رسائی کے لنکس

logo-print

کاروبار کھولیں یا بند رکھیں؟ سندھ کے تاجر تذبذب کا شکار


فائل فوٹو

پاکستان کا تجارتی حب سمجھے جانے والے شہر کراچی کے تاجر تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ کاروبار کھولیں یا نہ کھولیں۔ ایک طرف وفاقی حکومت کاروبار کھولنے کے اعلانات کر رہی ہے تو وہیں سندھ کی صوبائی حکومت کی جانب سے کاروبار کھولنے پر کچھ تاجروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں لاک ڈاؤن کے دوران دکانیں اور کاروبار کھولنے کے الزام میں بدھ کو چھ دکان داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی، تشدد، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

عدالت نے گرفتار تاجر رہنماؤں کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ان تاجروں نے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے اعلان کے باوجود غیر قانونی طور پر دکانیں اور کاروباری مراکز کھولے تھے اور دیگر لوگوں کو بھی اس عمل پر اکسایا تھا۔

اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر بعض تاجر تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ وہ یکم رمضان سے حکومتی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دکانیں کھولیں گے اور کاروبار شروع کریں گے۔

حکومت سندھ کی جانب سے کاروبار کھولنے کی مشروط اجازت

سندھ کی صوبائی حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران ہفتے میں چار روز مخصوص اوقات میں کاروبار کھولنے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق تاجر حضرات اپنے کاروبار پیر سے جمعرات تک صبح نو سے تین بجے کے درمیان کھول سکیں گے جب کہ اشیائے خور و نوش کی دکانیں شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔

کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن، سڑکوں پر سناٹا
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:39 0:00

اسی طرح ریستورانوں سے کھانے کی ڈیلیوری کے اوقات کار شام پانچ سے رات 10 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں۔ تاہم سحری کے اوقات میں ہوم ڈیلیوری سروس کی اجازت نہیں ہو گی اور رمضان میں لاک ڈاؤن شام پانچ بجے سے شروع ہو گا۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ محکمۂ داخلہ کی طرف سے کاروباری سرگرمیوں سے متعلق ایس او پیز اور نوٹی فکیشن جاری کیا جا رہا ہے۔

حکومتی ایس او پیز کے مطابق دکانیں کھولنا ممکن نہیں

حکومت سندھ کی جانب سے کاروبار کھولنے کی مشروط اجازت کے باوجود تاجر رہنماؤں کے خدشات برقرار ہیں۔ کراچی کے چھوٹے تاجروں کی تنظیم 'اسمال ٹریڈز ایسوسی ایشن' کے صدر محمود حامد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت نے کاروبار کھولنے کی ایس او پیز اس قدر سخت بنائی ہیں کہ ان پر عمل کرتے ہوئے کاروبار کھولنا ناممکن ہے۔

ان کے بقول حکومت اور بعض تاجروں کے درمیان طے شدہ ایس او پیز کے مطابق مارکیٹ میں کاروبار کے لیے دکانوں کے شٹر کھولنے کی اجازت نہیں ہو گی، صرف آن لائن خرید و فروخت کی جا سکے گی۔

اسی طرح مختلف مارکیٹوں کو 13 سیکٹرز میں تقسیم کر کے انہیں روٹیشن پالیسی کی بنیاد پر کھولا جائے گا جب کہ تمام بازار شام پانچ بجے بند کر دیے جائیں گے۔

محمود حامد اور ان کی تنظیم میں شامل تاجروں کو اعتراض ہے کہ کپڑے، ہوزری، پلاسٹک اور اس سے ملتے جلتے دیگر کاروباروں میں آن لائن خریداری ممکن نہیں۔ اس لیے یہ تصور ان کے خیال میں خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاجر تنظیمیں مارکیٹی کھلنے پر رش اور بھیڑ کے بجائے نظم و نسق کے ساتھ خریداری یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔

محمود حامد نے کہا کہ حکومت کو یہ تجویز دی گئی تھی کہ وہ ایک ہفتے کے لیے آزمائشی بنیادوں پر کاروبار کھول کر دیکھ لیں۔ اگر مارکیٹ انتظامیہ نظم و نسق قائم کرنے میں ناکام رہے تو حکومت انہیں بند کر سکتی ہے۔

لیکن ان کے بقول حکومت نے یہ تجاویز نہیں مانیں اور اب تاجروں کو مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ محمود حامد نے کہا کہ گزشتہ 30 روز سے جاری لاک ڈاون کے باعث چھوٹے کاروباری حضرات شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

تاجر تنظیمیں تقسیم نظر آتی ہیں

دوسری جانب لاک ڈاؤن کے حوالے سے مختلف تاجر تنظیمیں بھی تقسیم نظر آتی ہیں۔ کراچی تاجر اتحاد کے صدر اور معروف تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ حکومت نے تیکنیکی طور پر دکانیں کھولنے اور کاروبار کرنے سے منع ہی کر رکھا ہے۔ ایسے میں کاروبار کھولنے کی بات نا ممکن ہے۔

لیکن ان کی تنظیم لاک ڈاؤن کے فیصلے کی مزاحمت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عتیق میر نے کہا کہ حکومت اگر تاجروں سے اپنے فیصلے منوا رہی ہے تو اسے تاجروں کی مدد بھی کرنی چاہیے۔ انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے اور دیہاڑی دار افراد کو مالی امداد بھی پہنچائی جائے

لاک ڈاؤن سے کوئی خوش تو کوئی پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:31 0:00

واضح رہے کہ کراچی میں لگ بھگ ساڑھے چھ ہزار چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں سات لاکھ سے زائد دکانیں ہیں جن میں سے بیشتر لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں محدود کرنے کا فیصلہ کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے۔ صوبے میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد جمعے کو چار ہزار کے قریب جا پہنچی ہے۔

مساجد میں نمازِ تراویح کی اجازت نہیں ہو گی

رمضان کی آمد کے پیشِ نظر حکومت سندھ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ مساجد میں نماز تراویح کے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ بلکہ صرف تین سے پانچ افراد ہی مسجدوں میں تراویح ادا کر سکیں گے۔

جمعرات کو رات گئے جاری کردہ بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اگر بڑے اجتماعات سے گریز نہ کیا گیا تو یہ وبا بہت تیزی سے پھیلے گی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر صدر مملکت سے بھی فون پر بات کی ہے اور ماہرین کے مطابق اگلے 15 دن بہت اہم ہیں اس لیے ان دنوں میں لاک ڈاؤن کو مزید سخت کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG