رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کب اور کیسے کام کرے گا؟


(فائل فوٹو)

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے حکام کا کہنا ہے جنوبی اضلاع میں الگ انتظامی ڈھانچے کے قیام کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جنوبی پنجاب میں الگ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔

پنجاب 10 کروڑ سے زائد آبادی والا صوبہ ہے، جہاں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات عرصہ دراز سے کیے جاتے رہے ہیں۔ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات سے قبل پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

پنجاب کے چیف سیکریٹری کیپٹن (ر) اعظم سلیمان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے قیام کے لیے فنڈ مختص کر دیا گیا ہے۔ سیکریٹریٹ میں افسران کی تعیناتیاں رواں سال یکم اپریل 2020 جب کہ سیکریٹریٹ باقاعدہ طور پر رواں سال یکم جولائی سے کام شروع کر دے گا۔

اعظم سلیمان کا مزید کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بنانے کے لیے دو کمیٹیاں بنائی گئیں تھیں۔ اِنہی کمیٹیوں کے سربراہوں نے طے کیا کہ پہلے مرحلے میں کون کون سے محکموں کے دفاتر وہاں بنائے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا دفتر بہاولپور، جبکہ ایڈیشنل آئی جی پولیس کا دفتر ملتان میں بنایا جائے گا۔

کون کون سے دفاتر قائم ہوں گے؟

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم سلیمان نے بتایا کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں ایک ایڈیشنل آئی جی اور ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا دفتر ہو گا۔ جن کے ماتحت دیگر محکمے کام کریں گے۔ اِن محکموں کے اسپیشل سیکریٹری صاحبان جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں کام کریں گے۔

اعظم سلیمان کے مطابق محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، محکمہ فنانس، محکمہ داخلہ، محکمہ بورڈ آف ریونیو، محکمہ بلدیات، محکمہ زراعت، محکمہ خوراک، محکمہ پرائمری ہیلتھ، محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ، محکمہ ہائیر ایجوکیشن، محکمہ جنگلات، محکمہ آبپاشی، محکمہ کمیونیکشن اینڈ ورکس اور محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفاتر وہاں قائم کیے جائیں گے۔

ان کے بقول اِن تمام محکموں کے پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ جو ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے ماتحت کام کریں گے۔

پنجاب اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے قراردادیں منظور کی جاتی رہی ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے قراردادیں منظور کی جاتی رہی ہیں۔

پنجاب کے چیف سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کا بھی جنوبی پنجاب میں پورا ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔

جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ قائم ہونے کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس، جنوبی پنجاب میں کام کرنے والے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کو اپنے کچھ اختیارات تفویض کر دیں گے تاکہ لوگوں کو کام کے لیے لاہور نہ آنا پڑے۔

جنوبی پنجاب کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ گلہ تھا کہ اُنہیں اپنے کاموں کے لیے سیکڑوں میل کا فاصلہ طے کر کے لاہور آنا پڑتا ہے۔

آسامیاں کتنی ہوں گی؟

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ قائم کرنے کے لیے دو چیزوں کا تعین کرنا بہت ضروری تھا۔ جن میں مجموعی اخراجات اور کل آسامیاں شامل تھیں۔ جس کے تعین کے لیے دو ٹیمیں بنائی گئیں۔ ایک کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری تھے اور دوسری کمیٹی کے سربراہ ایک محکمے کے سیکریٹری تھے۔ جنہوں نے ایک منصوبہ بنا کر دیا کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں کتنی آسامیوں کی ضرورت ہو گی۔

چیف سیکریٹری پنجاب کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ قائم ہونے کے بعد فی الحال کچھ آسامیوں پر لاہور سے تبادلے کیے جائیں گے۔

اُن کے بقول تقریباً 1350 آسامیوں کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جن میں سے کچھ پہلے سے موجود اسٹاف سے بھرتیاں کی جائیں گی جب کہ کچھ پر نئی بھرتیاں ہوں گی۔

اخراجات کتنے ہوں گے؟

اعظم سلیمان کے مطابق جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ رواں سال یکم جولائی سے کام شروع کر دے گا۔ ان کے بقول سیکریٹریٹ کے قیام میں ساڑھے تین ارب روپے لگے گے۔ البتہ اِن اخراجات میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی تعیناتیاں اپریل کے پہلے ہفتے میں ہو جائیں گی۔

اُن کے بقول اختیارات کی تقسیم، منتقلی اور بجٹ کی منظوری بھی ابتداً یہ افسران ہی دیں گے۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ

چیف سیکرٹری پنجاب سمجھتے ہیں کہ رواں سال کے بجٹ پر جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے باعث کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کا بجٹ پہلے ہی 35 فی صد مختص ہے اور وہی محکمے ہیں۔ جو اِس پر کام کر رہے ہیں اور بجٹ کی شفاف تقسیم کو یقینی بنا رہے ہیں۔

ان کے بقول وہاں کی جتنی بھی افرادی قوت اور آبادی ہے۔ بجٹ کو صرف اُس کے مطابق خرچ کرنا ہے۔ وہاں جو سیکریٹریٹ بننا ہے اُس کے لیے رقم اِس سال بھی رکھی گئی ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی رکھی جائے گی۔

الگ صوبہ کب بنے گا؟

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کہتے ہیں کہ اُنہیں معلوم ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس پنجاب میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ جس کے باعث ہماری حکومت الگ صوبہ بنانے کے لیے قانون سازی نہیں کر سکتی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ الگ صوبے کے قیام کے لیے اتفاق رائے کی کوشش کریں گے۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ ساری سیاسی جماعتیں الگ صوبے کی حمایتی ہیں۔ لہذٰا اتفاق رائے میں کوئی دُشواری نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرینسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کی رائے میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا تعلق انتخابی سیاست سے ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 'جنوبی پنجاب محاذ' کے نام سے ایک دھڑا الگ صوبے کے وعدے پر تحریک انصاف میں شامل ہوا تھا۔ تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں بھی یہ وعدہ شامل تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے احمد بلال محبوب نے کہا کہ اب چونکہ پاکستان تحریک اںصاف کی حکومت کو قائم ہوئے دو سال پورے ہونے کو ہیں اور صوبہ بنانے کی تجویز پر کوئی کام نہیں ہوا۔ لہذٰا اُنہوں نے سوچا کہ صوبہ بنانے کے لیے اُن کے پاس ایوان میں عددی اکثریت نہیں ہے۔ لہذا الگ سیکریٹریٹ بنا دیا جائے۔

احمد بلال سمجھتے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبے پر پی ٹی آئی کے وعدوں اور الگ صوبہ بنانے کی آوازیں اٹھنے پر اُنہوں نے دو کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اول یہ کہ وہ عوام کو یہ بتا سکیں کہ اُنہوں نے تو صوبہ بنانے کے لیے اسمبلی کے اندر بل پیش کیا۔ لیکن ان کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں تھی اور کچھ لوگوں کی مخالفت کے باعث الگ صوبہ نہیں بن سکا۔

دوسرا یہ کہ جو کم از کم وہ کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ ایک سیکریٹریٹ قائم کر رہے ہیں تا کہ لوگوں کو الیکشن سے پہلے کے کیے جانے والے وعدے پر کچھ بتایا جا سکے۔

ان کے بقول الگ سیکریٹریٹ بنانے سے عملی طور پر فائدہ بہت کم ہو گا۔ بیورو کریسی بڑھ جائے گی، اُس کے اخراجات بھی بڑھ جائیں گے۔

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ "میرے خیال میں یہ ایک غلط فیصلہ ہے۔ اگر صحیح معنوں میں آپ کو اختیارات کو نچلی سطح تک لے جانا ہے تو مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے۔ ایڈیشنل آئی جی کے وہاں بیٹھنے سے جرائم کی شرح میں کمی واقع ہونے کے امکانات کم ہیں۔"

مبصرین کے مطابق جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے قیام سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بلکہ یہ ایک قسم کا آئینہ ہو گا۔ جس سے عوام کو یہ دکھایا جا سکے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کام کیا اور جنوبی پنجاب کے سیاست دان بھی اپنی حلقے کی عوام کو بتا سکیں کہ اُنہوں نے الگ صوبہ بنانے کی کوشش کی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں 11 مارچ کو بل پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اِس پر دوسری سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر کے اُن کی تائید حاصل کرے گی۔

جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لیے ماضی کی دو حکمران جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی بل پیش کر چکی ہیں۔ لیکن بات اِس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کو ایک الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہے۔ جب کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ اور بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG