رسائی کے لنکس

logo-print

بیرون ملک سے لائے گئے ملزمان کے لیے سزائے موت کا خاتمہ، آرڈیننس اسمبلی میں پیش


فائل فوٹو

پاکستان میں حکومت نے فوجداری مقدمات میں بیرون ملک سے لائے گئے ملزمان کے لیے سزائے موت ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کا آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ترمیمی آرڈیننس کے مطابق دوسرے ممالک میں مفرور ملزمان کو پاکستان واپس لا کر سزائے موت نہیں دی جا سکے گی۔

وفاقی حکومت نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 میں ترمیم کا آرڈیننس 12 جولائی 2019 کو جاری کیا تھا۔ جو اب قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔

یہ آرڈیننس وزارت داخلہ کی طرف سے پیش کیا گیا جبکہ اسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو جائزہ لینے کے لیے بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔

اس آرڈیننس کے مطابق بیرون ممالک سے پاکستان لائے گئے ملزمان کو سزائے موت کے علاوہ کوئی بھی سزا دی جاسکے گی۔

وزارت داخلہ نے آرڈیننس پیش کرنے کی وجہ بتائی ہے کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان ترمیمی بل 2019 کا مقصد دہشت گردی اور منظم بین الاقوامی جرائم کے خلاف نبرد آزما ہونا ہے۔ ایسے بہت سے جرائم کا اصل، بنیاد اور روابط دیگر ممالک میں ہوتے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیشتر مقدمات میں یہ لازم ہوتا ہے کہ پاکستان یا دیگر ممالک میں دستیاب شواہد کو اکھٹا کیا جائے تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ باہمی قانونی مدد کی درخواستیں ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ بعض اوقات پاکستان کی قانونی مدد کی درخواستوں کو محض اس لیے قبول نہیں کیا جاتا کہ درکار معلومات کسی معاملے میں قصور وار فرد کے لیے سزائے موت کے اطلاق کی فوجداری کارروائی میں استعمال نہ ہوجائیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ کچھ ممالک سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سزائے موت دیے جانے کے خوف کی وجہ سے پاکستان کے حوالے نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ ملک میں اس وقت سزائے موت کے خاتمے پر بحث جاری ہے اور بعض انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس کی حمایت کر رہی ہیں۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے خاتمہ کے مذہبی پہلو بھی ہیں۔ کچھ مقدمات جیسے حدود کے کیسز میں سزائے موت ختم نہیں کی جا سکتی۔ تعزیر کے مقدمات میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق دیگر ملکوں میں دستیاب کثیر شواہد سے مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 میں ترمیم کی جائے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ طے ہونا بھی ضروری ہے کہ جب کسی دوسرے ملک سے حاصل کردہ شہادت پر سزا دی جا رہی ہو یا کسی ملک سے ملزم کی حوالگی کی استدعا کی گئی ہو تو عدالت سزائے موت نہیں دی گی۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ باہمی قانونی تعاون اور متعلقہ درخواستیں ناگزیر ہوسکتی ہیں لہذا مسائل کے حل کے لیے ترمیم ضروری ہے۔

قانون کے مطابق 12 جولائی کو جاری ہونے والا یہ آرڈیننس چار ماہ یعنی 12 نومبر تک نافذ العمل ہے اور اگر اس پر باقاعدہ قانون سازی نہ ہوسکی تو 12 نومبر کو یہ قانون غیر موثر ہوجائے گا۔

اس آرڈیننس کو قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کے ذریعے 120 دن کی مزید توسیع بھی دی جاسکتی ہے لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے اس کو ایکٹ آف پارلیمنٹ بنانا ہوگا بصورت دیگر یہ آرڈیننس اس مدت کے بعد غیر موثر تصور ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG