رسائی کے لنکس

طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے جنگجو سردار رشید دوستم متحرک


فائل فوٹو

ایک ہفتے کے دوران افغانستان کے 10 سے زیادہ صوبائی دارالحکومتوں پر طالبان قبضہ کر چکے ہیں اور یہ قبضہ چھڑانے کے لیے افغان حکومت اور جنگجو سردار متحرک ہو گئے ہیں۔

طالبان کے خلاف افغانستان کے مصروف جنگجو کمانڈر اور سیاسی رہنما جنرل عبدالرشید دوستم نے طالبان عسکریت پسندوں کی پیش قدمی روکنے اور ان سے آبائی صوبے جوزجان کو دوبارہ آزاد کرانے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔

کابل سے آمدہ اطلاعات کے مطابق صدر اشرف غنی کی قیادت میں افغان رہنماؤں نے حال ہی میں مزار شریف کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر رشید دوستم کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب اور اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے ایک مشترکہ بیٹھک بھی کی تھی۔

مبصرین کے مطابق بعض صوبوں میں افغان فوج کی حالیہ پسپائی کے بعد صدر غنی نے جنگو سرداروں اور ان کی ملیشیاز پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے۔

سڑسٹھ سالہ جنگجو کمانڈر رشید دوستم ترکی میں کئی مہینے گزارنے کے بعد چھ اگست کو ہی کابل پہنچے ہیں جہاں انہوں نے صدر غنی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور افغانستان کی تازہ ترین صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

کابل میں موجود صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق رشید دوستم نے ایسے موقع پر ترکی سے وطن واپسی کی ہے جب طالبان عسکریت پسندوں نے ان کے آبائی صوبے جوزجان کے مرکزی انتظامی شہر شبرغان میں ان کے ذاتی محل نما گھروں اور حجروں پر اپنے سفید جھنڈے لہرائے۔

طالبان عسکریت پسندوں میں سے ایک نے رشید دوستم کی فوجی وردی پہن کر دیگر ساتھیوں کے ساتھ سیلفی بنوائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ رشید دوستم کے محل نما گھروں اور حجروں کو عالمی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی کافی کوریج ملتی رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق بعض صوبوں میں افغان فوج کی حالیہ پسپائی کے بعد صدر غنی نے جنگو سرداروں اور ان کی ملیشیاز پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق بعض صوبوں میں افغان فوج کی حالیہ پسپائی کے بعد صدر غنی نے جنگو سرداروں اور ان کی ملیشیاز پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے۔

کابل میں ایک سرکاری عہدیدار ڈاکٹر رحیم اللہ شنواری نے صدر غنی اور رشید دوستم سمیت کئی اہم عہدیداروں کی مزار شریف میں ملاقات سے متعلق کہا کہ یہ رہنما شمالی صوبوں کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر وہاں جمع ہوئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان رہنماؤں کے مزار شریف جانے کے کیا نتائج ہوں گے مگر یہ تمام رہنما اب طالبان کے زیرِ تسلط آنے والے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

سینئر افغان صحافی سمیع یوسف زئی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اب افغانستان کے حالات نوے کی دہائی سے کافی مختلف ہیں۔ ان کے بقول اس وقت شمالی افغانستان میں رشید دوستم کی سیاسی اور دفاعی حیثیت کافی مستحکم تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ رشید دوستم کے علاوہ حکومت میں شامل دیگر جنگجو سرداروں اور سیاسی رہنماؤں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ لہذا شمالی علاقوں میں ان کے لیے طالبان کے قبضے میں آنے والے علاقے واپس لینا آسان نہیں ہو گا۔

طالبان نے افغانستان کے 34 میں سے 12 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کا دعویٰ کر چکے ہیں اور وہ اب ملحقہ صوبے بلخ کے صدر مقام مزار شریف پر قبضے کے لیے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

افغانستان پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے خیال میں طالبان موجودہ صورتِ حال میں اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں کہ عبدالرشید دوستم جیسے جنگجو سرداروں کی ملیشیا بھی ان کے سامنے زیادہ عرصہ مزاحمت نہیں کر سکے گی۔

ستمبر 1996 میں کابل پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان عسکریت پسندوں نے شمالی افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے کافی کوششیں کی تھی۔ مگر رشید دوستم نے ان کاوشوں کو ناکام بنایا تھا۔

اکتوبر 2001 میں افغانستان پر امریکی افواج کے حملوں کے بعد طالبان عسکریت پسندوں اور ان کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس موقع پر شمالی افغانستان میں جنگ کے دوران دو ہزار سے زیادہ جنگجو گرفتار ہوئے تھے جن میں سے بیشتر رشید دوستم کے وفادار ملیشیا کے قائم کردہ جیلوں میں تھے اور زیادہ تر جیل کنٹینروں میں قائم کی گئی تھیں۔

رشید دوستم کون ہیں؟

رشید دوستم سوویت یونین کی مزاحمت کرنے والے افغان مجاہدین سے برسرِ پیکار افغان حکومت کے واحد کمانڈر تھے جنہوں نے پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی دعوت پر پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔ وہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بھی روس کے سابق صدر بورس یلسن کے محبوب رہے تھے۔

رشید دوستم کا اصل نام عبد الرشید ہے اور ان کا تعلق ازبک قبیلے کے ایک غریب گھرانے سے ہے۔ وہ اپنے ابتدائی ایام میں سرکاری اسکولوں میں حصولِ تعلیم کے ساتھ شبرغان اور مزار شریف کے بازاروں میں محنت مزدوری بھی کرتے تھے۔

بعد ازاں دوستم افغانستان کی سابق سوشلسٹ حکمران جماعت 'پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان' کے دھڑے میں شامل ہوئے اور سابق صدر ببرک کارمل کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد 1980 میں افغان مجاہدین کے خلاف علاقائی اور قومی سطح پر بننے والی ملیشیا فورسز کا حصہ بنے۔

وہ اس جوزجانی ملیشیا کا حصہ تھے جو سابق سوویت یونین سے افغانستان آنے والے فوجی قافلوں اور سامان رسد کو احمد شاہ مسعود کے شورایٔ نظار اور دیگر جنگجوؤں کے حملوں اور لوٹ مار سے بچاتی تھی۔

بعد ازاں رشید دوستم اس وقت اس جوزجانی ملیشیا کے سربراہ بن گئے تھے۔ جب سابق سوویت یونین کی افواج جنیوا معاہدے کے تحت افغانستان سے واپس چلی گئیں تھیں اور افغانستان کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے افغان مجاہدین کے ساتھ معاملات کو راہِ راست پر لانے اور افہام و تفہیم کے لیے قومی مصالحتی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔

اس پالیسی کے تحت افغان جنگجوؤں پر حملے کم کرنے اور رابطے بڑھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس پالیسی سے جنگ کے نتیجے میں بننے والے خود ساختہ کمانڈروں اور فوجی جرنیلوں میں دولت کمانے کی ایک جیسی عادتیں پروان چڑھیں اور بیرونی ممالک اور ان کے وفادار جنگجو کمانڈروں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں شروع کیں۔

رشید دوستم نے سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کو دھوکہ دے کر نہ صرف اقوامِ متحدہ کے امن منصوبے کو ناکام بنایا تھا بلکہ اس دوران کابل میں جوزجانی ملیشیا کو لا کر افغان دارالحکومت میں ایک ہفتے کے دوران اتنی تباہی مچائی تھی جو بعض تجزیہ کاروں کے بقول سابق سوویت یونین کی افواج اور مجاہدین کے درمیان 10 سال جاری رہنے والی جنگ میں بھی نہیں ہوئی تھی۔

بعد ازاں اقوامِ متحدہ کے امن منصوبے کے خلاف احمد شاہ مسعود کا حلیف بننے والا رشید دوستم ایک سال سے بھی کم عرصے میں ان کا حریف بن گیا تھا۔ دوستم کی جماعت 'افغانستان نیشنل اسلامک موومنٹ' اس چار جماعتی اتحاد کا حصہ بن گئی تھی جس نے کابل میں پروفیسر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کی حکومت کو گرانے کے لیے مسلح حملے شروع کر دیے تھے۔

خود ساختہ جنرل رشید دوستم افغانستان کی جنگ و جدل سے بھرپور تاریخ میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بہت نمایاں ہیں۔

سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران وہ نسبتاً دوسرے درجے کے کمانڈر تھے۔ اسی وجہ سے اس عرصے کے دوران ان کے کردار سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ مگر 9/11 کے بعد سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور لوگوں پر تشدد کے حوالے سے ان کا نام مستقل ذرائع ابلاغ کی زینت بنتا رہا ہے۔

طالبان حکومت کے خاتمے پر رشید دوستم کے جنگجوؤں نے ہزاروں طالبان اور ان کے غیر ملکی ساتھیوں کو گرفتار کر کے جوزجان، مزار شریف اور شمالی افغانستان کے دیگر علاقوں کی جیلوں میں قید کر رکھا تھا۔ ان قیدیوں میں سے بہت سے پانی، خوراک اور ادویات نہ ملنے اور تشدد کے باعث ہلاک ہوگئے تھے۔

رشید دوستم پر اپنے کئی با اعتماد اور وفادار ساتھیوں کو حکم عدولی پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ ان افراد میں ان کے آبائی صوبے جوزجان کے گورنر احمد اشحی اور سابق وزیر احمد ذکی قابلِ ذکر ہیں۔ ان دو اعلیٰ عہدیداروں پر ہونے والے تشدد کی بازگشت اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں بھی سنی گئی تھی۔

امریکہ میں 9/11 کے واقعے سے عین قبل احمد شاہ مسعود ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ نائن الیون کے ردِ عمل میں امریکہ کے افغانستان پر حملے اور نتیجتاً طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد رشید دوستم کو ایک بار پھر کابل پر چڑھائی کا موقع ملا۔

رشید دوستم نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو افغانستان میں اقتدار کی سیاست کا ایک اہم جز بنا لیا۔

دوستوں کا دوست، دشمنوں کا دشمن

ویسے تو اقتدار کی سیاست میں اصول اور اتحاد وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں مگر رشید دوستم کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے اصول اور دوستیاں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہیں۔

طالبان حکومت کے خاتمے پر وہ کچھ عرصے تک سابق صدر حامد کرزئی کے قریب رہے تھے۔ مگر بعد میں وہ شمالی اتحاد کی سیاست سے مجبور ہو کر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور یونس قانونی کے ساتھی بن گئے تھے۔

حامد کرزئی کے 11 سالہ اقتدار میں رشید دوستم نے بھی کئی کروٹیں لیں اور اُن کے اقتدار کے خاتمے سے قبل جب ڈاکٹر اشرف غنی نے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا تو رشید دوستم ان کے اتحادی بنے اور انتخابات میں نائب صدر اول منتخب ہو گئے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کمانڈر رشید دوستم کے ہمراہ۔

مگر 2016 میں ان کے ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ ایسے اختلافات پیدا ہو گئے کہ وہ اپنے آبائی صوبے کے گورنر اور اپنے حریف کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے ترکی چلے گئے جہاں سے وہ 2018 میں واپس لوٹے۔

افغانستان واپس آنے پر وہ عملاً نائب صدر کے عہدے سے دست بردار ہو گئے تھے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے 2019 کے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا ساتھ دیا اور انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔

جب امریکہ اور بعض افغان سیاسی رہنماؤں نے ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان صلح کرائی تو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرف سے پیش کردہ صلح کی شرائط میں رشید دوستم کو مارشل کا عہدہ دینا بھی شامل تھا جو بالآخر اب دوستم کو مل گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG