رسائی کے لنکس

logo-print

'شام سے انخلا کے بعد امریکی فوج کے دستے عراق میں تعینات'


فائل فوٹو

امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے کے تحت شام سے نکلنے والی امریکی فوج کے دستے مغربی عراق میں تعینات ہوں گے۔

مارک ایسپر نے مزید کہا ہے کہ شدت پسند گروہ داعش کے خلاف فوج کے آپریشن جاری رہیں گی تاکہ یہ دوبارہ کارروائیاں نہ کر سکے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی کے دورے میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے اس خیال کی بھی تردید نہیں کی کہ عراق میں موجود امریکی افواج شام میں داعش کے خلاف انسداد دہشت گردی کے آپریشن نہیں کریں گی۔

عراق سے شام میں کارروائیوں کے حوالے سے مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے تفصیلات سامنے آتی جائیں گی۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں شام میں ترکی نے عسکری کارروائی کا آغاز کیا ہے جس سے قبل شام سے امریکی فوج کا انخلا سامنے آیا۔

امریکی فوج کے انخلا کی باتیں سامنے آنے پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ اب یہ دستے کہاں جائیں گے جبکہ داعش کے خلاف کارروائیوں کی حکمت عملی کیا ہوگی۔

مارک ایسپر نے تصدیق کی کہ شام سے عراق فوجی منتقل کرنے کے حوالے سے ان کی عراقی وزیر دفاع سے بات ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عراقی ہم منصب سے گفتگو میں ان سے اس منصوبے کا ذکر کیا کہ شام سے 700 امریکی فوجی مغربی عراق منتقل ہوں گے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ شام سے فوجی واپس اپنے ملک آ رہے ہیں۔ لیکن اب وزیر دفاع مارک ایسپر کے بیان سے واضح ہو رہا ہے کہ شام سے فوج واپس امریکہ نہیں جا رہی بلکہ اس کو اسی خطے میں تعینات رکھا جائے گا۔

جس وقت وزیر دفاع مارک ایسپر یہ بیان دے رہے تھے اس وقت بھی شمالی شام سے امریکہ فوج کے انخلا کا عمل جاری تھا جبکہ ترکی کی اس خطے میں عسکری کارروائی جاری تھی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران شام میں ترکی کے حامی جنگجوؤں اور امریکہ کے اتحادی کرد فورسز کے درمیان کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں جبکہ دو روز قبل امریکہ کی مداخلت پر دونوں جانب سے فائر بندی کی گئی مگر اس دوران دونوں جانب سے اس کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آئے۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق ترکی کی جانب سے امریکہ کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ وہ شام میں اپنی سرحد کے ساتھ کے علاقے میں کرد فورسز کے خلاف کارروائی کا آغاز کر رہا ہے۔ انقرہ ان کردوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ اس پیغام کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے فوج کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔

داعش کے خلاف امریکہ کی کارروائی کے دوران شام میں کرد اس کے اتحادی رہے تھے۔ تاہم فوجی انخلا کے اعلان کے بعد حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے متزاد بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔

امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوج کے دو مشن ہوں گے۔

ان مشنز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایک مشن تو عراق کا دفاع کرنا ہوگا جبکہ دوسرا مشن داعش کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنا ہے جو کہ دوسرے مرحلے کا کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی فوج کے حوالے سے یہی منصوبہ بنایا گیا ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ واشنگٹن اور بغداد میں ایک معاہدے کے تحت عراق میں اس وقت پانچ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

امریکہ نے عراق میں اپنی عسکری کارروائی ختم کرکے 2011 میں فوجی انخلا کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 2014 میں امریکہ نے دوبارہ فوجی دستے عراق میں اس وقت تعینات کیے جب شدت پسند گروہ داعش نے شام اور عراق کے وسیع رقبے پر قبضہ کر لیا تھا۔

امریکہ کے شام سے فوجی انخلا کے حوالے وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے لیے سب سے معاملہ شدت پسند گروہ داعش کے خلاف کارروائیاں ہیں۔ اس لے آنے والے دنوں میں یہ معاملہ نیٹو اتحادی ممالک کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی فوج کا انخلا کا فیصلہ خود کیا گیا جو کہ حفاظتی نکتہ نظر سے اہم بھی ہے تاہم اس انخلا میں دن نہیں بلکہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

امریکہ حکام کے مطابق شام سے چند سو امریکی فوجیوں کا انخلا ہو چکا ہے۔

شام میں امریکی فوجی مغربی خطے میں ایک جگہ جبکہ مشرق میں کئی مقامات پر تعینات ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ فوجی انخلا کا عمل کئی ہفتوں میں مکمل ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG