رسائی کے لنکس

logo-print

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پر حملے کے خلاف احتجاج پر پولیس کا لاٹھی چارج


فائل فوٹو

بھارت کے دارالحکومت میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں کیے گئے حملے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر نئی دہلی میں طلبہ نے احتجاج کیا جب کہ مظاہرین نے جے این یو کے وائس چانسلر کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا۔

احتجاج مارچ میں اساتذہ کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ، سیاسی شخصیات، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں نے بھی شرکت کی۔ طلبہ نے جے این یو سے منڈی ہاوس اور جنتر منتر تک مارچ کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر دونوں مقامات کے علاوہ یونیورسٹی کیمپس میں بھی بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی تھی۔

ابتدا میں پولیس نے طلبہ کو کیمپس سے نکلنے کی اجازت نہیں دی لیکن پھر اس شرط پر انہیں باہر جانے دیا گیا کہ وہ پیدل مارچ کے بجائے بسوں سے منڈی ہاؤس جائیں۔

جب مارچ منڈی ہاؤس سے ڈھائی کلومیٹر دور شاستری بھون پہنچا تو پولیس نے اسے روک دیا۔

اس پر طلبہ اور وزارت تعلیم کے سیکریٹری کے درمیان مذاکرات ہوئے جو ناکام رہے۔ اس کے بعد طلبہ نے راشٹر پتی بھون (صدر کی سرکاری رہائش گاہ) تک مارچ کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج شروع کیا اور متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا۔

احتجاج کے دوران طلبہ نے وائس چانسلر کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں نہیں ہٹایا جائے گا ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

احتجاج میں شریک مظاہرین نے حکومت، آر ایس ایس اور پولیس کے خلاف بھی نعرے لگائے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے متعدد طلبہ نے حملے کا ذمہ دار وائس چانسلر کو قرار دیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر نے زخمی طلبہ سے بات تک نہیں کی۔

وائس چانسلر نے اپنے اوپر عائد الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض پروفیسرز طلبہ کو ان کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے دروازے تمام طلبہ کے لیے کھلے ہیں۔ جو چاہے وہ مل سکتا ہے۔

'سرکاری سرپرستی میں کی جانے والی غنڈہ گردی'

سینئر کانگریس رہنما جے رام رمیش نے حملے کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم پرکاش جاوڈیکر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

جے رام رمیش نے کہا کہ حملہ از خود نہیں ہوا بلکہ کروایا گیا۔

انہوں نے اسے سرکاری سرپرستی میں کی جانے والی غنڈہ گردی قرار دیا۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے الزام عائد کیا کہ پولیس کو اوپر سے حکم تھا کہ وہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہ کرے اور انہیں بعد میں نکل جانے دے۔ لہٰذا پولیس نے وہی کیا۔

حکومت کی جانب سے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ البتہ پرکاش جاوڈیکر کہہ چکے ہیں کہ نقاب پوش حملہ آور جلد ہی بے نقاب ہوں گے۔

اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ اسے حملے کے وقت یونیورسٹی میں داخل ہونے کی تحریری اجازت یونیورسٹی انتظامیہ سے نہیں ملی تھی۔ جب اجازت ملی تب وہ اندر گئی۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت کی جا رہی ہے وہ جلد ہی پکڑے جائیں گے۔

دریں اثنا سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے ممبئی سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تین ہزار کلومیٹر کی گاندھی شانتی یاترا کا آغاز کیا۔

یہ یاترا پانچ ریاستوں سے ہوتے ہوئے 30 جنوری کو نئی دہلی میں گاندھی سمادھی پر آکر ختم ہوگی۔

ایک روز قبل بھی نئی دہلی کے سینٹ اسٹیفنس کالج اور دہلی یونیورسٹی کے دیگر نصف درجن کالجز کے طلبہ نے سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ اسٹیفنس کالج میں 30 سال بعد کوئی مظاہرہ ہوا۔

اُدھر شاہین باغ میں خواتین کا دھرنا جاری ہے۔ کل فصیل بند شہر دہلی کی خواتین نے سی اے اے کے خلاف کینڈل مارچ نکالا۔ دیگر شہروں میں بھی شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG