رسائی کے لنکس

ناقابلِ شکست مکسڈ مارشل آرٹ چیمپئن خبیب کا کریئر اختتام پذیر


فائل فوٹو

بتیس سالہ روسی کھلاڑی خبیب نورماگومدوف نے اپنے کریئر کا آغاز 2008 میں کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کریئر میں 29 مقابلوں میں حصہ لیا اور تمام مقابلوں میں ناقابلِ شکست رہے۔

مکسڈ مارشل آرٹس میں ناقابلِ شکست رہنے والے لائٹ ویٹ عالمی چیمپئن خبیب نورماگومدوف کا کریئر امریکی کھلاڑی کو شکست دینے کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

خبیب نے ہفتے کو ابوظہبی میں اپنے کریئر کی آخری فائٹ میں امریکی کھلاڑی جسٹن گیچے کو شکست دی اور ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 'یو ایف سی' میں اُن کی یہ آخری فائٹ تھی۔

یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپیئن خبیب نورماگومدوف نے فائٹ کے دوسرے راؤنڈ میں ہی جسٹن گیچے کو بے ہوش کر دیا تھا۔

یوں وہ یو ایف سی 254 میں اپنے لائٹ ویٹ ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

بتیس سالہ روسی کھلاڑی خبیب نورماگومدوف نے اپنے کریئر کا آغاز سن 2008 میں کیا تھا تب سے ریٹامنٹ کے اعلان تک اُنہیں ایک مرتبہ بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

انہوں نے کرئیر کے دوران 29 فائٹس کیں جن میں سے 13 یو ایف سی فائٹس میں انہوں نے مسلسل کامیابی حاصل کی۔ وہ سابق مڈل ویٹ چیمپئن اینڈرسن سلوا کا تین مرتبہ ریکارڈ توڑنے میں کامیاب رہے۔

کیچے کو شکست سے دوچار کرنے کے فوری بعد اپنے گلووز اتارتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی والدہ سے وعدہ کر چکے تھے کہ یہ اُن کے کیریئر کی آخری فائٹ ہو گی۔

اُن کے بقول مجھے والدہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہے۔

نورماگومدوف نے بتایا کہ انہوں نے کیچے کے خلاف میچ لڑنے کا فیصلہ کرنے سے قبل مسلسل تین روز تک اپنی والدہ سے بات کی تھی۔

پچھلے 12 سالوں تک ناقابلِ شکست رہنے والے خبیب نوماگومدوف کے والد اور کوچ عبدالمناپ نوماگومدوف رواں برس جولائی میں انتقال کر گئے تھے۔

خبیب کا کہنا تھا کہ ​والد کے بغیر فائٹ کرنا کتنا مشکل ہے، یہ میں ہی جانتا ہوں۔

خبیب کے کریئر میں سات اکتوبر 2018 کا دن اہم ثابت ہوا جب انہوں نے عالمی شہرت یافتہ آئرش کھلاڑی کاذر میگریگر کو شکست دی اور یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپیئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

اس فائٹ کے آخر میں ہونے والے تنازع کے سبب خبیب کو معافی بھی مانگنا پڑی۔

فائٹ کے اختتام پر میگریگر کی ٹیم کی جانب سے ایک نامناسب جملہ کسا گیا جس پر خبیب غصے میں آ کر بے قابو ہو گئے اور انہوں نے حریف ٹیم کے عہدیداروں پر مکے پرسائے۔

واقعے کے اگلے روز خبیب نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معافی بھی مانگی۔ اُن کا کہنا تھا کہ گریگر کی ٹیم نے ان کے مذہب، ملک اور والد سے متعلق غلط باتیں کی تھیں جس پر وہ مشتعل ہوگئے اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG