رسائی کے لنکس

خواتین صحافیوں کے سوشل میڈیا پر 'ٹرولنگ' کے الزامات، معاملہ ہے کیا؟


(فائل فوٹو)

پاکستان کی خواتین صحافیوں نے الزام لگایا ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے ایما پر منظم مہم کے ذریعے انہیں سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور ہراساں کیے جانے کا سامنا ہے تاہم تحریک انصاف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بعض خواتین صحافیوں نے چند روز قبل ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت پر تنقید کی بنیاد پر ان پر سوشل میڈیا پر حملے کیے جاتے ہیں اور ٹرولنگ کے باعث ان کے لیے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا ناقابل یقین حد تک مشکل ہو گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے حامیوں سے وابستہ اکاؤنٹس کے ذریعے خواتین صحافیوں کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی جاتی ہے۔

وزیر اعظم کے ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ارسلان خالد نے خواتین صحافیوں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر کسی قسم کی مہم نہیں چلائی جا رہی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف آن لائن ہراساں کرنے اور غلط خبروں کی روک تھام کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں اور صحافیوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے تیار ہے۔

کئی عالمی صحافتی تنظیمیں عرصہ دراز سے پاکستان کو صحافت کے لیے خطرناک ملک قرار دیتی رہی ہیں اگرچہ گزشتہ سالوں میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی نوعیت تبدیل ہوتی رہی ہے۔

پاکستان میں حکومت یا ریاستی اداروں کے ناقد سماجی کارکنوں یا صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم کی شکایات عام ہیں جب کہ کئی خواتین صحافیوں کا یہ بھی گلہ رہا ہے کہ ان کے بارے میں غیر شائستہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

صحافیوں کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی' نے گزشتہ سال نومبر میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ آن لائن ہراساں کیے جانے کے واقعات سے 95 فی صد خواتین صحافیوں کا کام متاثر ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہراساں کیے جانے اور دھمکیوں سے تنگ آ کر کئی خواتین نے خود ساختہ سینسر شپ لاگو کر لی ہے۔

'صنف پر مبنی دھمکیاں زندگی خطرے میں ڈال رہی ہیں'

خواتین کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو حکومت مخالف رائے رکھنے پر ان کی ذاتی زندگی کو موضوع بحث لایا جاتا ہے جب کہ دھمکیوں کے علاوہ ان پر ملک دشمنی اور بدعنوانی کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین صحافیوں کو نہ صرف ان کے کام بلکہ بطور خاتون بھی ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور انہیں صنف پر مبنی جنسی اور جسمانی حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس سے ان کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

پروگرام اینکر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ مشترکہ بیان جاری کرنے کا مقصد خواتین کے آئینی حقوق کی جانب حکام کی توجہ مبذول کرانا ہے اور یہ اس قسم کے حملوں کی شکار تمام خواتین کی آواز ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا احوال بتایا کہ تحریک انصاف کی ایک مرکزی رہنما زرتاج گل نے 2016 میں ان پر الزام لگایا کہ ان کی اس وقت کے وزیر اعلٰی پنجاب سے شادی ہو گئی ہے۔

غریدہ فاروقی نے بتایا کہ اس پر انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو درخواست دی جس پر کچھ سماعتیں بھی ہوئیں تاہم تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد زرتاج گل وزیر مملکت بن چکی ہیں اور انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات رکوا دی ہیں۔

"سیاسی جماعتیں ضابطہ کار پر اتفاق کریں"

ڈاکٹر ارسلان خالد کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی شخصیات اور سیاسی جماعتوں کے حامی افراد سخت زبان استعمال کرتے ہیں، لہذٰا صرف تحریک انصاف کو ٹارگٹ کرنا مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین صحافیوں کے اس مشترکہ خط میں صرف تحریکِ انصاف کو ہدف بنانا ثابت کرتا ہے کہ اس کا مقصد سیاسی ہے۔

ارسلان خالد کہتے ہیں کہ ہراساں کرنے کے ان واقعات کا تدارک ہونا چاہیے تاہم اس قسم کا متعصب خط مسئلے کا حل نہیں ہے۔

صحافی غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اگرچہ ہراساں کیے جانے کے واقعات میں دیگر سیاسی جماعتیں اور ادارے بھی شریک ہیں لیکن مشترکہ بیان میں صرف تحریک انصاف کا نام اس لیے لیا گیا کیوں کہ بطور حکومتی جماعت ان کی ذمہ داری زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دستیاب حکومتی و صحافتی فورمز پر اس معاملے کو اٹھا چکی کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کی مہم میں تیزی آئی ہے۔

خواتین صحافیوں کے حکومت سے مطالبات؟

خواتین صحافیوں نے ہراساں کیے جانے پر مشترکہ بیان میں حکومت سے درخواست کی ہے کہ آن لائن ٹرولنگ کرنے والے تمام اکاؤنٹس کو بند کیا جائے اور ملوث حکومتی ارکان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

خواتین صحافیوں نے اپنے آئینی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر کارروائی کرے۔

شیریں مزاری کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ حقائق کی بنیاد پر تنقید صحافی کا کام ہے۔ خواتین صحافیوں کو ان کی تنقید کی وجہ سے نشانہ بنانا اور انہیں ہراساں کرنا بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔

شیریں مزاری نے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز پر زور دیا ہے کہ وہ جلد ازجلد صحافیوں کے تحفظ کے لیے تجویز کردہ قانون سازی 'جرنلسٹس پروٹیکشن بل' پر کام کرائیں۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین اور حزب اختلاف کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں بلاول نے خواتین صحافیوں کو اس معاملے پر قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ کے لیے بھی مدعو کر لیا ہے۔

وزیر اعظم کے فوکل پرسن ارسلان خالد کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کا خواتین صحافیوں کے مشترکہ بیان کا نوٹس لینا مضحکہ خیز لگتا ہے کیوں کہ ان کی حکومت صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو تاحال سامنے نہیں لا سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافی عزیز میمن قتل سے قبل اپنے ویڈیو بیان میں بتا چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

ارسلان خالد کہتے ہیں کہ صحافیوں کو بلاول بھٹو کے نوٹس کا خیر مقدم کرنے سے پہلے معلوم کرنا چاہیے کہ عزیز میمن کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کہاں ہے اور ان کے قاتل تاحال کیوں گرفتار نہیں ہو سکے۔

خیال رہے کہ صحافی عزیز میمن کو رواں سال فروری میں صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرہ میں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔

مشترکہ خط پر دستخط کرنے والوں میں محمل سرفراز، بے نظیر شاہ، امبر رحیم شمسی، زیب النساء برکی، عاصمہ شیرازی، رمشا جہانگیر، عائشہ بخش، غریدہ فاروقی، علینہ فاروق، عالیہ چغتائی، ریما عمر، نذرانہ یوسف زئی، تنزیلہ مظہر، منیزے جہانگیر، فرحت جاوید اور آئمہ کھوسہ شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG