رسائی کے لنکس

پشاور میں افغان قونصل خانے کی بندش سے ویزا کا حصول مشکل


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں افغانستان کا قونصل خانے کی بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ انہیں ویزا کے حصول کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں قونصل خانہ اس وقت بند ہوا تھا جب شہر کے اہم کاروباری علاقے کی ایک مارکیٹ سے پولیس اہلکاروں نے انتظامیہ اور عدالت کے حکم پر افغانستان کا قومی پرچم اتار کر پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا۔

افغانستان کے قونصل خانے کی بندش کے مبینہ ردِ عمل میں کابل میں پاکستان کے سفارت خانے نے چار نومبر کو جزوی طور پر ویزا سیکشن بند کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ مریضوں کو ویزا کے اجرا کا عمل جاری رہے گا۔

پشاور میں تجارتی مارکیٹ کی ملکیت کے حوالے سے افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ 21 کنال سے زائد اراضی قیام پاکستان سے قبل 1946 اور 1947 میں باقاعدہ قانونی کارروائی کے ذریعے افغان حکومت نے خریدی تھی۔ 1989 میں افغانستان میں جنگ کے دوران پاکستان کی ایک مقامی عدالت نے ایک دعویدار کو یہ جائیداد الاٹ کر دی تھی۔ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ اور پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی مقامی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

افغانستان میں 2001 کے آخر میں جب مرکزی نظام قائم ہوا تو افغان حکومت نے مختلف اوقات میں اس تجارتی مارکیٹ کے بارے میں تمام تر عدالتی فیصلوں کو مسترد کیا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

رواں سال کے آغاز سے جناح پارک پشاور کے قریب واقع اس تجارتی مارکیٹ کو واگزار کرنے کے لیے پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے پولیس کے مدد سے کارروائی شروع کی البتہ 10 اکتوبر کو افغانستان کے سفیر نے یہاں پر افغان قومی پرچم لہرایا تھا جسے چند گھنٹوں کے بعد ہی پولیس نے بٹا دیا۔ جس کے ردِ عمل میں اگلے روز سے پشاور کے افغان قونصل خانے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت، آمد و رفت اور تعلقات میں پشاور کے افغان قونصل خانے کا ایک اہم کردار ہے یہاں سے روزانہ کی بنیاد پر 500 سے 600 افراد کو افغانستان آنے جانے کے ویزے جاری کیے جاتے تھے جبکہ اس سہولت سے سیکڑوں کی تعداد میں تاجر، ٹرانسپورٹر اور دیگر کاروباری افراد مستفید ہو رہے تھے۔

اسی طرح قونصل خانے کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو بھی طویل مدت کے قیام کے یے ویزوں کا اجراء کیا جا رہا تھا جبکہ ان کے کاغذات کی تصدیق بھی یہاں سے ہوتی تھی۔

پشاور میں تعینات افغانستان کے قونصل جنرل محمد ہاشم خان نیازی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرکاری طور پر خیبر پختونخوا حکومت نے قونصل خانے کی بندش یا اسے کھولنے کے حوالے سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا۔

ان کے بقول مختلف سیاسی اور کاروباری شخصیات نے قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کے لیے رابطے کیے ہیں۔

ہاشم خان نیازی نے کہا کہ چند دن قبل وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد کے اعلیٰ حکام نے کابل کا دورہ کیا تھا جہاں پر دونوں ممالک نے تجارتی مارکیٹ کے تنازعے اور دیگر مسائل کے حل کے یے ایک مشترکہ کمیشن بنانے پر اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ کمیشن کا پہلا اجلاس رواں ماہ کابل میں ہوگا تاہم اس سلسلے میں ابھی تک حتمی تاریح کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ہاشم خان نیازی نے تصدیق کی کہ ویزوں کے اجرا کے یے پشاور کا قونصل خانہ مکمل طور پر بند ہے جبکہ دیگر دفتری امور یہاں سر انجام دیے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے حکام نے بھی تصدیق کی کہ پشاور میں افغان قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے کے لیے افغان حکام سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا تاہم اس سلسلے میں وفاقی وزارت خارجہ کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔

واضح رہے کہ پشاور کے قونصل خانے کی بندش کے بعد اب مقامی لوگوں بشمول کاروباری افراد کو افغانستان جانے کے لیے اسلام آباد میں افغان سفارت خانے سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔

قونصل خانے کی مسلسل بندش سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور آمد و رفت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG