رسائی کے لنکس

logo-print

'جے شری رام' اور پاکستان


مغربی بنگال کے بردھامن ایسٹ ضلع میں پولنگ کا ایک منظر

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سربراہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ اگر ہندو دیوتا ’رام‘ کا نام بھارت میں نہیں لیا جا سکتا تو کیا یہ نام پاکستان میں لیا جائے گا؟

بھارت میں قومی انتخابات میں پولنگ کا سلسلہ جاری ہے اور بی جے پی سمیت تمام سیاسی جماعتیں بنگال میں پوری قوت کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور کلیدی سیاسی شخصیات میں لفظوں کی نوک جھونک بھی جاری ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور آل انڈیا ترینامول کانگریس کی صدر ممتا بینرجی کی ایک ویڈیو گزشتہ دنوں سماجی رویوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہو گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ممتا بینر جی مغربی مدناپور ضلع میں انتخابی مہم کے دوران اپنی گاڑی سے نکل کر غصے میں کچھ لوگوں کی طرف بڑھیں جو ’جے شری رام‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس کے ردعمل میں کہا کہ مغربی بنگال میں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور عوامی جگہوں پر یہ نعرہ لگانا جرم قرار دیا جا رہا ہے۔

نریندر مودی کی اس تنقید کے ایک روز بعد بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے ممتا بینر جی سے سوال کیا کہ اگر ’رام‘ کا نام بھارت میں نہیں لیا جائے گا تو کیا یہ پاکستان میں لیا جائے گا؟

ان الزامات کے جواب میں ممتا بینر جی کا کہنا تھا کہ ’جے شری رام‘ کا نعرہ بی جے پی کا نعرہ ہے اور بی جے پی اپنی انتخابی مہم کے دوران لوگوں کو یہ نعرہ لگانے پر مجبور کر رہی ہے۔ اُنہوں نے بی جے پی کے رہنماؤں سے سوال کیا کہ کیا رام چندر انتخابات میں بی جے پی کے الیکشن ایجنٹ ہوں گے؟

بی جے پی اور ممتا بینر جی کی آل انڈیا ترینامول پارٹی (ٹی ایم سی) مغربی بنگال میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور اس مہم میں خود نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ تاہم ممتا بینر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ جب 23 مئی کو انتخابات کے نتائج سامنے آئیں گے تو بی جے پی کو سخت شرمندگی اُٹھانی پڑے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG