رسائی کے لنکس

logo-print

بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پنجاب حکومت کا بھی زینب بل لانے کا فیصلہ


فائل فوٹو

پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے صوبے میں کم سن بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر 'زینب بل' لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ہم نے بچوں کی حفاظت اور اُن کی فلاح کے لیے زینب الرٹ بل لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

ان کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ بچوں سے جنسی زیادتی کی خبریں بہت اذیت ناک ہوتی ہیں۔

ان کے بقول بل حکومت کی بچوں کو محفوظ بنانے کی ایک کوشش ہے جب کہ یہ ایک اہم سنگ میل بھی ہے کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

بل کب اور کیسے لایا جائے گا؟

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بیان پر وائس آف امریکہ نے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ بل کب اور کیسے لایا جائے گا؟ جس پر راجہ بشارت نے جواب دیا کہ حکومت پنجاب یہ بل جلد از جلد لانا چاہتی ہے اور اِس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بچوں کی حفاظت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

ان کے بقول ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں اِس جرم کو روکا جائے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ پنجاب کی حکومت زینب بل کی منظوری کے لیے اسے جلد ایوان میں پیش کرے گی۔

'سزائیں مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے'

پنجاب میں بچوں کی حفاظت سے متعلق ادارے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی فوکل پرسن زینب کے والد امین انصاری کہتے ہیں کہ اِس بل سے متعلق حکومت نے اُن سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا البتہ وہ خود حکومت پنجاب سے رابطہ کر کے بل سے متعلق اپنی تجاویز دیں گے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے امین انصاری نے کہا کہ ایسے جرائم کے انسداد کے لیے سزائیں مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے مقدمات میں فیصلے بھی تیزی سے کیے جائیں۔

امین انصاری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے زینب بل میں موت کی سزا کو کم کر کے کو 15 سال کیا ہے اُسے بڑھایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم میں جو افراد پکڑے جاتے ہیں۔ جن کے خلاف ثبوت مل جاتے ہیں اور وہ مان بھی جاتے ہیں تو اُن کو کم سے کم وقت میں سزا دی جائے۔

ان کے بقول ایسے کیسز کے فیصلے زیادہ سے زیادہ دو یا تین ماہ میں کیے جائیں۔ سزاؤں کو مزید سخت کیا جائے تا کہ لوگوں کو ایسے جرائم کرنے کی جرات ہی نہ ہو۔

'قانون تو پہلے سے موجود، عمل درآمد نہیں ہوتا'

پاکستان میں انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ حکومت پنجاب کا زینب بل لانے کا فیصلہ اچھا ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن سمجھتے ہیں کہ بل کے مندرجات میں پولیس کی تربیت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف پولیس اہلکار جدید خطوط پر تفتیش کر سکیں اور اُسے عدالت میں ثابت بھی کر سکیں۔

ان کے بقول ایسا کرنے سے عدالتوں کو بھی سزائیں دینے میں آسانی ہو گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ ایسے جرائم کو روکنے کے لیے قانون کی حکمرانی بہت ضروری ہے۔ قوانین تو پہلے سے موجود ہیں لیکن اُن پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔

ڈاکر مہدی حسن بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو پھانسی کی سزا دینے کے مخالف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بڑے جرم کو روکنے کے لیے پھانسی کی سزا ضروری نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے وہ جرم رُکتا نہیں ہے۔ سزائے موت کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اُس شخص کو چند سیکنڈز یا چند منٹوں میں سزا پر عمل درآمد کر دیا۔ ایسے مجرمان کو اُن کے جرم کی پوری سزا دینی چاہیے۔

زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بل

پاکستان کی قومی اسمبلی نے رواں ماہ 10 جنوری کو زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بل 2019 کی متفقہ منظوری دی تھی۔

بل کے مطابق کسی بھی بچے کے اغوا یا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہو گی۔

بل کے ذریعے پولیس کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ کسی بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعے کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے بل کے مطابق اگر پولیس افسر قانون کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس کا یہ اقدام قابلِ سزا جرم تصور ہو گا۔

زینب بل کی تیاری کا کام جنوری 2018 میں پنجاب کے شہر قصور میں چھ سالہ زینب کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

زینب سے جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں عمران علی نامی شخص کو ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جسےانسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اقرار جرم کے بعد 28 چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔ مجرم اکتوبر 2019 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

مگر اس سب کے باوجود بھی پاکستان کے کئی شہروں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے جرائم کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال بھی پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات سامنے آئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG