رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی بجٹ میں خواتین کے تحفظ کے لیے مختص حصہ ناکافی ہے, غیر سرکاری تنظیموں کا دعویٰ


فائل فوٹو

بھارت کے متعدد نجی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں نے سال 22-2021 کے بجٹ کو خواتین مخالف قرار دیتے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں عورتوں کے مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق تین برس کے بجٹ کے تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہونے والے تشدد سے نمٹنے کے لیے سالانہ 30 روپے فی شخص خرچ کر رہی ہے۔

آکسفیم انڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نئی دہلی میں 2012 میں ایک چلتی بس میں 23 سالہ طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد حکومت نے 'نربھیا' کے نام سے جو فنڈ قائم کیا تھا ایک تو وہ ناکافی ہے اور دوسرا اس کا استعمال بھی نہیں ہو رہا۔

یہ فنڈ خواتین کے خلاف جنسی تشدد و جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

آکسفیم انڈیا کی سربراہ امیتا پٹرے کے مطابق حکومت سے یہ توقع تھی کہ وہ غذائی و سماجی تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کے انسداد کے لیے مزید بجٹ مختص کرے گی۔ لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر 15 منٹ میں جنسی زیادتی کا ایک واقعہ پیش آتا ہے۔

ایک اور نجی تنظیم 'آل انڈیا ڈیموکریٹک وویمن ایسوسی ایشن' کا کہنا ہے کہ ملک میں خواتین کے تحفظ کی صورت حال انتہائی ابتر ہے۔ خواتین کے تحفظ سے متعلق تمام منصوبوں کے وفاق 'مشن شکتی' کا بجٹ عورتوں سے متعلق دیگر تمام اسکیموں سے 13 فی صد کم ہے۔

بھارت: گھروں کے باہر بیٹیوں کے ناموں کی تختی
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:19 0:00

تنظیم کی آل انڈیا جنرل سیکریٹری مریم دھاولے نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے خواتین مخالف بجٹ پیش کیا ہے۔

ان کے مطابق یہ حکومت دلتوں، مسلمانوں، اقلیتوں، آدی واسیوں اور خواتین پر ہونے والے حملوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

ان کے مطابق حکومت بڑی ذات کے ہندوؤں کے نظریے کو ملک میں نافذ کرنا چاہتی ہے اور اس نظریے میں خواتین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وبا کے دوران سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئی ہیں۔ ان کے پاس روزگار نہیں ہے۔ انہیں گھر چلانے کے لیے لوگوں سے قرض لینے پڑ رہے ہیں۔ حکومت نے غذائی اجناس سے متعلق جو پالیسی وضع کی ہے اس کا منفی اثر خواتین پر پڑے گا۔

مریم دھاولے کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ تشدد کو روکنے کے لیے جو بجٹ تھا حکومت نے اس میں تخفیف کر دی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو نربھیا فنڈ کو جس طرح استعمال کرنا چاہیے تھا اس طرح وہ نہیں کر رہی ہے۔ یعنی اس کا استعمال ہی نہیں ہو رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس بجٹ کو اب دوسرے شعبوں میں منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ بجٹ بھارتی خواتین کی زندگی کو اور بھی ابتر کر دے گا۔

حکمران اتحاد این ڈے اے کی میں شامل جماعت 'لوک جن شکتی پارٹی' سے وابستہ اجے کمار ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اجے کمار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے خواتین کو فائدہ پہنچانے والی اسکیموں کے لیے 28600 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ جب کہ 14 مرکزی اسکیمیں ایسی ہیں جن سے براہِ راست خواتین فائدہ اٹھاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال خواتین کے لیے بنائی گئی اسکیم 'مہیلا شکتی کرن' کے لیے 27584 کروڑ روپے مختص کیے تھے مگر اس بجٹ کو بڑھا کر 28600 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق خواتین کے قومی کمیشن کا بجٹ 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر 26 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ خوراک کے لیے مختص 3400 کروڑ روپے کے بجٹ کو 3700 کروڑ روپے کیا گیا۔

اجے کمار کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم گرلز ہوسٹل اسکیم پر گزشتہ برس کے 13 کروڑ روپے کے بجٹ کو بڑھا کر 20 کروڑ روپے، بچیوں کی ثانوی تعلیم کا بجٹ 87 کروڑ روپے سے بڑھا کر 110 کروڑ روپے اور غیر منظم شعبے میں خواتین کے انشورنس کا بجٹ 17 کروڑ روپے سے بڑھا کر 200 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے نربھیا بجٹ کو دوسرے شعبوں میں منتقل کرنے کے الزام کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG