رسائی کے لنکس

امریکہ: مسلسل دوسرے روز 2000 سے زائد اموات، ٹرمپ کا معیشت جلد کھولنے کا اعلان


امریکہ میں ہلاکتیں 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ میں مسلسل دوسرے روز کرونا وائرس کے شکار مزید دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو لاک ڈاؤن ختم کرنے کا منصوبہ پیش کریں گے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اعداد و شمار جمع کرنے والے امریکی ادارے جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار 925 ہو گئی ہے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ منگل کو ہلاکتوں کی یہ تعداد 28 ہزار سے زائد تھی جو بدھ کو بڑھ کر 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ملک کی معیشت کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے جمعرات کو ایک منصوبہ بھی پیش کریں گے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور نئے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ کرونا وائرس سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

امریکی یونیورسٹی میں کرونا وائرس ویکسین کے تجربات
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:50 0:00

جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں چھ لاکھ 38 ہزار 111 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 32 لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہونے والے نقصان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نئے کیسز کی تعداد عروج پر ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے ہماری جارحانہ حکمت عملی کام کر رہی ہے اور یہ جنگ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بعض ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں کمی کی گائیڈ لائنز کا اعلان کریں گے جس کا اطلاق ممکنہ طور پر رواں ماہ کے آخر میں ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے نیوز بریفنگ کے دوران ایک مرتبہ پھر عالمی ادارہ صحت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ چین میں پہلی مرتبہ وائرس کی نشاندہی ہونے کے بعد عالمی ادارے نے اسے چھپانے کی کوشش کی جس کی نتیجے میں فرانس، اٹلی اور اسپین اس کی زد میں آئے جو اس وائرس سے لاعلم تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ملکوں کا بھی اعتماد پر عالمی ادارۂ صحت پر ہی تھا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کو عالمی ادارۂ صحت کی امداد روکنے کا اعلان کیا تھا جسے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نامناسب قرار دیا تھا۔

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کو خطرناک اقدام قرار دیا تھا جب کہ چین اور ایران نے اس کی مذمت کی تھی اور روس نے اسے خود غرض اعلان قرار دیا تھا۔

یورپ میں پابندیوں میں نرمی

کرونا وائرس کے شکار ہونے والے بعض یورپی ملک پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے معمولاتِ زندگی بحال کر رہے ہیں۔

ڈنمارک نے اسکولوں کی ایک ماہ کی بندش ختم کرتے ہوئے بڑے بچوں کے لیے اسکول کھول دیے جب کہ فن لینڈ نے دو ہفتوں کے بعد ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے۔

یورپی ملکوں کی طرح دیگر ملکوں نے بھی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ ایران چھوٹے کاروبار کو کھولنے جا رہا ہے جب کہ بھارت نے دیہی علاقے کے لوگوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اسی طرح پاکستان نے بھی کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باوجود بعض صنعتوں کو کھول دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG