رسائی کے لنکس

پولینڈ میں عدلیہ کو پارلیمنٹ کے تابع کرنے کا قانون


پولینڈ کی پارلیمنٹ ۔ فائل فوٹو

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں، جس کے ارکان کی تعداد 460 ہے، بدھ کے روز پانچ کے مقابلے میں 227 ووٹوں سے اس بل کے حق میں رائے دی۔

پولینڈ کی قدامت پسند حکمران جماعت نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں قانون سازوں کو ججوں کی تعیناتی کا اہم کردار دیا گیا ہے۔

حزب اختلاف اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عدالتی نظام میں سیاسی مداخلت میں اضافہ ہو گا۔

مجوزہ قانون قومی جوڈیشل کونسل کی ساخت تبدیل کر دے گی۔ اس وقت کونسل کے ارکان اپنے عہدے پر موجود جج ہیں اور اسے غیر جماعتی تصور کیا جاتا ہے۔

زیر التوا بل قانون سازوں کو کونسل کے 25 میں سے 10 ارکان منتخب کرنے کا اختیار دے گا۔ اور اس طرح نئی عدلیہ میں ججوں کو نامزد کرنے اور ان کا جائزہ لینے اور منتخب کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہو جائے گا۔

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں، جس کے ارکان کی تعداد 460 ہے، بدھ کے روز پانچ کے مقابلے میں 227 ووٹوں سے اس بل کے حق میں رائے دی۔

حزب مخالف کے زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ سے غیر حاضر تھے۔ لیکن لاء اینڈ جسٹس پارٹی کے تقریباً تمام ارکان نے اس بل کی حمایت کی۔

پولینڈ کی سینیٹ کے ایک سو ارکان میں سے 62 کا تعلق حکمران جماعت سے ہے اس لیے اس قانون کی حتمی منظوری مل جائے گی۔

یہ بل صدر کے دستخطوں کے بعد قانون کی حیثیت اختیار کر لے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG