رسائی کے لنکس

logo-print

بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کا افغان امن عمل پر زور


اقوام متحدہ کی عمارت، فائل فوٹو

پاکستان نے بین الاقوامی برداری کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اسلام آباد دہشت گردی کو پوری طرح شکست دینے کے اپنے عزم کا پر قائم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پاکستان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس کو معاملے کو امتیازی انداز میں حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب منیر اکرام نے یہ بات بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے درکار اقدامات کے بارے میں منگل کو اقوام متحدہ میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پاکستانی سفارت کار نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے معاہدے اور حال ہی میں شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان میں قیام امن سے ان کے بقول خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سازگار ماحول فراہم ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی ہے جب قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الاقوامی مذاکرات کے سلسلے میں بات چیت کے کئی دور ہو چکے ہیں۔

منیر اکرام، اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے سفارت کار
منیر اکرام، اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے سفارت کار


دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب منیر کرام نے کہا کہ ہر جگہ پر دہشت گردی کو ہر ایک شکل میں مکمل طور پر شکست دینی ہو گی لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے سے امتیازی انداز سے نہیں نمٹا جا سکتا ہے۔

منیر اکرام کے بقول عالمی تعاون کی وجہ سے القاعدہ اور داعش جیسی بڑی دہشت گردی تنظیموں کو شکست دینے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن ان کے بقول اس کے باوجود دہشت گردی کئی نئی اور تبدیل شکلوں میں ظاہر ہو رہی ہے جس سے موثر انداز سے نہیں نمٹا جا رہا ہے۔

افغان امور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کے بقول اگر دوحہ میں جاری بین الاافغان مذاکرات کے نتیجے میں طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان افغانستان میں ایک سیاسی نظام اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی سمجھوتا طے پا جاتا ہے اور اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو پھر پھر نہ صرف افغان دھڑے بلکہ افغانستان، پاکستان اور دیگر ملک بھی اقدامات کر سکتے ہیں یا کم ازکم دہشت گردی کے روک تھام کے لیے آپس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اب شدت پسند تنظیم القاعدہ کافی کمزور ہو چکی ہے اور امریکی حکام بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خطے میں داعش کے شدت پسندوں کی تعداد کافی کم ہو چکی ہے۔ لیکن وہ سجھتے ہیں کہ القاعدہ ایک ایسی شدت پسند تنظیم رہی ہے جس کے حامی کئی ملکوں میں اب بھی موجود ہیں۔ اس لیے ان کے متعلق بھی طالبان کو اپنے وعدوں کی پوری طرح پاسداری کرنا ہو گی تاکہ افغانستان کی سرزمین کسی اور کے خلاف استعمال نہ ہو۔

دوسری طرف طالبان کا موقف رہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر قائم ہیں۔ وہ افغانستان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں کسی ایسے گروپ کو سرگرم ہونے کے اجازت نہیں دیں گے جو کسی دوسر ے ملک کے لیے خطرہ ہو۔

لیکن رحیم اللہ کے بقول دوسری طرف شدت پسند گروپ داعش کی شکل میں ایک نیا خطرہ موجود ہے جس کے خلاف علاقائی سطح پر بھی یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ سب کو مل کر اس سے جنگ کرنی چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG