رسائی کے لنکس

logo-print

سات دہائیوں تک ہالی وڈ پر راج کرنے والے کرسٹوفر پلمر چل بسے


کرسٹوفر پلمر (فائل فوٹو)

بیاسی برس کی عمر میں بہترین معاون اداکار کا 'اکیڈمی ایوارڈ' جیتنے والے کرسٹوفر پلمر سات دہائیوں تک فلمی پردے پر اپنا جادو دکھانے کے بعد رواں ماہ 6 فروری کو 91 سال کی عمر میں اپنے مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے۔ تاہم اس عظیم اداکار کی فلمز، ٹی وی شوز اور اسٹیج پرفارمنسز انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

ستر سالوں تک فلم، ٹی وی اور اسٹیج پر راج کرنے والے کرسٹوفر پلمر کو موجودہ نسل اُس کریکٹر کے طور پر جانتی ہے جس نے لاتعداد ہٹ فلموں میں اداکاری کی۔ لیکن کینیڈا سے تعلق رکھنے والے اداکار کی اپنی کہانی کسی فلم سے کم نہیں۔

کرسٹوفر پلمر نے نہ صرف فلموں میں اداکاری کی بلکہ اسٹیج اور ٹی وی کو بھی ساتھ رکھا۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر میں انہیں لوگ ایک منجھے ہوئے اداکار کی حیثیت سے پہچانتے تھے۔

سن 1929 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پیدا ہونے والے اس اداکار نے 25 سال کی عمر میں اپنے فنی کریئر کا آغاز امریکی شہر نیو یارک میں اسٹیج سے کیا۔ لیکن اس کے بعد نہ تو وقت نے انہیں پیچھے دیکھنے دیا، نہ ہی مصروفیت نے اور صرف چند سالوں میں اس فنکار نے اپنی محنت اور مختلف کرداروں سے ہالی ووڈ میں جگہ بنالی۔

کرسٹوفر پلمر نے 1958 میں ہدایت کار سڈنی لومٹ کی فلم 'اسٹیج اسٹرک' سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ چھ سال بعد 'دی فال آف دی رومن امپائر' سے انہیں شہرت ملی اور 1965 میں انہیں اپنے کریئر کا سب سے بڑا رول ملا۔

ہالی ووڈ کی میوزیکل فلم ’دی ساؤنڈ آف میوزک‘ میں ان کی جاندار اداکاری نے نہ صرف فلم کو دنیا بھر میں کامیاب بنایا بلکہ اس فلم نے اس سال آسکرز میں اداکار ڈیوڈ لین کی 'ڈاکٹر ذیواگو' کو بھی شکست دی۔

اس فلم میں کرسٹوفر پلمر نے ایک سابق فوجی کا کردار ادا کیا تھا۔ جو اپنی بیوی کی موت کے بعد اپنے بچوں کی دیکھ بھال، فوجیوں کی طرح کر رہا تھا۔ ایسے میں اداکارہ جولی اینڈریوز کی بحیثیت گورننس کہانی میں انٹری اور وان ٹراپ گھرانے کو موسیقی سے جوڑنے کی کوشش رنگ لاتی ہے اور آج ساٹھ سال بعد بھی فلم ویسی ہی مقبول ہے جیسے 1965 میں تھی۔

اس فلم کی کامیابی کے باوجود اکیڈمی ایوارڈز کرسٹوفر پلمر سے دور رہے۔

تاہم اس عظیم اداکار نے ہمت نہ ہاری اور اپنے کریئر کے آخری بارہ سالوں میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین مرتبہ بہترین معاون اداکار کی کیٹیگری میں نامزد ہو کر سب کو حیران کردیا۔

کرسٹوفر پلمر نے 1958 میں ہدایت کار سڈنی لومٹ کی فلم 'اسٹیج اسٹرک' سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ (فائل فوٹو)
کرسٹوفر پلمر نے 1958 میں ہدایت کار سڈنی لومٹ کی فلم 'اسٹیج اسٹرک' سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ (فائل فوٹو)

سن 2011 میں نہ صرف 82 سال کی عمر میں فلم 'بیگینرز' کے لئے کرسٹوفر نے آسکر جیتا۔ جس میں انہوں نے ایک ایسے باپ کا کردار ادا کیا تھا جو اپنے بیٹے کی زندگی میں ماں کے مرنے کے بعد انٹری مارتا ہے۔

اس کردار نے انہیں آج تک اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والا سب سے بڑی عمر کا اداکار بھی بنایا۔

انہیں 2009 میں 'دی لاسٹ اسٹیشن' میں روسی مصنف لیو ٹالسٹوئے اور 2018 میں 'آل دی منی ان دی ورلڈ ' میں امریکی بزنس مین جون پال گیٹی کا کردار بنھانے پر بھی بہترین معاون اداکار کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا تھا۔

صرف یہی نہیں، انہیں متعدد بار ٹونی ایوارڈز، ایمی ایوارڈز اور ایک بار گریمی ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ جس میں کئی بار انہوں نے ایوارڈز اپنے نام کیے۔

کرسٹوفر پلمر کا شمار ان اداکاروں میں بھی ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پرفارمنس کے ساتھ ساتھ ساتھی اداکاروں کی کارکردگی بھی نکھاری۔

انہوں نے اپنے کریئر کے دوران کئی ایسی فلموں میں کام کیا جو آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

'دی بیوٹی فل مائنڈ' میں انہوں نے ایک ایسے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا جو اپنے مریض (رسل کرو) کو دماغی بیماری سے صحت یابی کی طرف لاتا ہے۔ ‘

‘دی ریٹرن آف پنک پینتھر' میں انہوں نے پیٹر سیلرز کے مقابل شاندار اداکاری کی۔

'مرڈر بائی ڈکری' میں معروف سراغ رساں شرلوک ہومز بنے۔

ہالی ووڈ کی میوزیکل فلم ’دی ساؤنڈ آف میوزک‘ میں ان کی جاندار اداکاری نے نہ صرف فلم کو دنیا بھر میں کامیاب بنایا۔ (فائل فوٹو)
ہالی ووڈ کی میوزیکل فلم ’دی ساؤنڈ آف میوزک‘ میں ان کی جاندار اداکاری نے نہ صرف فلم کو دنیا بھر میں کامیاب بنایا۔ (فائل فوٹو)

'ڈریگنٹ' میں ڈین ایکروئڈ اور ٹام ہینکس کی موجودگی میں ایک بہروپیے کا کردار ادا کیا۔ جو ایک پادری بن کر سب کو بیوقوف بناتا ہے۔

'اسٹار ٹریک' کی چھٹی فلم میں انہوں نے جنرل چینگ کے کردار میں سب کو ڈرایا اور پھر ' دی انسائیڈر' میں ٹی وی ہوسٹ مائیکل والس کا کردار ادا کرتا ہے۔ جو وسل بلوور (رسل کرو) کا انٹرویو کرتا ہے۔

سنہ 2019 میں کرسٹوفر پلمر کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ جس میں سے ایک 'نائیوز آؤٹ' اور دوسری 'دی لاسٹ فل میژر' تھی۔

دونوں فلموں میں آنجہانی اداکار نے مرکزی کردار ادا کیا اور ایک ایسی نامور کاسٹ کو لے کر چلے۔ جس میں ہالی ووڈ کے بہترین اداکار شامل تھے۔

'نائیوز آؤٹ' میں جہاں ساری کہانی ان کی موت کے گرد گھومتی ہے، 'دی لاسٹ فل میژز' میں کرسٹوفر نے ایک ایسے باپ کا کردار ادا کیا۔ جس کے شہید بیٹے کو حکومتی سطح پر ‘میڈل آف آنر’ ملنا تھا۔ لیکن معاملہ تعطل کا شکار تھا۔

کرسٹوفر پلمر کی موت پر جہاں ان کے مداح انہیں یاد کر رہے ہیں وہیں ان کی 'دی ساؤنڈ آف میوزک' کی ساتھی اداکاری جولی اینڈریوز نے بھی انہیں سوشل میڈیا پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

فلم 'دی ان سائیڈر' اور 'دی بیوٹی فل مائنڈ' میں کرسٹوفر پلمر کے ساتھ اسکرین پر جلوہ گر ہونے اور دونوں فلموں میں اپنی اداکاری پر بہترین اداکار کے لیے نامزد ہونے والے ہالی ووڈ اداکار رسل کرو نے بھی کرسٹوفر پلمر کو ٹوئٹر پر اچھے الفاظ میں یاد کیا۔

فلم ‘اسٹار ٹریک ‘6، اور ‘دی ان ڈسکوورڈ کنٹری' میں کرسٹوفر پلمر کے ساتھ کام کرنے والے ولیم شیٹنر نے بھی ٹوئٹر پر ایک یادگار تصویر پوسٹ کرکے اپنے ساتھی کینیڈین اداکار کو یاد کیا۔

فلم 'نائیوز آؤٹ' میں کرسٹوفر پلمر کے ساتھ کام کرنے والے کرس ایونز نے ان کی موت کو ایک افسوسناک واقعہ قرار دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG