رسائی کے لنکس

کرکٹ ورلڈ کپ میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی کا استعمال


کرکٹ ورلڈ کپ میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
کرکٹ ورلڈ کپ میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

کرکٹ عالمی کپ 2011ء بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بیک وقت ہفتہ سے شروع ہورہا ہے جس کا شائقین کرکٹ بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔

دسویں ورلڈ کپ میں امپائر کے غلط فیصلوں کے باعث میچ کے کسی ناخوشگوار نتیجے سے بچنے کے لیے پہلی بار ڈی ایس آر یعنی فیصلے کا از سرنو جائزہ لینے کا نظام متعارف کروایا جارہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسے بے شمار اقدامات کیے گئے ہیں جس سے ممکنہ طور پر فیلڈ امپائروں کے غلط فیصلوں کا سد باب ہوسکے ۔

تاہم حال ہی میں متعارف کروائے گئے ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ صرف سیمی فائنلز اور فائنل مقابلوں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں ایکس رے فلم کی طرح گیند کے نشان کو چیک کیا جاتا ہے کہ آیا وہ بلے باز کے پیڈ یا بیٹ سے ٹکرائی ہے یا نہیں ۔

کرکٹ ورلڈ کپ میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
کرکٹ ورلڈ کپ میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

اسی طرح پاکستان اور انگلینڈ کے مابین لارڈز میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں مئی 2001ء میں ایک ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی جسے ’ہاک آئی‘کا نام دیا گیا۔ یہ ٹیکنالوجی ٹینس میں بھی استعمال کی جارہی ہے۔ اس میں زمین سے ٹکرانے کے بعد گیند کی سمت دکھائی جاتی ہے۔

دریں اثناء کرکٹ کی عالمی تنظیم نے چودہ ملکوں کی ٹیموں کے کپتانوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے پیش روؤں کی نسبت امپائروں کی مضحکہ خیز غلطیوں سے زیادہ محفوظ اندازمیں کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے میدان میں اتریں گے۔آئی سی سی کا ماننا ہے کہ اس میگا ایونٹ میں ڈی ایس آرکا استعمال اچھا رہے گا۔

تنظیم کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ کا کہنا ہے کہ ”ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی غلطی نتیجے پر اثرات انداز ہو اور اکثریت کا خیال یہی ہے کہ کسی واضح غلطی سے بچنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو ورلڈ کپ میں استعمال کیا جانا چاہیے“۔

اس ٹیکنالوجی کو بعض کھلاڑیوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی ہے لیکن عالمی کپ میں ہر ٹیم کو ایسے دو مواقع ملیں گے جب وہ فیلڈ امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرکے تبدیل کرواسکیں گے۔

XS
SM
MD
LG