رسائی کے لنکس

logo-print

جہانگیر ترین: استاد، بینکر، کاشت کار اور 'جوڑ توڑ' کی سیاست کا ماہر


جہانگیر ترین ایک سیاست دان، ایک صنعت کار، ایک جاگیردار، ایک استاد، ایک بینکر -- آخر ایک ہی شخص میں اتنی خصوصیات کیسے پائی جا سکتی ہیں؟ لیکن پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین ان سب خصوصیات کے مالک بتائے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس وقت وہ اپنی ہی جماعت، یعنی تحریک انصاف میں ہی ایک نیا گروپ بنا کر عمران خان کے لیے خطرے کا باعث بنتے جارہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جہانگیر ترین کے اس گروپ کو کسی طرف سے گرین سگنل ملا، تو، بقول ان کے، یہ گروپ حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

جہانگر ترین ہیں کون؟

جہانگیر ترین کے والد اللہ نواز ترین پولیس افسر تھے اور سابق صدر ایوب خان کے دور میں ان کے نام کا بہت چرچا رہا۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق تربیلا کے علاقہ سے تھا۔ لیکن ڈیم کی زد میں زمینیں آنے پر انہیں لودھراں میں زمین الاٹ کی گئی اور اللہ نواز ترین اس زمین پر کاشتکاری کرتے رہے۔

جہانگیر ترین نے سال 1974 میں امریکہ کی نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک دن بھی امریکہ میں رہنے کا نہیں سوچا اور جیسے ہی میری ڈگری مکمل ہوئی میں نے واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا۔

پاکستان میں آکر جہانگیر ترین نے بطور استاد پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ لیکن والد کی خواہش کے پیش نظر ایک بینک میں ملازمت اختیار کرلی۔ لیکن ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر صبح سے شام تک کام کرنا جہانگیر ترین کو قبول نہ تھا۔ لہٰذا، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے یہ کام بھی چھوڑا اور لودھراں میں اپنے والد کے پاس جا کر کہا کہ وہ کاشتکاری کریں گے۔

کاشتکاری جہانگیر ترین کا پسندیدہ شوق رہا اور پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کا سب سے پہلے ٹرینڈ دینے والے بھی جہانگیر ترین ہی ہیں۔ انہوں نے اپنے لودھراں میں چار سو ایکڑ زمین پر کاشتکاری شروع کی اور جدید انداز میں جدید مشینوں کے ذریعے کئی گنا زیادہ پیداوار حاصل کی۔ اس دوران لودھراں کے قریبی علاقوں میں فوجی افسران کو بنجر زمین الاٹ کی جاتی تھی جس پر کام کرنا انتہائی مشکل ہوتا تھا۔ جہانگیر ترین نے سستے داموں اس زمین کو خریدا اور اپنی جدید تکنیک سے کامیابی حاصل کی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اردگرد کے علاقوں میں ٹھیکے پر زمین حاصل کرنا شروع کی اور بعد میں کئی مقامات پر انہی زمینوں کو منہ مانگی قیمت پر خرید کر اپنے زرعی رقبے کو بڑھاتے رہے۔

زمینوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ان پر کئی الزامات بھی لگے اور بعض مقدمات عدالتوں میں بھی ہیں۔ لیکن، جہانگیر ترین نے بیشتر معاملات کو اپنے پیسے کے زور پر آسانی سے حل کیا اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے زمینوں کی خریداری کرتے رہے اور ان پر جدید تکنیک کی مدد سے کئی گنا منافع حاصل کرتے رہے۔ بلاشبہ اس میں ان کی انتھک محنت اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا۔

جہانگیر ترین نے جنوبی پنجاب میں گنے کی کاشت زیادہ کی اور سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ پورے ملک میں پیدا ہونے والی چینی کا 15 فیصد صرف جہانگیر ترین کی زرعی امپائر سے پیدا ہوتا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ جہانگیر ترین نے مائننگ سمیت حصص خریداری، بنکوں میں سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور ہر جگہ پر جدت اور سرمایہ کاری کا بہتر استعمال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مٹی میں ہاتھ ڈالیں تو سونا بن جاتا ہے اور جہانگیر ترین اسی انداز میں کامیابی حاصل کرتے رہے۔

سیاست میں انٹری

جہانگیر ترین کامیاب کاروباری اور کاشتکار تو تھے ہی لیکن اب ایک اور شعبے میں وہ اپنی مہارت ثابت کرنا چاہتے تھے۔ وہ شعبہ سیاست کا تھا جس میں آنے کے لیے ان کے کاروباری تعلقات ہی کام آئے اور شہباز شریف نے انہیں اپنی حکومت میں سب سے پہلے زرعی ٹاسک فورس کا سربراہ لگا دیا۔ اگرچہ انہیں سیاست میں لانے والے شہباز شریف تھے لیکن وہ عملی اور انتخابی سیاست سے دور رہے ۔ تاہم، سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا اور مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر لودھراں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔ ق لیگ کی حکومت میں انھیں وفاقی وزیر بنایا گیا اور شوکت عزیز کے وزیر صنعت و پیداوار بن گئے۔ ان پر الزام لگانے والے کہتے ہیں کہ زراعت کے محکموں کی سربراہی میں ان کے اپنے زرعی فارمز اور وزیر صنعت و پیداوار کے طور پر ان کی اپنی صنعتوں نے خوب ترقی کی۔ لیکن جہانگیر ترین ان باتوں کا جواب دیے بغیر آگے بڑھتے رہے۔

سال 2008 میں وہ ایک بار پھر قومی اسمبلی میں آئے۔ لیکن اس دور میں وہ خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے اور اپنے کاروبار کی نگرانی ہی کرتے رہے کہ سال 2011 میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ پاکستان تحریک انصاف طاقت کے مراکز میں اپنی اہمیت تسلیم کروا رہی تھی اور ایسے میں جہانگیر ترین کا عمران خان کا ساتھ دینے کا اعلان ان حلقوں اور خود پی ٹی آئی کے لیے بہت خوش آئند رہا۔

ان کے بارے میں سال 2015 میں جسٹس وجیہہ الدین نے الزام عائد کیا کہ جہانگیر ترین پیسے کی سیاست کے ذریعے آگے آئے ہیں۔ لیکن ان کی بات کو کسی نے بھی اہمیت نہیں دی، جس پر انہوں نے خود ہی تحریک انصاف سے الگ ہونا بہتر سمجھا۔

جہانگیر ترین سیاست میں اپنا سفر تیزی سے طے کرتے رہے اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدہ تک جا پہنچے۔ ایک وقت میں اکیلے جہانگیر ترین ہی عمران خان کے بعد سب سے اہم تھے، جنہیں پارٹی کا نمبر ٹو کہا جاتا تھا۔

سیاست سے نا اہلی

جہانگیر ترین کو سیاست تو آتی تھی، لیکن عدالتی راہداریوں اور بعض اپنوں کی مخالفت کے باعث جہانگیر ترین انتخابی سیاست کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سےنا اہل ہوگئے اور یہی وہ وقت تھا جب پاکستان تحریک انصاف میں ان کا زوال شروع ہوا۔ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ چلنے کی خواہش رکھنے والے جہانگیر ترین کو اپنی حکومت میں شامل بعض افراد کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جہانگر ترین اپنی شخصیت کو بہت سنبھال کر آگے بڑھتے رہے۔ ایک استاد، ایک بینکر، ایک صنعت کار اور ایک کامیاب کاشتکار کے طور پر انہوں نے بہت کامیابیاں حاصل کیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے پاکستان میں موجد وہی ہیں۔ انہوں نے مختلف صنعتیں لگائیں اور اپنے عزیز و اقارب کی بھی امپائر کھڑی کی۔ جہانگیر ترین بہت زیادہ ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں انہوں نے اپنی دولت کی مدد سے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے جہاز کا بہت استعمال ہوا یہ سب ان کی سیاسی سوجھ بوجھ کی نشانیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب عمران خان وزیراعظم بنے تو حکومت کے اندر دو لابیاں بن گئیں۔ ان میں سے ایک اعظم خان، اسد عمر اور شہزاد اکبر کا ایک گروپ ان کے خلاف ہوگیا اور انہوں نے ان کی نمبر ٹو حیثیت کو چیلنج کیا اور انہیں نکلوانے میں کامیاب رہے۔

Tareen
Tareen

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے ہم خیال بلاک کے پہلے محدود سیاسی عزائم ہیں اور صرف انتقامی کارروائیوں سے بچنے کے لیے یہ گروپ بنایا جارہا ہے۔ لیکن اب جو اقدامات ہو رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ اس گروپ کو اپنی اگلی سیاست کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بقول ان کے، میرا خیال ہے کہ وہ ملکی صورتحال کا جائزہ لیکر اقدام کریں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ عمران خان سے براہ راست ٹکر نہ لیں۔ لیکن اگر ان کو کہیں سے گرین سگنل مل گیا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گروپ کی مدد سے عمران خان کو بھی چیلنج کریں اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ بھی لیں۔

ترین ہم خیال گروپ

جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کے کیسز بننے کے بعد ان کی طرف سے گلوں شکوؤں کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف میں ہم خیال گروپ بن گیا ہے اور 32 ارکان صوبائی اسمبلی اور 8 ارکان قومی اسمبلی کا یہ گروپ پاکستان تحریک انصاف کی مشکلات بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

اس گروپ کے حوالے سے جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ نیا نہیں ہے، یہ صرف پنجاب حکومت کی، ان کے بقول، انتقامی کارروائیوں پر آواز اٹھانے کے لیے بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ٹوٹی نہیں اور کوئی فاروڈ بلاک نہیں بنا، ہم حکومت کے ساتھ ہیں۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پنجاب حکومت نے ہمارے لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں، افسران کے تبادلے شروع ہوگئے، اس دباؤ کے نتیجے میں لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی آواز پنجاب اسمبلی میں اٹھائیں گے کیونکہ، بقول ان کے، اس کی تمام ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''پنجاب حکومت سے کہوں گا کہ اپنی کارروائیاں بند کریں اور ہمارے گروپ کا خیال کریں، یہ آپ کے ہی لوگ ہیں اس حکومت کے وجود میں ہمارے لوگوں کا بھی حصہ ہے۔ لہٰذا، ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں بند ہونی چاہئیں''۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ابھی تک جہانگیر ترین اپنے گروپ کے حوالے سے صرف پنجاب حکومت کی کارروائیوں اور ایف آئی اے کے کیسز پر بات کر رہے ہیں، لیکن اگر صورتحال ایسی ہی رہی اور اگر مزید دباؤ ڈالا گیا تو بات اس سے آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔ بقول ان کے، اگر انہیں کسی طرف سے گرین سگنل ملا تو یہ گروپ حکومت کے لیے مشکلات بڑھانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG