رسائی کے لنکس

ٹرمپ کی نئی افغان حکمت عملی میں علاقائی کھلاڑیوں کی اہمیت


پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل، پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو نئی افغان پالیسی پر اعتماد میں لے رہے ہیں۔ 23 اگست 2017

افغانستان اور پاکستان کے لئے، امریکہ کے سابق خصوصي نمائندے، ڈین فیلڈ مین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق حکم عملی کے اعلان کے بعد افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور انہیں مزید اختیارات تفويض کئے گئے ہیں، اور وہ وہاں کافی عرصے تک موجود رہیں گے۔

انجم ہیرلڈ گل

ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی ایشیا کے لئے، پرانی پالیسی ختم کر کے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے دو سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ أفغان مسئلے کے حل کے لئے امریکہ کی نئی حکمت عملی میں ایک ایسے علاقائی لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں پاکستان، أفغانستان اور بھارت کے علاوہ ایران، چین اور روس بھی شامل ہوں۔

نئی حکمت عملی میں اوباما دور کے متعارف کردہ افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی نمائندے کے دفتر کو ختم کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس دفتر کی افادیت تھی اور کیا وہ موثر رہا؟

ٹرمپ انتظامیہ نے أفغان مسئلے کے حل کے لئے، جنوبی ایشیا کی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ نئی حکمت عملی کی تشکیل کی ذمہ داری پنٹاگان کو تفويض کی گئی۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے ایک سماعت کے دوران کہا کہ نئی حکمت عملی کا مقصداس خطے کو محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے نئی حکمت عملی کے خد و خال بیان کرتے ہوئے فور آر پلس ایس نامی ایک نئی اصطلاح استعمال ۔ اس میں پہلے آر کے معنی ریجینالائیز کرنا تھے یعنی علاقائی بنانا۔

جم میٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ علاقائی بنانے کے معنی ہیں کہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ أفغانستان سے آگے بھی چیلنج موجود ہیں۔ اس حکمت عملی کے لئے جغرافیائی ڈھانچے کو اپنایا گیا ہے، جو جامع ہے اور جس میں سب کی شمولیت ہے۔ صرف أفغانستان پر توجہ مرکوز رکھنے کی بجائے، اس میں بھارت، پاکستان، ایران اور روس کو شامل کرنے پر غور کیا گیا ہے، اور پھر بعد میں اس حکمت عملی میں بیرونی تبدیلیاں بھی متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔

سابق امریکی معاون وزیر خارجہ کارل اِنڈر فرتھ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہمیں افغانستان کے لئے دوبارہ علاقائی پالیسی تشکیل دینا ہو گی۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کا علاقائی لائحہ عمل بظاہر افغانستان، پاکستان اور بھارت تک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اس علاقائی لائحہ عمل میں ایرانی کہاں ہیں، اس میں چینی کہاں ہیں، اور اس میں روسی کدھر ہیں اور سعودی کہاں ہیں؟ اور میں نے ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں دیکھا جس سے یہ ظاہر ہو کہ انتظامیہ کے پاس ایک ایسی جامع حکمت عملی موجود ہےجس سے ان تمام کھلاڑیوں کی مدد سے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکے جس کا ہمیں افغانستان میں سامنا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے لئے، امریکہ کے سابق خصوصي نمائندے، ڈین فیلڈ مین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق حکم عملی کے اعلان کے بعد افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور انہیں مزید اختیارات تفويض کئے گئے ہیں، اور وہ وہاں کافی عرصے تک موجود رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا موقف یہ ہے کہ اس میں اہم شراکت داروں کو شامل رکھنے کی ضرورت ہے، خصوصي طور پر پاکستان، بھارت چین، روس، ایران، خلیجی ریاستیں، اور دیگر نیٹو شراکت داروں کو، جو وہاں شریک رہے ہیں، مسلسل شامل رکھنا ہو گا۔

اس سوال پر کہ کیا اوباما دور میں افغانستان اور پاکستان کے لئے نمائندے کے دفتر کی افادیت کے متعلق کوئی داخلی بحث ہوئی تھی ِ ، ڈین فیلڈ مین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مسلسل بحث جاری رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسے ایک مستقل دفتر بنانے کا ارادہ کبھی نہ تھا۔ اس لئے یہ بحث ہمیشہ رہی کہ ا س خصوصي دفتر کو دفتر خارجہ کے وسطی اور جنوبی ایشیائی أمور سے متعلق بیورو میں ضم کر دیا جائے۔

ہمیشہ یہ بحث ہوتی ہے کہ کیا صرف افغانستان اور پاکستان کے لئے ایک خصوصي دفتر کا ہونا معقولیت ہے؟ اور ہمیشہ ہی یہ فیصلہ ہوتا کہ اس خطے میں امریکی مفادات کے پیشِ نظر، اور امریکی فوجیوں کی تعداد کے تناظر میں، اور سفارتی، امدادی اور دیگر عملے کے پیش نظر، اور جس مقدار میں امریکی وسائل افغانستان میں استعمال ہو رہے تھے، اور اس پالیسی کے لئے پاکستان کی اہمیت کے پیش نظر، یہ دفتر کو قائم رکھنا ضروری ہے۔

ہم نے ہمیشہ یہ سوچا کہ امریکہ کے اندر ایک اعلیٰ سطحی سفارت کار، ان معاملات پر مختلف شعبوں میں رابطہ کاری اور کام کا کوئی ذمہ دار ہو جو اتحادیوں اور شراکت داروں سے رابطہ رکھے اور جو وزیر خارجہ یا صدر کو رپورٹ کرے۔ اس لئے ہم نے ہمیشہ یہ سوچا کہ اس معاملہ کی اہمیت اور افادیت اور موثر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔

نئی انتظامیہ نے اچانک ہی خصوصي ایلچی کے دفتر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اُنہوں نے نمائندہ خصوصي کا منصب برقرار رکھا ہے، جس پر عارضی طور پر سفیر ایلس ویلز کو تعینات کیا گیا ہے، اور انہیں قائم مقام معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا کا منصب بھی دیا ہے۔

کارل انڈرفرتھ کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ کے دور میں اس پر بحث تو ہوئی، لیکن اس وقت فیصلہ ہوا کہ جب تک نئی انتظامیہ نہیں آتی تب تک اس پر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے اور اسے ٹرمپ انتظامیہ پر چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تو اس دفتر کی مہارتیں دفتر خارجہ کے جنوبی ایشیا بیورو میں منتقل ہو جاتی ہیں، تو اس کا ختم ہونا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے بیورو کو سمت دینے والا مستقل معاون وزیر خارجہ موجود نہیں۔ اس انتشار کی وجہ، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دفتر خارجہ میں موجود خالی اسامیاں بھرنے کے عمل میں سستی ہے۔

کارل انڈر فرتھ کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اور خاص کر سفیر ہول بروک کی وفات کے بعد، یہ واضح ہوتا گیا کہ اوباما انتظامیہ افغانستان سے نکلنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھی۔ چونکہ یہ ان کی اولین ترجیح تھی، اس لئے خصوصي نمائندے کے دفتر اہمیت کم ہوتی چلی گئی۔ اور اوباما انتظامیہ دور کے اختتام پر، یہ دفتر افادیت کے لحاظ سے ہولبروک کے عہد کے مقابلے میں محض ایک ڈھانچہ سا بن کر رہ گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG