکاری میں جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ ان دونوں شعبوں میں آپ جتنا جلدی قدم رکھتے ہیں۔ آپ کو اتنا فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسکول میں ہوتے ہوئے ہی گلوکاری کا آغاز کر دیا تھا اور آج ان کا تجربہ اپنے ہم عمر لوگوں سے زیادہ ہے۔

ان کے بقول حال ہی میں انہوں نے ایک گانا 'ٹوٹا تارا ' یوٹیوب پر ریلیز کیا۔ جس کو لوگوں نے پسند کیا اور اسی وجہ سے اب وہ اپنے اگلے گانے پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب کیسٹ اور سی ڈیز کا زمانہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور ہے۔ اگر ایک گانا پاکستان میں اپ لوڈ ہوتا ہے تو وہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیا بھر میں لوگ اسے سنتے ہیں۔

ان کے مطابق پہلے کسی گانے کو مشہور ہونے میں کافی وقت لگتا تھا لیکن اب سب کچھ جھٹ پٹ ہو جاتا ہے اور اسی لیے وہ پر امید ہیں کہ موسیقی کا کم بیک دور نہیں۔

گلوکار و موسیقار عدنان سمیع خان کے بیٹے اذان سمیع خان

آخر میں کچھ بات عدنان سمیع خان اور زیبا بختیار کے بیٹے اذان سمیع خان کی۔ گو کہ ان کے والد اب بھارت کی شہریت اختیار کر کے پڑوسی ملک میں رہتے ہیں لیکن ان کی والدہ پاکستان میں ہیں۔ اذان سمیع خان نے پہلے والد کے شعبے کو ترجیح دی۔

اذان اب تک 'پرواز ہے جنون'، 'پرے ہٹ لو' اور 'سپر اسٹار' جیسی کامیاب فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)
اذان اب تک 'پرواز ہے جنون'، 'پرے ہٹ لو' اور 'سپر اسٹار' جیسی کامیاب فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ایسا نہیں کہ وہ اداکاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ بس اس کے لیے تھوڑا زیادہ وقت چاہتے ہیں۔ ان کے والد نے تو صرف ایک پاکستانی فلم 'سرگم' میں موسیقی دی تھی۔ لیکن اذان اب تک 'پرواز ہے جنون'، 'پرے ہٹ لو' اور 'سپر اسٹار' جیسی کامیاب فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے ہیں۔

ان کا شمار اس وقت پاکستان کے ابھرتے ہوئے موسیقاروں میں ہوتا ہے۔

آئندہ برس وہ ہانیہ عامر کے ساتھ فلم ’پٹخ دے' کے ذریعے اداکاری میں بھی انٹری ماریں گے۔ اس سے قبل وہ اپنی والدہ کے ہمراہ فلم 'او ٹو ون' بھی پروڈیوس کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG