رسائی کے لنکس

نواز شریف کا نام بدستور ای سی ایل میں موجود، بیرون ملک نہ جا سکے


نواز شریف کو اپنے بھائی اور نواسے کے ہمراہ علاج کے لیے بیرون ملک جانا تھا — فائل فوٹو

العزیز اسٹیل ملز کیس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کے لیے ملک سے باہر نہ جا سکے۔ اُن کا نام تاحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں موجود ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کو اپنے علاج کے لیے نجی ایئر لائن قطر ایئر ویز سے براستہ قطر لندن جانا تھا۔

نواز شریف کے ہمراہ اُن کے بھائی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، نواسے جنید صفدر اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو بھی سفر کرنا تھا۔ جس کے لیے تمام لوگوں کے ٹکٹ بھی خرید لیے گئے تھے لیکن نواز شریف کا نام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ہونے کے باعث وہ ملک سے باہر نہ جا سکے اور اُنہیں اپنی ٹکٹس منسوخ کرانا پڑیں۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ سروسز اسپتال لاہور اور شریف میڈیکل سٹی کے ڈاکٹرز کے بورڈز نے اپنی الگ الگ رائے میں کہا ہے کہ نواز شریف کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہیے۔

ان کے بقول بیرون ملک تاخیر سے جانے کی صورت میں نواز شریف کی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

'نواز شریف کا بیرون ملک علاج ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا'

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے عمل میں تاخیر پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ‎حکومت کا تشکیل کردہ ڈاکٹرز کا بورڈ پہلے ہی تجویز کر چکا ہے کہ جلد از جلد نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے بھجوایا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ ‎سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے وقت بھی ڈاکٹرز نے نواز شریف کا بیرون ملک علاج تجویز کیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے فل بورڈ اجلاس میں نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی سفارش کی گئی تھی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کا عمل مکمل ہو گا تو ایئر ایمبولینس منگوانے اور بیرون ملک بھجوانے کے دیگر انتظامات ہوں گے۔ ‎

سابق وزیر اعظم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے عمل میں تاخیر کے نتیجے میں نواز شریف کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ تاخیر نواز شریف کی صحت کو لاحق سنگین خطرات کی قیمت پر ہو رہی ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق نواز شریف کو بیرون ملک لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس کا انتظام کر لیا گیا ہے جو بدھ کو پہنچے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نازک صحت دیکھتے ہوئے ڈاکٹرز نے ایئر ایمبولینس کا انتظام کرنے کے لیے کہا۔ ان کی طبیعت بات ٹھیک نہیں ڈاکٹرز کی تشویش ہر لمحہ بڑھتی جا رہی ہے۔

'نواز شریف ایک ہائی پروفائل مریض ہیں'

دوسری جانب پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کہتی ہیں کہ نواز شریف کی بیماری سے کبھی انکار نہیں کیا وہ ایک ہائی پروفائل مریض ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ نواز شریف جب اسپتال سے ڈسچارج ہوئے تھے تو ان کے پلیٹ لیٹس 28 ہزار تھے۔ دوران علاج اُن کے پلیٹ لیٹس کا کاؤنٹ کم ہو گیا تھا جبکہ ان کی شوگر بھی کنٹرول نہیں ہو رہی تھی۔

ان کے بقول شوگر کنٹرول کرنے کے لیے نواز شریف کی انسولین کے ڈوز بڑھانے پڑے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے بیرون ملک علاج سے متعلق وزارت داخلہ نے خط لکھا کہ بورڈ سے مشورہ لے کر دیں۔ بورڈ میٹنگ ہوئی جس نے نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی سفارش کی۔

ان کے بقول بورڈ سے پوچھا گیا کہ نواز شریف کے ایسے کون سے ٹیسٹ ہیں جو بیرون ملک سے ہو سکتے ہیں۔ بورڈ کو کہا گیا کہ آپ کی رپورٹ ناکافی ہے دوبارہ تفصیلات سے آگاہ کریں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ حکومت نے بورڈ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا۔ نواز شریف کی صحت سے متعلق تشکیل دیا گیا سروسز اسپتال کے ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ آج دوبارہ بیٹھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کو بورڈ کی تفصیلی رپورٹ بھیجیں گے۔ بورڈ سے تفصیلات کے بعد وزارت داخلہ کو معاملہ سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کا امکان

نواز شریف کا نام تاحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہونے کے معاملے پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے دعوٰی کیا ہے کہ آج نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔

لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور نے کہا کہ اُن کی صحت کے بارے میں سب فکر مند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف کی صحت کو سیاست میں نہیں لانا چاہتی۔ نواز شریف کی صحت پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتے۔

ان کے بقول نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے بعد وہ علاج کے لیے جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ نے 9 نومبر 2019 کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے قومی احتساب بیورو کو خط لکھا تھا۔ جس کے بعد نیب نے اُسی روز وزارت داخلہ کو جوابی خط لکھ کر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس طلب کی تھیں۔

چیئرمین نیب کی عدم دستیابی کے باعث نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکا تھا۔ اِس معاملے پر پیر کی شام پیشرفت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت دی تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں ان کی سزا آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG