رسائی کے لنکس

logo-print

دورۂ انگلینڈ سے قبل تین پاکستانی کرکٹرز کرونا کا شکار


شاداب خان، حارث رؤف اور حیدر علی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ (فائل فوٹو)

دورۂ انگلینڈ سے چند روز قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ سابق کپتان شعیب ملک، کوچ وقار یونس اور دیگر کے ٹیسٹ کی رپورٹ منگل کو آنے کی توقع ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پیر کی شب تصدیق کی ہے کہ آف اسپنر شاداب خان، فاسٹ بالر حارث رؤف اور نوجوان بلے باز حیدر علی کے کرونا ٹیسٹ کی رپورٹس مثبت آئی ہے جس کے بعد متاثرہ کھلاڑی آئسولیشن میں چلے گئے ہیں۔

پی سی بی کے مطابق کرونا کے شکار کھلاڑیوں کا اتوار کو راولپنڈی میں ٹیسٹ کیا گیا تھا جو منفی آیا تھا۔ پی سی بی کے بقول اس وقت تک کھلاڑیوں میں کرونا وائرس کی ایسی کوئی علامات موجود نہیں تھیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں کا کرونا ٹیسٹ ایسے موقع پر مثبت آیا ہے جب ٹیم دورۂ انگلینڈ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اسے 28 جون کو انگلینڈ روانہ ہونا ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی جس کا آغاز 30 جولائی کو ٹیسٹ میچ سے ہو گا۔

انگلینڈ پہنچنے کے بعد پاکستان ٹیم 14 روز قرنطینہ میں رہے گی۔ تاہم اس دورے سے قبل تین کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پی سی بی نے پیر کو جاری بیان میں کہا ہے کہ میڈیکل پینل کرونا سے متاثرہ کھلاڑیوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ چند روز کے لیے الگ تھلگ ہو جائیں۔

پی سی بی کے مطابق فاسٹ بالر عثمان شنواری اور آل راؤنڈر عماد وسیم کے بھی راولپنڈی میں کرونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جو منفی آئے ہیں اور اب وہ 24 جون کو لاہور روانہ ہوں گے۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ ٹیم آفیشل کلف ڈیکن، کوچ وقار یونس اور سابق کپتان شعیب ملک کے متعلقہ سینٹرز میں پیر کو ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتائج منگل کو آئیں گے۔

کرکٹ بورڈ کے مطابق کھلاڑیوں کی ٹیسٹ رپورٹ آنے سے قبل کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

آئی سی سی کی کرونا گائیڈ لائنز

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی نئی گائیڈ لائنز کے مطابق جو کھلاڑی کرونا وائرس کے شکار ہوں گے ان کی جگہ ٹیم میں متبادل کھلاڑی شامل کیے جا سکیں گی۔

آئی سی سی کے مطابق جب تک دنیا سے کرونا کی وبا کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک کرکٹ میچز 'بائیو سیکیور' ماحول میں کھیلے جائیں گے یعنی تمام میچز تماشائیوں کے بغیر ہوں گے۔

میچ سے قبل تمام کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ ہوں گے اور اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کو سیریز سے قبل 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

میچ کے دوران آؤٹ ہونے یا کوئی بڑا اسکور کرنے کی صورت میں کھلاڑی جشن نہیں منا سکتے اور کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے کی بھی ممانعت ہے۔

نئی گائیڈ لائنز کے مطابق بالرز گیند پر تھوک نہیں لگا سکتے اور انہیں اپنی کیپ اور دھوپ سے بچاؤ کے چشمے کی دیکھ بھال بھی خود کرنا ہو گی، جو اکثر امپائر کی ذمہ داری ہوتی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG