رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: مبینہ عسکریت پسندوں سے جھڑپ، فوجی افسر ہلاک


حکام کے مطابق ضلع ٹانک میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔ کارروائی میں دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ (فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کا مبینہ منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ کارروائی میں ایک اعلیٰ فوجی افسر اور دو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

ٹانک کے پولیس حکام نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فورسز کے ایکشن کے بعد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جب کہ اس علاقے میں تلاشی مہم بھی جاری ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان میں کارروائی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے فائرنگ سے کرنل مجیب الرحمٰن بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

کرنل مجیب الرحمٰن کا تعلق خیبر پختونخوا کے شمالی اضلاع سے بتایا جاتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت افغانستان سے ملحقہ جنوبی اور شمالی وزیرستان سے منسلک ہیں جب کہ ان علاقوں میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے موجود ہیں۔ یہ دہشت گرد گزشتہ کئی برس سے سیکیورٹی فورسز اور سرکاری اداروں سے منسلک ملازمین کے ساتھ ساتھ حکومت کی حمایت کرنے والے عام افراد پر حملے کرتے رہے ہیں۔

جون 2014 میں فوج نے شمالی وزیرستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف 'آپریشن ضرب عضب' کے نام سے فوجی کارروائی کی تھی جب کہ اس کارروائی کے نتیجے میں حکام نے عسکریت پسندوں کو اس علاقے سے بھگانے کا دعویٰ کیا تھا۔ فوج کے ان دعوؤں کے باوجود اب بھی شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت صوبے کے جنوبی علاقوں میں تواتر سے دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق پیر کو ٹانک میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن خفیہ اطلاع پر شروع کیا تھا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے کرنل مجیب الرحمن نشانہ بنے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG