رسائی کے لنکس

خود کشی کے رجحان میں اضافہ؛ 'ٹی وی ڈرامے بنانے والوں کو اس کی وجوہات پر بات کرنی چاہیے'


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں حالیہ دنوں میں خودکشی کے کئی واقعات ذرائع ابلاغ میں زیرِ بحث رہے ہیں۔ جب کہ سوشل میڈیا پر بھی ان پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ ماہ 25 نومبر کو کراچی کے میڈیا سے وابستہ سابق ورکر نے گھر میں خود کو پھندا لگا کر خودکشی کی تھی۔ نومبر میں ہی شہر کے ایک نجی شاپنگ مال میں نوجوان کا بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

شہریوں کی خودکشی کے ان دو واقعات کی وجہ مہنگائی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتِ حال کو بھی قرار دیا جا رہا تھا۔ جب کہ بعض مبصرین نے دیگر عوامل کی بھی نشان دہی کی۔

ایک طرف خودکشی کرنے والے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر بات ہو رہی ہے تو چند یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیلی وژن ڈراموں میں خودکشی کے مناظر یا سین بڑھنے کا رجحان بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کے ڈراموں میں سب سے پہلی خودکشی کا سین 1972 کی ڈرامہ سیریل 'انکل عرفی' میں دکھایا گیا تھا جس میں ہیروئن بینا نے اپنی جان خود لی تھی۔

ہدایت کار محسن علی اور شیریں پاشا کے ڈرامے کی آخری قسط میں اداکارہ شہلا احمد نے ہیرو انکل عرفی (شکیل) سے ایک طویل مکالمے کے بعد اپنی جان لے لی تھی۔

بلیک اینڈ وائٹ زمانے میں بننے والے اس ڈرامے کو لوگ آج بھی حسنات بھائی کے کردار کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن ڈرامے میں بینا کی خودکشی نے ناظرین کو بے حد رنجیدہ کیا تھا۔

اس ڈرامے کی لکھاری معروف مصنفہ حسینہ معین تھیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس ڈرامے کے بعد حسینہ معین کے کسی ڈرامے میں خودکشی کا منظر نہیں ہے۔

پاکستان میں خودکشی کے بڑھتے واقعات، مسئلہ کیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:31 0:00

حسینہ معین کے لکھے گئے کئی ڈراموں کی ہدایت کاری کرنے والے اداکار و ہدایت کار ذوالفقار شیخ کا کہنا ہے کہ اگر ڈرامے میں کسی بھی کردار کی موت دکھانے کی بات کرتے تھے تو حسینہ آپا اس کی اجازت ہی نہیں دیتی تھیں۔

پاکستان ٹیلی وژن کے آغاز سے لے کر 90 کی دہائی تک کئی لکھنے والوں نے خودکشی کے فعل پر بات کی ہے۔

حسینہ معین ہی کے لکھے ہوئے ڈرامے 'تنہائیاں' کا ایک مشہور سین ہے جس میں فاران صاحب کا کردار ادا کرنے والے قاضی واجد اپنے مینیجر قطب الدین کو خودکشی کے طریقے بتاتے ہیں جس کے جواب میں قباچا کا کردار ادا کرنے والے بہروز سبزواری انہیں ہر طریقے کے منفی اثرات سے آگاہ کرتے ہیں۔

تاہم اگر موجودہ دور کے ڈراموں کی بات کی جائے تو ہم ٹی وی کے مقبول ڈرامے 'ہم سفر' میں سارہ کی خودکشی سے لے کر حال ہی میں اے آر وائے پر نشر ہونے والے ڈرامے 'بے رخی' میں ہیروئن کے باپ کی خودکشی تک ہر دوسرے ڈرامے میں کوئی نہ کوئی کردار یا تو خودکشی کرتا دکھائی دیتا ہے یا ایسا کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔

علاوہ ازیں ہم ٹی وی پر ان دنوں نشر ہونے والے ڈرامے 'ہم کہاں کے سچے تھے' میں مشعل کا کردار ادا کرنے والی کبریٰ خان نے بھی خودکشی کی۔

اسی طرح 'پری زاد' میں بہروز کریم کا کردار ادا کرنے والے نعمان اعجاز نے بھی اپنی جان خود لی۔

رواں برس اداکار نعمان اعجاز نے ایک اور ڈرامے 'ڈنک' میں بھی خودکشی کی تھی لیکن ڈرامے کے مصنف محسن علی کا کہنا تھا کہ اگر وہ 'ڈنک' میں خودکشی نہ دکھاتے تو ڈرامے کی کہانی ادھوری رہ جاتی۔ کیوں کہ یہ ڈرامہ حقیقی کہانی پر مبنی تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے محسن علی کا کہنا تھا کہ لاہور کے ایک کالج کے پروفیسر نے بے بنیاد الزامات کے نتیجے میں خودکشی کی تھی اور 'ڈنک' ڈرامہ میں بھی یہی دکھایا گیا ہے۔

محسن علی کا کہنا تھا کہ ٹی وی ڈراموں وہی دکھایا جاتا ہے جو معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے۔

ان کے خیال میں ٹی وی نے خودکشی کو پروان نہیں چڑھایا بلکہ خودکشیاں بڑھنے کے بعد اسے ٹی وی پر دکھایا جانے لگا ہے تاکہ اس کے بعد آنے والی مصیبتوں سے لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے۔

اسی طرح اے آر وائے پر نشر ہونے والے ڈرامے 'آزمائش' یا 'بددعا' کی بات کی جائے یا پھر ہم ٹی وی کے ڈرامے 'یہ دل میرا' کی، ان سب ہی ڈراموں میں خودکشی دکھائی گئی ہے۔

اداکار اعجاز اسلم نے ڈرامہ 'لوگ کیا کہیں گے' کے آغاز میں مالی پریشانیوں سے تنگ آ کر پنکھے سے لٹک کر اپنی جان لی تھی جب کہ ڈرامہ سیریل 'جلن' میں اداکارہ اریبہ حبیب نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کی تھی۔

البتہ ایک ڈرامہ ایسا بھی دیکھا گیا جس میں خودکشی کی وجوہات پر بات کی گئی۔

ہم ٹی وی کے ڈرامے 'سراب' میں اداکارہ سونیا حسین نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے جس میں انہوں نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا تھا جو اسکٹزوفرینیا کے مرض میں مبتلا ہوتی ہے۔

'ڈرامہ بنانے والوں کو خودکشی کے پیچھے وجوہات پر بات کرنی چاہیے'

پاکستانی صحافی مہوش اعجاز کا ماننا ہے کہ خودکشی ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق انسان کی ذہنی حالت سے ہوتا ہے۔

ان کے بقول ڈرامہ بنانے والوں کو خودکشی کے بجائے اس کے پیچھے وجوہات پر بات کرنی چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عقل مند اور ذمہ دار شخص ٹی وی دیکھ کر خودکشی کرنے پر مائل نہیں ہو جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈراموں میں خودکشیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے تو اس غیر ذمہ داری کے خلاف پیمرا کو حرکت میں آنا چاہیے اور الٹی سیدھی چیزوں پر نوٹس لینے کے بجائے انہیں اس طرف دھیان دینا چاہیے۔

مہوش کے بقول رائٹرز اور پروڈیوسرز کو اس بارے میں سوچنا چاہیے ان کا ڈرامہ کسی مریض میں اس عمل کو 'ٹریگر' کر سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹی وی ڈرامہ دیکھ کر زیادہ تر افراد خودکشی کر رہے ہیں تو ایسا نہیں۔ البتہ ڈرامہ بنانے والوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

  • 16x9 Image

    عمیر علوی

    عمیر علوی 1998 سے شوبز اور اسپورٹس صحافت سے وابستہ ہیں۔ پاکستان کے نامور انگریزی اخبارات اور جرائد میں فلم، ٹی وی ڈراموں اور کتابوں پر ان کے تبصرے شائع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد نام وَر ہالی وڈ، بالی وڈ اور پاکستانی اداکاروں کے انٹرویوز بھی کر چکے ہیں۔ عمیر علوی انڈین اور پاکستانی فلم میوزک کے دل دادہ ہیں اور مختلف موضوعات پر کتابیں جمع کرنا ان کا شوق ہے۔

XS
SM
MD
LG