رسائی کے لنکس

عراق میں ملک گیر احتجاج کو ایک برس گزر گیا، ملک میں کیا بدلا؟


فائل فوٹو
فائل فوٹو

اکتوبر 2019 میں عراق کے حکمران طبقے کے خلاف ملک گیر احتجاج اور حکومت کے خاتمے کی تحریک کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

گزشتہ برس یکم اکتوبر سے شروع ہونے والا ملک گیر احتجاج اس وقت ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا جب ملک میں بڑھتی بے روزگاری، ناقص طرزِ حکمرانی، مہنگائی اور مبینہ کرپشن کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرین کا ماننا تھا کہ حکمران طبقہ عراقی شہریوں سے زیادہ امریکہ یا ایران کا وفادار ہے۔

حکومت مخالف تحریک کے دوران تقریباً 600 افراد ہلاک ہوئے۔

اس احتجاج کی وجہ سے پچھلے برس یکم نومبر کو اس وقت کے عراقی وزیرِ اعظم عدیل عبدالمہدی نے استعفیٰ دیا۔ ان کے اس اقدام سے ملک میں کئی مہینوں تک سیاسی ڈیڈ لاک کی کیفیت رہی جس کے بعد موجودہ وزیرِ اعظم مصطفیٰ الخادمی نے اقتدار سنبھالا اور وعدہ کیا کہ وہ مظاہرین کے مطالبات عبوری حکومت کے منصوبے میں شامل کریں گے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق عراق میں عبوری حکومت کے ایک سال کے دوران کم ہی کچھ بدلا ہے۔

عراق میں مجوزہ انتخابات کی تاریخ ایک برس آگے بڑھا کر چھ جون 2021 کر دی گئی ہے۔

'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے انتخابات کے مشیر عبدالحسینی ہندوی نے کہا ہے کہ ’’مظاہرین جلد انتخابات اور نیا انتخابی قانون چاہتے تھے، ہم یہی کر رہے ہیں۔‘‘

اگرچہ پارلیمنٹ نے گزشتہ برس دسمبر میں ہی نیا ووٹنگ کا قانون منظور کر لیا تھا مگر اب تک انتخابی اضلاع اور امیدواروں کا آزادانہ یا لسٹوں کے ذریعے انتخاب لڑنے جیسے معاملات پر ارکان پارلیمنٹ کا اتفاق ہونا باقی ہے۔

عراقی وزیرِ اعظم کا اصرار ہے کہ اُن کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں مگر وہ خود بھی انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔

بصرہ سے شروع مظاہرے بغداد کی طرف بڑھ رہے ہیں
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:13 0:00

'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کئی ارکان پارلیمنٹ اور مخالف جماعتوں کے ارکان نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے مشیر 2021 کے انتخابات کے لیے امیدواروں کی چھانٹی کر رہے ہیں تاکہ مصطفیٰ الخادمی دوبارہ وزیرِ اعظم بن سکیں۔

برطانیہ کے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (چٹھم ہاؤس) سے وابستہ محقق ریناد منصور کی رائے ہے کہ ’’عراقی وزیرِ اعظم اس وقت گومگو کی صورتِ حال میں ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اب تک اپنے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اگلے چار برسوں کے لیے وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ یا وہ فوری طور پر کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

ریناد منصور کے مطابق مصطفیٰ الخادمی جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے عراق کا مالی بحران ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ وسائل کے ضیاع اور تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے ریاست کا خزانہ تقریباً خالی ہے۔

ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں اس برس غربت کی شرح دو گنی ہو کر 40 فی صد اور نوجوانوں میں بے روزگار کی شرح پہلے ہی 36 فی صد تک پہنچ چکی ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

خادمی کی کابینہ نے شروع میں سرکاری خرچہ کم کرنے اور لاکھوں عراقیوں کو حکومتی وظیفہ دینے کا اعلان کیا تھا مگر ان پالیسیوں پر تنقید کے بعد یہ اعلان واپس لے لیا گیا۔

عراق کے وزیرِ خزانہ ڈیڈ لائین کے باوجود اس برس اگست میں معیشت پر حکومتی پالیسیوں پر وائٹ پیپر شائع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پارلیمنٹ میں بھی وزیرِ اعظم کے پاس کم ہی حلیف ہیں۔ ان کا مظاہرین کے مطالبات دہرانے پر اصرار کی وجہ سے ایران نواز ارکان اسمبلی اُن سے ناراض ہیں۔

ریناد منصور کے مطابق مصطفیٰ الخادمی کا ایک پاؤں اشرافیہ کے کیمپ میں ہے تو دوسرا پاؤں اینٹی اسٹیبلشمنٹ کیمپ میں۔ آخر میں وہ سب کی خوشنودی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

عراقی وزیرِ اعظم اب تک وعدے کے باوجود گزشتہ برس مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے 600 افراد کے قتل کے ذمہ داران کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

رواں ماہ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ہلاک ہونے والے مظاہرین کے اہلِ خانہ حکومتی معاوضے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں مگر حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی فنڈ نہیں رکھا گیا۔

XS
SM
MD
LG