رسائی کے لنکس

logo-print

'یوکرائن کی امداد جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات سے مشروط کی تھی'


یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈلینڈ (فائل فوٹو)

یورپی یونین کے لیے امریکی سفیر گورڈن سونڈلینڈ نے اقرار کیا ہے کہ انہوں نے یوکرائن کے حکام سے کہا تھا کہ ان کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈیموکریٹ حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات سے مشروط ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سونڈلینڈ صدر ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایوانِ نمائندگان کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس نے منگل کو ان کے بیانِ حلفی کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

اپنے بیان میں امریکی سفیر نے تسلیم کیا ہے کہ وہ جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کی غرض سے یوکرائن کی امداد روکنے کے معاملے سے باخبر تھے۔

گورڈن سونڈلینڈ کے بقول انہوں نے یوکرائن کے اعلیٰ حکام کو بتایا تھا کہ یوکرائن کو امریکی فوجی امداد اس وقت تک دیے جانے کا امکان نہیں جب تک یوکرائنی حکومت جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کی یقین دہانی نہیں کرادیتی۔

امریکی سفیر نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی کے ذریعے یوکرائن کی حکومت پر مہینوں دباؤ ڈالا گیا تھا تاکہ وہ جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف انسدادِ بدعنوانی کی تحقیقات کرے۔

ان کے بقول صدر ٹرمپ کو یقین تھا کہ یوکرائن نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی مدد کی تھی۔

سماعت کے دوران سونڈلینڈ نے ارکانِ کانگریس کو بتایا کہ انہوں نے یوکرائن کے صدر کے مشیر آندری یرمک کو کہا تھا کہ امریکی امداد ممکنہ طور پر اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک یوکرائن جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات سے متعلق بیان جاری نہیں کردیتا۔

خیال رہے کہ گورڈن سونڈلینڈ کو صدر ٹرمپ نے ہی یورپی یونین میں امریکہ کا سفیر تعینات کیا تھا اور انہوں نے کمیٹی کے سامنے اعتراف کرلیا ہے کہ وہ یوکرائن کو دی جانے والی امداد اور بدلے میں 2020 کے صدارتی انتخاب میں صدر ٹرمپ کی بلواسطہ مدد کے مطالبے سے مکمل طور پر باخبر تھے۔

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے اراکین کے سامنے سونڈلینڈ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ یوکرائن کی امداد کو جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات سے جوڑنا نا مناسب عمل تھا۔

سونڈلینڈ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں یہ غیر قانونی عمل بھی تھا؟ تو جواب میں انہوں نے کہا کہ "میں وکیل نہیں ہوں لیکن میرا گمان یہی ہے۔"

خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی منظوری دی ہے۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرائن کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا۔ جو بائیڈن آئندہ سال صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے مقابلے پر ڈیموکریٹ پارٹی کے متوقع امیدواران میں سرِ فہرست ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG