رسائی کے لنکس

افغان صدارتی الیکشن کے نتائج، امریکہ کا شکایات پر شفاف فیصلے کرنے پر زور


صدارتی انتخاب میں تصویر میں دائیں جانب موجود اشرف غنی نے 50 فیصد ووٹ حاصل کیےہیں جبکہ بائیں جانب موجود عبداللہ عبداللہ 39 فی صد ووٹ حآصل کر سکے ہیں تاہم انہوں نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے — فائل فوٹو

امریکہ کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے افغانستان کے انتخابی شکایات کے کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے صدارتی انتخابات سے متعلق تمام شکایات کا شفاف انداز میں فیصلہ کرے۔

امریکی سفارت کار کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 2019 کے افغان صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے بعض امیدواروں نے اتوار کو جاری ہونے والے نتائج کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے جب کہ عبد اللہ عبداللہ نے نتائج مسترد کر دیے ہیں۔

انتخابی شکایات کمیشن نے صدارتی امیدواروں کی شکایات کے اندراج کا عمل شروع کر دیا ہے۔

امریکہ کی نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے ایک ٹوئٹ میں افغانستان کے مشکل حالات میں الیکشن کمیشن کے فرائض کی ادائیگی کو سراہا ہے۔

ایلس ویلز کے بقول یہ ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ افغان عوام کی اکثریت اس الیکشن میں ووٹ کا استعمال نہیں کر سکے ہیں۔ اس لیے جو بھی اس انتخاب میں حتمی طور پر کامیاب ہو وہ اس بارے فوری طور پر ایسے ٹھوس اقدامات کرے گا۔

افغانستان میں تعینات امریکی سفیر جان باس نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ تمام افغانوں کو یہ باور رہے کہ یہ ابتدائی نتائج ہیں۔ حتمی نتائج کی تصدیق کے لیے بہت سے اقدامات کرنا ابھی باقی ہیں۔ جن پر افغان عوام کو اعتماد ہو گا۔

گزشتہ پانچ سال چیف ایگزیکٹیو رہنے والے عبداللہ عبداللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ جعلی ووٹوں کے بارے میں ان کو تحفظات کو دور نہیں کیا گیا تو وہ انتخابی نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔

عبداللہ عبداللہ انتخابی عمل کے آغاز سے ہی تین لاکھ ووٹ جعلی ہونے کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں جبکہ ایک اور صدارتی امیدوار شہاب حکیمی نے دیگر 9 صدارتی امیدواروں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی شکایات کمیشن کے پاس شکایات کا اندارج نہیں کروائیں گے اور بطور احتجاج اس عمل کا بائیکاٹ کریں گے۔

افغان صدر اشرف غنی نے ابتدائی نتائج کے اعلان کے بعد اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ان کی ٹیم بھی انتخابی شکایات کمیشن کے پاس اپنی شکایات کا اندراج کرائے گی۔

اقوام متحدہ نے افغان صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز انتخابی عمل کو مکمل کرنے کے لیے آخری مراحل کو قابل اعتماد بنانے کے عزم کا اظہار کریں۔

غیر سرکاری ادارے ’فری اینڈ فیئر الیکشن فورم آف افغانستان‘ سے وابستہ یوسف رشید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی نتائج کے بعد یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک امیدوار اس پر خوش اور مطمئن ہو۔

یوسف رشید کے بقول شکایات ابتدائی نتائج کے اعلان کے تین روز کے اندر کمیشن کے پاس درج کروائی جا سکتی ہیں۔ جس پر الیکشن قوائد ضوابط کے تحت فیصلے سنانے کا مجاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے شکایات کمیشن سے توقع ہے کہ وہ آزادانہ طریقے سے غیر جانب دار رہتے ہوئے امیدواروں کی شکایات کا ازالہ کرے گا۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے بھی توقع کا اظہار کیا کہ وہ اپنی شکایات سے کمیشن کو باقاعدہ طریقے کار کے مطابق آگاہ کریں گے اور سیاسی جماعتیں کسی طور بھی کمیشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کریں گی۔

یاد رہے کہ 2019 کے صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج کے مطابق اشرف غنی دوسری مدت کے یے اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے ابتدائی نتائج کو تسلیم کرنے سےانکار کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے رواں سال 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان اتوار کو کیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق صدر اشرف غنی نے 50.64 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے 39.52 ووٹ حاصل کیے۔

پاکستان نے افغان صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان کے بیان کے مطابق پاکستان افغانستان میں جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے۔ افغان صدارتی انتخاب کی تکمیل افغانستان اور جنوبی ایشیا کے سیاسی استحکام کی طرف اہم قدم ہوگا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG