رسائی کے لنکس

یمن میں علیحدگی پسند فوج کی پریڈ پر حملہ، 9 افراد ہلاک


یمن کے جنوبی شہر الضالع میں فوج میں شامل ہونے والے نئے اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ جاری تھی جب اس پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا۔

یمن میں علیحدگی پسند فوج کی پریڈ میں ہونے والے دھماکے میں نو افراد ہلاک جبکہ 20 زخمی ہو گئے۔

یمن کے جنوبی شہر الضالع میں فوج میں شامل ہونے والے نئے اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ جاری تھی جب اس پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا۔

یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں طویل عرسے سے علیحدگی پسند جنگجو سر گرم ہیں تاہم یہ جنگجو سعودی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد کا حصہ ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق علیحدگی پسند گروپ کے ترجمان ماجد الشعیبی کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے اور 6 فوجی اہلکار شامل ہیں۔

خیال رہے کہ یمن کے جنوب میں سرگرم اس علیحدگی پسند گروہ کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حمایت حاصل ہے۔

ماجد الشعبی کا مزید کہنا تھا کہ الضالع صوبے کے مرکزی شہر میں فوجی پریڈ میں دھماکہ اس وقت ہوا جب پریڈ اپنی اختتامی مراحل میں تھی۔

خیال رہے کہ یمن کے جنوب میں ریزسٹنس فورسز کے نام سے مشہور اس گروہ کی حالیہ مہینوں میں اقوام متحدہ کی منظور شدہ یمن کی حکومت سے اختلافات شدید ہو گئے ہیں۔ یمن کی سرکاری حکومت سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم ہے جب کہ ملک کے جنوب میں علیحدگی پسند بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں جن کو یو اے ای کی حمایت حاصل ہے۔

حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد میں حالیہ دنوں میں دراڑ پڑتی جا رہی ہے یمن کی حکومت اور جنوب کے علیحدگی پسندوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔

یمن میں فوجی پریڈ پر ہونے والے حملے کی سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسٹیج پر ایک بڑا سا سوراخ ہو گیا ہے جب کہ ویڈیوز میں دھماکے کے بعد لاشیں اور زخمیوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

حوثی باغیوں کی جانب سے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

دوسری جانب نشانہ بننے والے مسلح گروہ کے ترجمان ماجد الشعیبی کا کہنا ہے کہ فوجی پریڈ پر حملہ حوثیوں نے کیا ہے۔ انہوں نے 20 افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی۔

خیال رہے کہ حوثی باغی طویل عرصے سے یمن کے جنوبی صوبے الضالع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حملے کرتے رہے ہیں تاہم اس میں حوثی باغیوں کو کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

یمن میں بحران کا آغاز 2014 میں شروع ہوا تھا جب حوثی باغیوں نے ملک کے درالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ قبضہ اب بھی برقرار ہے جب کہ دارالحکومت پر قبضے کے بعد صدر عبدالرب المنصور الہادی کو وہاں سے بے دخل کر دیا گیا تھا جو بعد ازاں سعودی عرب گئے۔

سعودی عرب نے 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ اس جنگ میں دیگر عرب ممالک کے ساتھ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمن کی حکومت باغیوں کے خلاف چار سال سے جنگ لڑ رہے ہیں تاہم وہ ان کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایران حوثی باغیوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔

کیا یمن میں جنگ بندی ممکن ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:53 0:00

رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ کی بحری فوج نے حوثی باغیوں کو اسلحہ اور بارود فراہم کرنے والی کشتی بھی تحویل میں لی تھی۔

پینٹا گون کے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی جنگی جہاز نے جدید میزائلز کے پرزہ جات کی ایک کشتی کو قبضے میں لیا۔ اس کشتی کا کسی ریاست یا ملک سے تعلق نہیں ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات میں یہ سامنے آئی ہے کہ کشتی میں موجود پرزہ جات ایرانی ساختہ ہیں۔

امریکی حکام خیال ظاہر کیا کہ بحیرۂ عرب میں قبضے میں لی گئی کشتی کا تعلق ایران سے ہے۔

عرب ممالک میں سب سے غریب ملک کہلائے جانے والے یمن میں جنگ سے ایک لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ جب شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے ملک میں میڈیکل کی سہولیات ناپید ہو چکی ہیں جب کہ تنازع سے یمن بدترین صورت حال کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG