رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: آتش فشاں 'سنابونگ' نے دھواں اگلنا شروع کر دیا


انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں آتش فشاں سنابونگ سے دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔ 10 اگست 2020

انڈونیشیا کا آتش فشاں پہاڑ 'سنابونگ' پیر کو ایک بار پھر پھٹ پڑا اور اس کے دہانے سے نکلنے والا سیاہ دھواں، راکھ اور گرد و غبار پانچ کلو میٹر کی بلندی تک پہنچ گیا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز بھی 'سنابونگ' پھٹا تھا جس سے نکلنے والے دھوئیں نے آسمان کو سیاہ کر دیا تھا اور جزیرے سماٹرا میں زمین پر حدِ نگاہ میں نمایاں کمی ہو گئی تھی۔

سماٹرا میں حکام نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آتش فشاں سے تین کلومیٹر دور رہیں۔

پیر کے روز دوسری بار آتش فشاں پھٹنے کے بعد سے کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آتش فشاں کے ڈھلوان میں واقع ایک غیر آباد گاؤں پر تقریباً پانچ سینٹی میٹر تک راکھ اور گرو و غبار گر چکی ہے۔

آتش فشاں سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبے براسٹاگی، جو سیاحت کا ایک اہم مرکز ہے، لوگوں کو دن کے وقت بھی اپنی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس روشن کرنا پڑیں تاکہ وہ دھوئیں اور راکھ کی وجہ سے چھائے اندھیرے میں دیکھ سکیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں لوگ گھروں سے باہر ماسک پہنے دکھائی دے رہے ہیں۔

'سنابونگ' نے کم و بیش 400 سال تک خاموش رہنے کے بعد سن 2010 میں اچانک دھواں اور راکھ اگلنی شروع کر دی تھی۔ اس کے بعد سے انڈونیشیا کا یہ آتش فشاں خاصا فعال ہے اور گاہے گاہے اس کا دہانہ دھواں اگلتا رہتا ہے۔

سن 2014 میں 'سنابونگ' ایک بار پھر متحرک ہو گیا تھا اور اس کی زد میں آ کر 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ 2016 میں اس کے پھٹنے سے سات افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران،جب سے سنابونگ دوبارہ فعال ہوا ہے، تقریباً 30 ہزار افراد مجبوراً نقل مکانی کر چکے ہیں۔

سنابونگ انڈونیشیا کا واحد آتش فشاں نہیں ہے، بلکہ وہ اس ملک کی ان 120 آتش فشاں چوٹیوں میں شامل ہے، جو اب بھی فعال ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کرۂ ارض کے ایک ایسے حصے میں واقع ہے جسے 'آگ کا دائرہ' یا 'رنگ آف فائر' کہا جاتا ہے۔ بحرالکاہل کے دائرے میں فالٹ لائنز پر واقع ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں زلزلے بھی آتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG