رسائی کے لنکس

'مجھے آؤٹ کر دو، ٹیم میں شامل کر لوں گا'


انضمام الحق افغانستان کرکٹ ٹیم کے بھی کوچ رہ چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انہوں نے افغانستان کے سلیکٹرز کی مخالفت مول لے کر راشد خان کو افغان کرکٹ ٹیم میں شامل کرایا تھا۔

یوٹیوب پر اپنی ایک ویڈیو میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ دنیائے کرکٹ نے راشد خان کی مزید صلاحیتیں نہیں دیکھیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے 378 ایک روزہ اور 126 ٹیسٹ میچز کھیلنے والے انضمام الحق کو اکتوبر 2015 میں افغانستان کرکٹ ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔

انضمام الحق نے بتایا کہ افغانستان کے ٹیم منیجر نے اُنہیں راشد خان سے متعلق بتایا۔ البتہ سلیکشن کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ وہ اتنا اچھا کرکٹر نہیں۔ تاہم اُن کے اصرار پر راشد خان کو ٹیم کیمپ میں بلایا گیا۔

انضمام الحق کے بقول "میں نے پیڈ کیے اور راشد سے کہا کہ اگر تم نے مجھے آؤٹ کر دیا تو میں زمبابوے کے خلاف سیریز میں تمہیں شامل کر لوں گا۔"

انہوں نے کہا کہ راشد خان نیٹ پر اُنہیں آؤٹ تو نہ کر سکے البتہ انہیں اندازہ ہو گیا کہ ان میں کتنا ٹیلنٹ ہے۔

راشد خان کی بالنگ کی صلاحیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انضمام الحق کا کہنا تھا کہ راشد بہت اچھی 'گگلی' کرتے ہیں۔ وہ بہت تیزی سے ہاتھ گھماتے ہیں لہذٰا ان کا ہاتھ دیکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور بلے باز کو اُنہیں کھیلنے میں مشکل ہوتی ہے​۔

'اعداد و شمار نہیں سلیکٹر کی آنکھ فیصلہ کرتی ہے'

کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے انضمام الحق کا کہنا تھا کہ سلیکٹر کو اعداد و شمار دیکھ کر کھلاڑی کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی آنکھ نے راشد خان میں چھپے ٹیلنٹ کو دیکھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے انضمام نے کہا کہ عمران خان بحیثیت کپتان کبھی سابقہ ریکارڈ دیکھ کر کسی کو ٹیم میں شامل نہیں کرتے تھے۔

ان کے بقول، "عمران بھائی لڑکے کو نیٹ پر بلاتے تھے۔ اس سے بالنگ یا بیٹنگ کراتے تھے اور پھر فیصلہ کرتے تھے کہ اسے ٹیم میں شامل کرنا ہے یا نہیں۔"

یاد رہے کہ انضمام الحق کے دور میں ہی 2015 میں افغانستان نے دورۂ زمبابوے میں دو ایک روزہ میچوں اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں زمبابوے کو شکست دے کر پہلی مرتبہ کوئی سیریز جیتی تھی۔

بعد ازاں انضمام الحق کو دو سال کا کانٹریکٹ دیا گیا۔ لیکن اپریل 2016 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا چیف سلیکٹر بننے کے بعد وہ افغانستان کی کوچنگ سے دستبردار ہو گئے تھے۔

راشد خان کا شمار اب افغانستان کے صفِ اول کے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ ورلڈ کپ 2019 کے بعد سے وہ افغانستان کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔

کرکٹ مبصرین کے مطابق اب راشد خان کو بہترین آل راؤنڈرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ افغانستان کے لیے چار ٹیسٹ، 70 ایک روزہ اور 45 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔

راشد خان آسٹریلیا میں بگ بیش، انڈین پریمیئر لیگ سمیت مختلف ممالک میں لیگ کرکٹ بھی کھیل چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG