رسائی کے لنکس

کیا پاکستان اور بھارت میں تنازع کشمیر مذاکرات سے حل کرنے کا وقت آ گیا ہے؟


فائل فوٹو

بھارت نے کہا ہے کہ ​کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات اسی صورت میں ممکن ہیں، جب پاکستان دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے باز آجائے گا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستوا نے نئی دہلی میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارت کا مؤقف سب پر واضح ہے۔ نئی دہلی پاکستان کے ساتھ دہشت، دشمنی اور تشدد سے پاک ماحول میں معمول کے تعلقات رکھنے کا خواہاں ہے۔ اس طرح کا ماحول پیدا کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ پاکستان فریقین کے مابین کشمیر جیسے اہم مسئلے سمیت تمام تصفیہ طلب امور کو پُر امن طریقے سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن اس کے لیے بھارت کو موزوں اور موافق ماحول بنانا ہو گا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اُس بیان پر ردِ عمل ظاہر کر رہے تھے جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو کشمیر کے مسئلے کو باوقار اور پُر امن طریقہ سے حل کرنا چاہیے ۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سب کی طرف امن کا ہاتھ بڑھایا جائے: جنرل قمر جاوید باجوہ

منگل کو خیبر پختونخوا میں اصغر خان اکیڈمی میں منعقدہ فضائیہ کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو اس دیرینہ معاملے کو کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جس نے علاقائی اور عالمی امن کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان باہمی احترام اور پُر امن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے لیے پُر عزم ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سمت امن کا ہاتھ بڑھایا جائے۔

بھارت - پاکستان تعلقات پر کشیدگی غالب

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات شروع ہی سے اتار چڑھاوٴ کا شکار رہے ہیں جن میں اکثر کشیدگی غالب رہی ہے۔

دونوں ممالک میں تمام اہم امور پر مذاکرات 2016 میں بھارتی پنجاب میں پٹھانکوٹ میں فضائیہ کے ایک ٹھکانے پر کیے گئے دہشت گرد حملے کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

ستمبر 2016 میں نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں اوڑی کے علاقے میں واقع بھارت کی فوج کی 21 انفنٹری بریگیڈ کے صدر دفاتر پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے میں 19 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے ردِ عمل میں بھارت کی فوج نے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو سرجیکل اسٹرائیک کرکے شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسلام آباد نے ایسی کسی بھی کارروائی کی تردید کی تھی۔

فروری 2019 میں جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں بھارت کی وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف پر ایک خود کُش حملہ ہوا جس میں 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت نے اس حملے کے لیے بھی پاکستان کو موردِ الزام ٹھیرایا تھا اور دو ہفتے بعد فضائیہ کے جنگی طیاروں نے خیبر پختونخوا کے علاقے بالا کوٹ میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بھارت کے ذرائع ابلاغ نے اس حملے میں 300 دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر دی تھی جسے پاکستان کی حکومت نے جھوٹ کا قرار دیا تھا اور مقامی ذرائع نے بھی اس کی تردید کی تھی۔

جنگ کے خدشات

ان واقعات نے دونوں ممالک کے تعلقات پست سطح تک پہنچا دیے اور ان کے درمیان جنگ کے خدشات جنم لیتے رہے۔

اس صورتِ حال کے بدلنے، کشمیر کے پیچیدہ مسئلے پر مذاکرات کا عمل شروع ہونے اور کشمیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہونے کے بارے میں دونوں ملکوں میں عوامی سطح پر متضاد آرا موجود ہے۔ خود کشمیر میں لوگ اس سلسلے میں زیادہ پُر امید نہیں ہیں۔

مسئلے کا حل کچھ لو،کچھ دو کی بنیاد پر ممکن

یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبۂ سیاسیات کے سابق پروفیسر ڈاکٹر نور احمد بابا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگر ہم کشمیر کے مسئلے کے دائمی حل کی بات کریں تو یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

ان کے بقول دونوں ممالک کشمیر پر متضاد اور یکسر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ بہرحال جب اس طرح کے پیچیدہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی نوبت آئے گی تو ایسا کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہی ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک میں سے کوئی ایک ملک بھی کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو بدلنے پر تیار نہیں ہو گا۔ پاکستان یا بھارت میں سے کوئی بھی اس پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ان کے مطابق درمیان کا راستہ نکلنے کا امکان موجود ہے۔ تاہم اس میں کشمیریوں کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ اگر انہیں بااختیار بنایا جاتا ہے اور کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان آنا جانا آسان بنایا جاتا ہے تو راستے آسان بنتے جائیں گے۔

پروفیسر نور احمد بابا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے پیش کردہ فارمولے کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فارمولے میں کمی بیشی ہو سکتی ہے جنہیں دور کیا جا سکتا ہے۔ طرفین کے درمیان سرحدوں کو تبدیل کیے بغیر اس مسئلے کو پُر امن طور پر حل کرنے کی گنجائش ہے اور اس سلسلے میں مشرف فارمولا کو بنیاد بنا کر کشمیر کے دونوں حصوں میں بسنے والے لوگوں کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق دونوں جانب سفر اور تجارت کو آسان بنا کر مراسم اور رشتے مستحکم بنائے جا سکتے ہیں۔

لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنایا جائے

بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی 'را' کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کا، جو کشمیر اور بھارت - پاکستان تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں، کہنا ہے کہ مشرف فارمولا بھارت کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گا اور پاکستان کی طرف سے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو مستقل سرحد بنا کر کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اگر کہتے کہ کشمیر کا معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تو وہ بھی ایک اچھی بات ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کشمیر پر پاکستان کی مرضی محدود ہو کر رہ گئی ہے اسے جو کرنا تھا اس نے کر لیا اور اس میں وہ ناکام رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل پرویز مشرف کا چار نکات پر مشتمل فارمولا اب نہ پاکستان کے لیے قابلِ قبول ہے اور نہ بھارت اس کو ماننے کے لیے تیار ہے۔ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک اچھا نقطۂ آغاز ہو سکتا ہے۔ دونوں کو اس معاملے کو معقول طریقے سے دیکھنا ہو گا۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ با رہا یہ کہہ چکے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کو مستقبل سرحد بنا کر کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں کہ تو انہوں نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ جو پاکستان کے پاس ہے وہ اُس کے پاس رہے اور جو بھارت کے پاس ہے اُس پر اسے مکمل اختیار حاصل ہو۔

'بھارت مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے'

بھارت کے لیے پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبد الباسط کا کہنا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حقِ خود ارادیت کے اصول پر کشمیر کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہی حل کرنا ہو گا اور یہی حل پاکستان کے لیے بھی قابلِ قبول ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کا وقت تو بہت پہلے تھا۔ یہ 1947 ہی میں حل ہونا چاہیے تھا۔ اب اگر پاکستان نے اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا بھارت بھی اس کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ ان کے بقول بھارت اس کے لئے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے اگر تیار ہو بھی جاتا ہے۔ تو وہ اس مسئلے کو اپنی شرائط پر حل کرانے کی کوشش کرے گا اور وہ شرائط ہمیں معلوم ہیں۔ اس لیے ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں اس مسئلے کو دوطرفہ بات چیت کےذریعے حل کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش تیز کرے گا۔

عبد الباسط کے بقول بھارت پاکستان کے لیے بلوچستان میں، افغانستان کے راستے اور سی پیک کے حوالے سے مسلسل مسائل پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے نئی دہلی پر الزام لگایا کہ وہ مسلم اکثریتی کشمیر میں آبادیات کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں پہلے ہی وہاں تقریباً 34 لاکھ ڈومسائل جاری کر چکا ہے۔

ان کے مطابق بھارت سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ کشمیر کے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر تیار ہو۔

عبد الباسط نےکہا کہ اس صورتِ حال میں کشمیر پر تیسری پارٹی کی ثالثی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے امریکہ کی نئی انتظامیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور در پردہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہیے۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG