رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی، روس اور ایران کا شام میں استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم


شام کی صورتِ حال پر غور کے لیے انقرہ میں ہونے والے تین ملکی سربراہی اجلاس میں شریک صدور

روس کے ولادیمیر پوٹن اور ایران کے صدر حسن روحانی اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوان کی دعوت پر منگل کو انقرہ پہنچے تھے۔ تینوں صدور نے بدھ کو انقرہ میں ملاقات کی جس میں شام کی صورتِ حال زیرِ غور آئی۔

ترکی، ایران اور روس نے خانہ جنگی کا شکار شام کی صورتِ حال میں استحکام لانے اور اس کی علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں بدھ کو تینوں ملکوں کے سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک شام میں قیامِ امن کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

روس کے ولادیمیر پوٹن اور ایران کے صدر حسن روحانی اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوان کی دعوت پر منگل کو انقرہ پہنچے تھے۔ تینوں صدور نے بدھ کو انقرہ میں ملاقات کی جس میں شام کی صورتِ حال زیرِ غور آئی۔

تینوں ملکوں کے صدور کے اس اجلاس کو سفارتی حلقے اور ذرائع ابلاغ خاصی اہمیت دے رہے ہیں کیوں کہ تینوں ملک شام کے بحران میں متحارب فریقوں کی نہ صرف حمایت کرتے آرہے ہیں بلکہ ان کی فوجیں بھی کسی نہ کسی طرح خانہ جنگی کا حصہ ہیں۔

روس اور ایران شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے دو اہم ترین غیر ملکی اتحادی ہیں جن کی عسکری مدد شام میں سات سال سے جاری خانہ جنگی کے باوجود اسد حکومت کے برسرِ اقتدار رہنے کا بنیادی سبب ہے۔

اس کے برعکس ترکی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والی باغیوں کی حمایت اور مدد کرتا آیا ہے جن کے خلاف کارروائیوں میں شامی فوج کو ایرانی ملیشیاؤں اور روسی کی فضائی مدد حاصل ہے۔

برسرِ زمین اختلافات اور متحارب فریقوں کے ساتھ اپنے اتحاد کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ یہ تینوں ملک شام کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے کس طرح اور کن امور پر ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔

تاہم ان تینوں ممالک کے اتفاقِ رائے کے نتیجے میں شام کے بعض جنگ زدہ علاقوں میں ماضی میں مختصر مدت کی جنگ بندی ہوتی رہی ہے جس کے دوران ان علاقوں میں پھنسے عام شہریوں کے انخلا اور انہیں امداد کی فراہمی کی کوششیں کی گئیں۔

ترکی کی میزبانی میں روس اور ایران کا سربراہی اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ شام میں موجود امریکی فوجیوں کو وطن واپس بلانا چاہتے ہیں۔

شام میں باغیوں کے زیرِ انتظام شمالی علاقوں میں لگ بھگ دو ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن کا مقصد ان علاقوں میں شدت پسند تنظیم داعش کے بچے کھچے جنگجووں کا قلع قمع کرنا ہے۔

تاہم منگل کو اپنے ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شام میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرچکا ہے اور اب وہاں تعینات امریکی فوجیوں کو واپس بلالینا چاہیے۔

امریکی صدر کے اس بیان اور ترکی، ایران اور روس کے مابین شام کے معاملے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے اعلان کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئے کھلاڑی اپنی حیثیت مستحکم کر رہے ہیں اور امریکہ کا اثر و رسوخ بتدریج سکڑ رہا ہے۔

بدھ کو انقرہ میں اجلا س کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ شام کی صورتِ حال اور وہاں ہونے والی تبدیلیوں سے واضح ہے کہ امریکہ صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

ایرانی صدر نے الزام لگایا کہ امریکہ خطے میں اپنے مفادات کی خاطر عدم استحکام کو فروغ دینا چاہتا تھا لیکن وہ اپنے اس مقصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔

امریکی فوج کو واپس بلانے کے صدر ٹرمپ کے بیان سےمتعلق سوال پر ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ شام سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG