رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست


سابق وزیرِ اعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کی جانب سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے درخواست وفاقی سیکریٹری داخلہ کو موصول ہوگئی ہے جس کے بعد وزارت کے حکام درخواست کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی نعیم الحق نے جمعے کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نواز شریف کے بیرونِ ملک علاج کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

اطلاعات کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اس معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) سے بھی رابطہ کیا ہے۔

نواز شریف کو گزشتہ سال احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ آٹھ ہفتوں بعد ضمانت میں توسیع کے لیے نواز شریف کو پنجاب حکومت سے رجوع کرنا ہو گا۔

خیال رہے کہ رواں سال اگست میں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔

قبل ازیں احتساب عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت بہت خراب ہے۔ علاج کے لیے فوری طور پر انہیں ملک سے باہر جانا چاہیے۔

لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر مل کیس میں پیشی کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے لہذٰا وہ خواہش کے باوجود والد کے ساتھ سفر نہیں کر سکتیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ "یہ نواز شریف کی زندگی کا مسئلہ ہے میں گزشتہ سال اپنی والدہ کو کھو چکی ہوں۔ لہذٰا نواز شریف کو دنیا میں جہاں بھی علاج کی بہتر سہولیات ملتی ہوں انہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔"

سیاست میں متحرک ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مریم نواز بولیں کہ سیاست سے زیادہ انہیں اپنے والد کی صحت کی فکر ہے۔ ان کے بقول وہ نرسوں اور ملازموں کی بجائے خود 24 گھنٹے والد کی تیمارداری میں مصروف رہتی ہیں۔ سیاست تو ہوتی ہی رہے گی لیکن والدین دوبارہ نہیں ملتے۔

مقدمات میں ریلیف کے حوالے سے مریم نواز نے کہا کہ انشاء االلہ سچ غالب آ کر رہے گا۔

احتساب عدالت میں چوہدری شوگر مل کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکلا نے ان کی عدالت حاضری سے استثنٰی کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے مریم نواز کے چچا زاد بھائی یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی.

مریم نواز کو لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر مل کیس میں گزشتہ دنوں ضمانت پر رہائی دی تھی۔ نواز شریف کی بھی اس سے قبل اس کیس میں ضمانت کی درخواست منظور کر لی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی سابق وزیر اعظم کی العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں سزا دو ماہ کے لیے معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں شامل ہے جب تک وزارتِ داخلہ ان کا نام نہیں نکال لیتی نواز شریف بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چند روز قبل لاہور کے سروسز اسپتال سے ان کی رہائش گاہ جاتی عمرا منتقل کر دیا گیا تھا۔ جہاں ان کے علاج کے لیے گھر میں ہی علاج کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

'نواز شریف بیرون ملک چلے جائیں گے'

نواز شریف کی بیرون ملکی روانگی کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف علاج کے لیے ملک سے باہر ضرور جائیں گے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ نواز شریف صرف دھرنے کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے بقول نواز شریف ملک سے باہر جائیں گے لیکن واپس بھی ضرور آئیں گے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کے موڈ میں ہے۔ وزیر داخلہ برملا اظہار کر چکے ہیں کہ انہیں نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ لہذٰا نواز شریف کا نام بھی ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چند روز قبل ان کی رہائش گاہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چند روز قبل ان کی رہائش گاہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے بغیر ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں نواز شریف اور مریم نواز کے بیرون ملک جانے سے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کا ووٹر سمجھتا ہے کہ نواز شریف واقعی بہت بیمار ہیں اور ان کا علاج اگر ملک سے باہر ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

سہیل وڑائچ کے بقول نواز شریف مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا منطقی انجام دیکھنے کے بعد بیرون ملک جائیں گے۔
سہیل وڑائچ کے بقول نواز شریف مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا منطقی انجام دیکھنے کے بعد بیرون ملک جائیں گے۔

سہیل وڑائچ کے بقول مسلم لیگ ن کے ووٹرز کی اکثریت کاروباری طبقے سے منسلک ہے۔ نواز شریف 2000 میں جدہ چلے گئے تھے لیکن واپس آ کر انہوں نے اپنے کارکنوں کو راضی کر لیا تھا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ "جب تک مسلم لیگ ن یا نواز شریف کوئی بڑا سیاسی بلنڈر نہیں کر دیتے یا پاکستان تحریک انصاف غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر لیتی مسلم لیگ ن کا ووٹر نواز شریف کے ساتھ جڑا رہے گا۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG